PTIکو شکست: کیا اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ اٹھا لیا؟

حالیہ کنٹونمنٹ الیکشن میں گیریژن ٹاؤن کہلانے والے راولپنڈی سے حکومتی جماعت تحریک انصاف کی شکست کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اب فوج عمران خان کی پشت پناہی سے پیچھے ہٹ رہی ہے یا اب فوجی علاقوں کے ووٹر بھی کپتان سے مایوس ہوچکے ہیں؟
یاد رہے کہ کنٹونمنٹ میں فوج کی مستقل چھاؤنیاں ہوتی ہیں جن کا نظام وزارتِ دفاع کے تحت قائم کنٹونمنٹ بورڈ چلاتے ہیں۔ موجودہ دور میں کئی فوجی چھاؤنیوں کی ہیئت تبدیل ہوئی اور ان کے علاقوں میں گیریژن کے علاوہ سویلین آبادی اور نجی کاروبار وغیرہ بھی قائم ہوئے ہیں۔ سویلین آبادی کے اعتبار سے کینٹونمنٹ کو تین انتظامی کلاسوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ملک بھر کی تقریباً 39 چھاؤنیوں میں کُل 206 نشستوں پر حال ہی میں انتخابات منعقد ہوئے جبکہ باقی تین چھاؤنیوں کی 13 نشستوں پر یا تو امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے تھے یا انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔
یہ انتخابات بھی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر ہوتے ہیں اور الیکشن کمیشن ان کا انعقاد کروانے کا ذمہ دار ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ صارفین خاص طور پر تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن کی الیکشن کارکردگی کا موازنہ کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی نے مجموعی طور انتخابات میں برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم وہ صوبہ پنجاب سے کامیاب نہیں ہو پائی جہاں ن لیگ نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔
خیال رہے کہ زیادہ تر کنٹونمنٹ بورڈ صوبہ پنجاب میں تھے اس لیے ان انتخابات میں زیادہ نشستیں بھی پنجاب ہی کی تھیں۔ ن لیگ کی جیتی نشستوں میں لاہور کنٹونمنٹ نمایاں نظر آ رہا ہے تاہم تحریکِ انصاف راولپنڈی کینٹونمنٹ، چکلالہ کینٹونمنٹ اور واہ کینٹونمنٹ میں بھی ہارتی نظر آئی۔ سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا پر صارفین کے لیے یہ ایک حیران کن بات ہے۔ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ حکمراں جماعت کو عمومی طور پر کنٹونمنٹ کے علاقوں میں اچھی خاصی حمایت حاصل ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ الزامات بھی عائد کرتی رہی ہیں کہ گذشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی فوج کی حمایت سے کامیاب ہوئی۔ تاہم پاکستانی فوج کے تعلقاتِ عامہ کے ادارے نے ہر مرتبہ اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج سیاست میں دخل اندازی نہیں کرتی۔
سوشل میڈیا پر کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن پر تبصروں کے دوران پاکستانی سیاست کا یہ پہلو بھی صارفین کی دلچسپی کا مرکز رہا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف منیب باسط نے لکھا کہ ’راولپنڈی کنٹونمنٹ سے ہار کر پی ٹی آئی نے ثابت کیا ہے کہ آرمی اب اس کی پشت پر نہیں ہے۔‘ راولپنڈی، چکلالہ، واہ اور ٹیکسلا کنٹونمنٹ بورڈز کے نتائج کو لے کر ٹوئٹر پر صارفین نے حیرت اور پی ٹی آئی کے حامی صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ شایان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’راولپنڈی، چکلالہ، واہ اور ٹیکسلا کنٹونمنٹ میں ہماری برتری نہیں ہے۔ یہ خوفناک ہے۔‘ احمد شاہ خان نامی ایک صارف نے وزیرِاعظم عمران خان کو ٹیگ کر کے لکھا کہ آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ چکلالہ اور راولپنڈی کنٹونمنٹ میں کمزور انتخابی مہم، خوفناک ٹکٹنگ اور ہر وارڈ میں دو سے تین امیدوار، ن لیگ 14، جماعتِ اسلامی دو، آزاد امیدوار دو اور پی ٹی آئی ایک نشست۔’
ایک اور صارف واصف نے گزشہ انتخابات سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ 2015 کے انتخابات میں واہ کینٹ اور ٹیکسلا سے پی ٹی آئی نے 10 میں سے چھ نشتیں جیتی تھیں۔ بعض صارفین کے مطابق ن لیگ نے ان انتخابات میں ’کچھ حلقوں کو حیران‘ کر کے رکھ دیا ہے جبکہ کچھ کے خیال میں ن لیگ خود بھی حیران ہوئی ہے۔
خاتون صحافی نوشین یوسف نے ایسے ہی ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ‘ن لیگ نے خود کو شاک کیا ہے۔’ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان الیکشن کے نتائج حیران کن تھے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج زیادہ تر گذشتہ عام انتخابات کے نتائج کی عکاسی دکھائی دیے لیکن راولپنڈی کی چھاؤنیوں سے پی ٹی آئی کی شکست پر انھیں بھی حیرت ہوئی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ‘پی ٹی آئی کے لیے ان علاقوں سے ہارنے کی وجوہات پر غور کرنا ہو گا کیونکہ حکمراں جماعت ہوتے ہوئے توقع یہ تھی کہ وہ ان علاقوں سے جیتے گی۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ ان علاقوں میں اس کی حمایت کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ ان کی کارکردگی ہے یا کچھ اور۔’ان کے خیال میں صوبہ پنجاب میں ن لیگ ہمیشہ سے مضبوط رہی اور ایک پرانی جماعت ہونے کے ناتے ان کی تنظیم سازی بہت بہتر ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کینٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘گذشتہ تین برس سے پنجاب میں حکمراں جماعت ہوتے ہوئے پی ٹی آئی زیادہ تبدیلی نہیں لا پائی ہے۔’
سوشل میڈیا پر حکمراں جماعت کے کارکنان اور حمایت میں بولنے والوں کے علاوہ کئی دیگر صارفین کے لیے پی ٹی آئی کی ان انتخابات میں کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کی شہرت میں کمی ہوئی ہے۔
ایک صارف سہیل خان سومرو نے لکھا کہ ‘آپ پشاور میں گذشتہ آٹھ سال اور وفاق و پنجاب میں گذشتہ تین سال سے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ حکومتِ وقت ہو کر 211 میں سے 63 نہیں جیتے بلکہ 211 میں سے 148 سیٹیں ہارے ہیں۔’
صحافی دردانہ نجم نے بھی ایک موازنہ پیش کیا۔ ان کے مطابق ‘ن لیگ پنجاب میں 51 نشستیں جیتی جبکہ پی ٹی آئی کے حصے میں صرف 28 آئیں۔ بہت بڑا فرق ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں جیتنا مشکل نہیں تھا، اسی طرح بلوچستان میں بھی۔ سندھ 14 نشستوں کے ساتھ تقسیم رہا۔’ انھوں نے پی ٹی آئی حکومت کو مخاطب کر کے لکھا کہ ‘یہ بالکل بھی حوصلہ افزا نہیں تھا’۔صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ ‘ن میں سے ش نکالتے نکالتے، کینٹ میں سے ن نکل آئی۔’
