عمران نے بشریٰ بی بی کیلئے ISI چیف کو کیوں فارغ کیا؟

معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی جانب سے ملک ریاض حسین کی بیٹی سے ہیروں کا ایک قیمتی ہار وصول کرنے کے سوال پر اب بھی ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں انہوں نے ایسے ہی ایک معاملے پر بطور وزیر اعظم ایک انٹیلی جنس چیف کو عہدے سے ہٹا دیا تھا جو بحثیت عہدہ ہر وزیراعظم کی آنکھیں اور کان سمجھے جاتے ہیں۔ عمر چیمہ بتاتے ہیں کہ یکم ستمبر کو جب عمران خان انسداد دہشتگردی کی عدالت میں خاتون جج کو دھمکیاں دینے کے کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے لئے پہنچے تو جیو ٹی وی کے رپورٹر اعزاز سید باہر ان کے منتظر بیٹھے تھے۔

پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ٹائیکون ملک ریاض حسین کا حوالہ دیتے ہوئے اعزاز نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ اس نے آپ کی اہلیہ کو ہیروں کا ایک ہار تحفے میں دیا تھا۔ اعزاز نے دراصل یہ سوال دوسری مرتبہ کیا تھا، پہلی مرتبہ یہ سوال انہوں نے عمران خان کی عدالت میں گزشتہ پیشی کے موقع پر کیا تھا۔ اس موقع پر واضح طور پر محسوس ہوا کہ عمران خان اس سوال کیلئے تیار نہیں تھے لہٰذا جب اعزاز نے بار بار سوال کیا تو عمران نے کھسیانے ہو کر یہ جواب دیا کہ، ’’ہیرے سستی چیز ہیں، کسی مہنگی چیز کی بات کرو۔‘‘ یوں عمران نے نہ تو اس الزام کی صحت سے انکار کیا اور نہ ہی اس کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری سمیت ملک کے تمام بڑے سیاستدانوں اور فوجی قیادت سے اچھے تعلقات رکھنے والے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کی بیٹی کی ایک لیکڈ آڈیو گفتگو سامنے آئی تھی۔ اس ٹیپ میں ملک ریاض حسین کی بیٹی امبر اپنے والد کو بتارہی ہیں کہ فرح خان کا فون آیا تھا، اس نے بتایا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی نے ہیرے کی 3 کیرٹ کی انگوٹھی وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ آڈیو میں امبر نے اپنے والد سے کہا کہ ’فرح کہتی ہے، جو چیز دی گئی ہے، وہ مجھے اچھی نہیں لگی، یہ تو اُن کے لیے عام چیز ہے، اور بہت سستی یے لہٰذا اسے واپس منگوا لیں۔ اس پر ملک ریاض اپنی صاحبزادی سے کہتے ہیں ’وہ جو کہتی ہیں انہیں وہ لے دو‘، اس پر امبر نے کہا ’پھر میں اسے 5 کیرٹ کی انگوٹھی لے دیتی ہوں، ابو وہ ایک کروڑ روپوں کی آئے گی۔ آڈیو میں امبر بشریٰ بی بی کی دوست فرح کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’اس نے کہا ہے کہ ہفتے کو اس کی بشریٰ سے ملاقات ہے، لہٰذا انگوٹھی اس سے پہلے ارینج کرلیں۔

عمران کی اداروں کیخلاف تقریر ، درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

اس پر ملک ریاض اپنی بیٹی سے کہتے ہیں ’تم انگوٹھی منگوالو‘، اس پر امبر کہتی ہیں ’میں کہہ دیتی ہوں، کل وہ آجائے گی۔ اسی آڈیو ٹیپ میں امبر اپنے والد ملک ریاض کو بتاتی ہیں کہ صبح آپکی بند سائٹ کے تالے کھل جائیں گے۔ اس کے بعد امبر بتاتی ہیں کہ فرح نے کہا ہے کہ خان صاحب کا فون آیا تھا، انہوں نے کہا ہے کہ کام ہو جانے کی گارنٹی میری ہے، اور شہزاد اکبر کا لیٹر بھی آپ کو کل مل جائے گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ملک ریاض نے دراصل یہ انگوٹھی بطور رشوت بشریٰ بی بی کو دی تھی جس کا بنیادی مقصد پشاور میں بحریہ ٹاؤن کے بند دفاتر کھلوانا تھا۔

لیکن معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کہتے ہیں کہ اس معاملے کے پیچھے جو کہانی ہے وہ تین سال پرانی ہے جب عمران خان کو خاتون اول بشریٰ بی بی اور ان کی سہیلی فرح خان کے معاملات کے حوالے سے بتایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے جون 2019 میں وزیراعظم عمران خان کو ایک دستاویز پیش کی جو بشریٰ بی بی اور فرح خان کے متعلق تھی۔ وزیراعظم کو دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا گیا کہ ایک بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون یعنی ملک ریاض کی جانب سے خاتون اول کو ایک بیش قیمت تحفہ دیا گیا ہے جسے کہ رشوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
انٹیلی جینس چیف کی جانب سے فراہم کردہ دیگر معلومات میں فرح خان کی ملک ریاض اور دیگر بااثر افراد کے ساتھ ہونے والے لین دین دین کی تفصیلات بھی شامل تھیں، خفیہ ادارے کے سربراہ کا موقف تھا کہ کیونکہ فرح خان خاتون اول کے کافی قریب سمجھی جاتی ہیں اس لیے ان کی سرگرمیاں وزیر اعظم کے نام پر دھبہ بھی بن سکتی ہیں لہٰذا اس حوالے سے احتیاط برتی جانی چاہئے اور وزیراعظم کو اس حوالے سے معاملات کا علم بھی ہونا چاہئے لیکن عمران خان اس بات پر بھڑک اُٹھے اور آئی ایس آئی سربراہ کی جانب سے بتائی گئی باتوں کو اپنے خاندانی معاملات میں دخل اندازی سمجھا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب عمران نے آئی ایس آئی سربراہ کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا حالانکہ انہیں اس عہدے پر تعینات ہوئے ابھی صرف 9 ماہ ہی ہوئے تھے، آئی ایس آئی سربراہ سے ملاقات کے فوری بعد عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا اور انھیں فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف بنانے پر آمادہ کر لیا، یوں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو وقت سے پہلے ہی آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر گوجرانوالہ مقرر کر دیا گیا، آج کل وہ کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں اور پاکستان آرمی کے سینئر ترین جرنیل ہیں جنہیں اگلا آرمی چیف بھی بنایا جا سکتا ہے۔

Back to top button