PTIحکومتی اتحاد ٹوٹنے کے خواب کیوں دیکھنے لگی؟

عمرانڈو قیادت نے اپنی پارٹی تحریک انصاف کے تتر بتر ہونے کے بعد حکومتی اتحاد کے ٹوٹنے کی خواہشات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر کمپین شروع کر دی ہے کہ حکومتی پی ڈی ایم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹنے والی ہے؟مبصرین کے مطابق تحریک انصاف قیادت حکومتی اتحاد میں اتفاق پر پریشان ہے اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی صورت اتحاد میں غلط فہمیاں پیدا کر کے اس اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا سکے کیونکہ عمرانڈو رہنماؤں کو اپنی جماعت پی ٹی آئی کی بقاء صرف اس صورت میں نظر آتی ہے جب مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی آپس میں دست و گریبان ہوں۔پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے مقابلے کے لیے بنائے گئے حکمران اتحاد میں اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں الیکشن مہم کے دوران ان اختلافات میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی لائن کو فالو کرنے والے مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ کوئی درجن بھر سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ حریف عمران خان کی پارٹی کو بڑی حد تک زیر کیا جا چکا ہے۔ اب سارے جھگڑے ”مال غنیمت‘‘ کی تقسیم پر ہو رہے ہیں۔

ایسےبی خیالات کا اظہار کرتے ہوئےتجزیہ کار سلمان عابد کہتے ہیں پی ڈی ایم میں بڑھنے والے اختلافات حکومتی اتحاد کے لیڈروں کے بیانات سے بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے، ”دونوں مستقبل میں اپنی اپنی حکومت بنانے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ دونوں اپنا وزیراعظم لانے کی متمنی ہیں۔ پیپلز پارٹی بلاول یا زرداری کو وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اپنی مقبولیت کے باعث اپنے آپ کو بڑی سیاسی پارٹی سمجھتے ہوئے وزارت عظمی پر اپنا حق جتاتی ہے۔‘‘

سلمان عابد کے بقول ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن جیتنے کے لیے نگران سیٹ اپ میں ان کے زیادہ سے زیادہ حامی شامل کروائے جائیں اور صوبائی سیٹ اپ میں الیکشن سے پہلے اپنی مرضی کی تقرریاں کروائی جائیں، ”پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اہم لیڈروں کے مقابلے میں ن لیگ کے امیدوار نہ کھڑے کرنے کی متمنی ہے اس کے جواب میں ن لیگ نے سندھ سے دس سیٹوں کا مطالبہ کر دیا ہے، جسے پیپلز پارٹی ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح پنجاب کی وزارت اعلی کے بارے میں بھی دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات ہیں۔‘‘

چند دن پہلے جب سابق صدر آصف زرداری نے لاہور میں ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔ ان کے قیام کے دوران لاہور کی سڑکوں پر دو مرتبہ پیپلز پارٹی کے پرچم لگائے گئے لیکن انتظامیہ کچھ ہی دیر بعد پرچم ہٹوا دیے۔ آصف زرداری پی ٹی آئی سے نکلنے والے الیکٹیبلز کو اپنی پارٹی میں لانے کے لیے کوششیں کر رہے تھے لیکن پر اسرار رابطوں کے بعد وہ استحکام پاکستان پارٹی کی طرف چلے گئے، جو آج کل ن لیگ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

یاد رہے نواز شریف کی سفارش سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ لگائے جانے والے نجم سیٹھی کو جس طرح پیپلز پارٹی نے عہدے سے ہٹوایا ہے اور بجٹ کے موقع پر سندھ کے سیلاب زدگان کے لیے جس طرح بلاول بھٹو نے دھمکا کر وفاقی حکومت سے فنڈز لیے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات پر بھی مسلم لیگ ن نے شدید ناگواری کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کار جاوید فارووقی کے بقول مسلم لیگ ن کو خوف ہے کہ عوامی مقبولیت رکھنے والے عمران خان کو آنے والے دنوں میں ”سپیس‘‘ ملنے کی صورت میں کہیں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد بنا کر الیکشن نہ جیت جائے جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی قربت کو شک اور تشویش کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔

دوسری جانب یہ تاثر بھی عام ہے کہ پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل چھوٹی جماعتیں بھی شدید پریشان ہیں۔ تجزیہ کار سلمان عابد نے بتایا کہ یہ تاثر بالکل درست ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل چھوٹی جماعتیں یہ سمجھ رہی ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور دو بڑی جماعتیں ہی بندر بانٹ کرکے بڑے فیصلے خود سے کر رہی ہیں، ”ایم کیو ایم سندھ حکومت سے خوش نہیں۔ اے این پی خیبر پختون خواہ میں جمعیت العلمائے اسلام (ف) کی حکومتی پالیسیوں پر نالاں ہیں۔ حال ہی میں جے یو آئی ف کے ایک وزیر نے اخبار میں اشتہار شائع کروا کر نام لیے بغیر اتحادی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔‘‘

تجزیہ کار خالد محمود رسول نے بتایا کہ پی ڈی ایم میں شامل کئی جماعتیں کسی اشارے پر مجبوری کے تحت اکٹھی ہوئی تھیں۔ یہ ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ لڑتی رہی ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ بینک ان کے متفرق نظریات کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ”وہ کیسے ایک دوسرے کی الیکشن مہم میں حمایت کر سکیں گی۔‘‘ ان کے خیال میں الیکشن کے دوران ان اختلافات میں شدت آ سکتی ہے، ”ان کا دشمن ایک تھا وہ خوف کی وجہ سے اپنی بقا کے لیے اکٹھے ہو گئے تھے اب ان کے پاس اکٹھا رہنے کا کوئی ٹھوس جواز بھی نہیں ہے۔ ‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل فیصلوں کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے، ”اس بار بھی الیکشن نامی پراسس کے ذریعے اسی طرح لوگ برسراقتدار آئیں گے، جس طرح ماضی میں آ تے رہے ہیں۔ لیکن عمران خان کو زبردستی الیکشن سے باہر رکھنے پر الیکشن کی ساکھ پر سوال اٹھیں گے۔‘‘

Back to top button