اطہرمن اللہ کا توہین عدالت میں عمران کو ریلیف دینے کا ارادہ

ایک خاتون جج کو کھلی دھمکیاں دینے والے عمران خان کو توہین عدالت کے کیس میں دوبارہ جواب جمع کروانے کی سہولت دینے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اب واضح اشارہ دے دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم کو توہین عدالت پر سزا دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 2 ستمبر کو ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگر کوئی غلط بھی کہہ رہا ہے تو غلط بھی کہنے دیں۔ یہ عدالت توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتی۔
صحافیوں سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے کچھ باتیں قابل احترام تین ایسے صحافی بتا رہے ہیں، جو خود مجھے بھی نہیں پتا۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے بھی تو سامنے آکر مجھے بتا دیں۔ ویسے بھی لوگوں کو جو کہنا ہے وہ کہتے رہیں، تین سال سے تنقید ہی اس عدالت کی طاقت ہے لیکن کوئی بھی شخص مجھ پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ دراصل اطہر من اللہ سوشل میڈیا پہ خود پر ہونے والی تنقید کا ذکر کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ عمران کے لیے توہین عدالت کیس میں سافٹ کارنر دکھانے کے بعد سے اطہر من اللہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور ان پر ہر طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس عمران خان سے اپنی پرانی دوستی نبھاتے ہوئے ان کے لئے سہولت کاری کر رہے ہیں اور انہیں سزا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
اسی بارے میں گفتگو کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس چیز کا مجھے علم نہیں ہے، اگر کسی اور کو علم ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے، وہ مجھے بھی بتا دیں۔ لیکن یہ عدالت کسی الزام سے گھبرانے والی نہیں ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے تو ٹھیک ہے، ہم نے بھی سب کو بولنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ اس عدالت نے نہ کسی کو اپروچ کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی کسی سے رابطہ رکھا ہے۔شاید چیف جسٹس حال ہی میں سینئر صحافی اعزاز سید کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کا جواب دے رہے تھے کہ اطہر من اللہ نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ وزیر اعظم عمران خان سے مسلسل رابطہ رکھا تھا اور فون پر ان کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہر کوئی کمپین چلاتا ہے لیکن اس کورٹ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ انکا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ سچ خود بخود کھل کر سامنے آجاتا ہے۔صحافی اپنے آپ سے پوچھیں کہ جو وہ کر رہے ہیں کیا وہ درست کر رہے ہے؟ کورٹ ہمیشہ اپنے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے۔ جو کرنا ہے کر لیں، عدالت نے وہی کرنا ہے جو کرتی آرہی ہے، لیکن اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم اس ریاست کو کس طرف لے کر جارہے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ باقیوں کو چھوڑیں، کیا صحافیوں کو یہ کام کرنا چاہیے؟ 2018 سے اب تک جو کچھ ہوتا آ رہا ہے وہ دیکھ لیں۔ یہ کورٹ آپ کو کبھی نہیں روکے گی۔ جو کہنا ہے کہتے رہیں۔ یہ عدالت توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر کوئی غلط بھی کہہ رہا ہے تو غلط بھی کہنے دیں۔ فیک نیوز کا واحد حل یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ بولنے کی آزادی دی جائے۔
5 ڈوبتے دوستوں میں سے زندہ بچ جانے والے کی کہانی
یاد رہے کہ توہین عدالت کیس میں عمران خان کے ساتھ نرمی برتنے کے بعد سے اطہر من اللہ کے ناقدین انکے کئی حالیہ فیصلے گنوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کو ہر کیس میں ریلیف فراہم کی جارہی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اطہر من اللہ نے پیمرا اور حکومت کا مؤقف سنے بغیر ہی عمران خان کی لائیو تقریر پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ۔ اسکے بعد اطہر من اللہ نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کو ایک بڑے سیاسی قد کاٹھ کا لیڈر قرار دینے کے بعد دوبارہ جواب جمع کرانے کے لیے 7 دن کا وقت دے دیا حالانکہ انکے وکیل نے دوبارہ جمع کروانے کے لیے استدعا نہیں کی تھی۔ اسکے بعد اطہر من اللہ نے اے آر وائے نیوز کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ پھر انہوں نے عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا۔ اسکے بعد اطہر من اللہ نے عمران کے خلاف دہشت گردی کے کیس کو ختم کرنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی۔ اب انہوں نے عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی ضمانت کی درخواست بھی سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔
