حامد خان اور فواد ایک دوسرے کو ننگا کرنے میں مصروف

سابق وزیر اعظم عمران خان کے دو وکیل ساتھیوں فواد چوہدری اورحامد خان کے مابین لفظی جنگ تیز ہوگئی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں مصروف ہیں۔ دونوں کے مابین تازہ جنگ کا آغاز تب ہوا جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بتایا کہ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ معافی عمران خان کو نہیں بلکہ عدالت کو مانگنی چاہیے۔ اس پر حامد خان نے فواد چوہدری سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص سے اچھائی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اب فواد چوہدری نے حامد خان پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے شخص کی باتیں انکے لئے اس لیے اہمیت نہیں رکھتیں کہ وہ ایک کرپٹ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کے پارٹنر ہیں جس کی کرپشن کے قصے زبان زد عام رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان افتخار چوہدری کے سخت مخالف رہے ہیں اور انہوں نے کرپشن الزامات میں ان کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک کیس بھی دائر کیا تھا لیکن اس جنگ میں حامد خان نے افتخار چوہدری کا ساتھ دیا تھا۔ فواد چوہدری نے حامد خان کو افتخار چوہدری کا ساتھی اور ارسلان افتخار کا پارٹنر قرار دینے کی جو بات کی ہے اس کی بیک گرائونڈ یہ ہے کہ افتخار محمد چوہدری پر کرپشن کے جو الزامات لگے تھے انکی وجہ ارسلان افتخار کی ملک ریاض سے عیاشی کے لیے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی وصولی تھی جس کے عوض افتخار چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کو ریلیف فراہم کرنا تھی۔

یاد رہے کہ فواد چوہدری اور عمران خان کی لڑائی پرانی ہے۔ سوشل میڈیا پر اب بھی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں حامد خان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ فواد نے اپنے چچا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس افتخار چودھری کے دور میں کرپشن کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے تھے۔ حامد خان تحریک انصاف کے سینئر اور پرانے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں لیکن ابتدا سے ہی ان کے بعض عہدیداروں سے اعلانیہ اختلافات رہے ہیں خاص طور پر پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین اور سابق سینئر وزیر عبدالعلیم خان سے متعلق کئی بار انہوں نے اپنے تحفظات کا برملا اظہار کیا تھا۔ لیکن اب یہ دونوں اشخاص تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہے اور شاید اسی لئے حامد خان پارٹی میں واپس آگئے ہیں۔

میگھن مارکل شاہی خاندان کو معاف کرنے کو کیوں تیار نہیں؟

حامد خان کو تحریک انصاف کا پہلا آئین لکھنے والی ٹیم کا رکن قرار دیا جاتا ہے تاہم حال ہی میں ٹی وی شو کے دوران پارٹی پر اسٹیبلمشنٹ کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام لگانے پر وہ پارٹی قیادت کے عتاب کو دعوت دے بیٹھے۔ ماضی میں حامد خان نے پارٹی میں دیگر جماعتوں کے ارکان کی شمولیت پر پارٹی قیادت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے پارٹی کے بنیادی نظریے کو نقصان پہنچے گا۔

Back to top button