جسٹس ثاقب نثار نے طلال چوہدری کو کیسے بلیک میل کیا؟

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پرسنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت سے قبل سابق چیف جسٹس نے مجھے بالواسطہ پیغام بھیجا کہ اگر میں مریم نواز اور نواز شریف کو چارج شیٹ کردوں تو مجھے نااہل نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ثاقب نثار نے طلال چوہدری کو توہین عدالت پر نااہل قرار دے دیا تھا حالانکہ انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگ لی تھی۔
توہین عدالت کیس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چوہدری نے انتہائی حیران کن انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے مجھے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے کا کہا تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران طلال چودھری نے کہا کہ میرے کیس میں ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیا تھا، انہوں نے اپنی مرضی کا بینچ بنایا، اس کے بعد میری اپیل خود اپنے پاس لگائی، اور اس بینچ کے سربراہ بھی بن گئے، طلال چوہدری نے کہا کہ تلخ سچ یہ ہے کہ ثاقب نثار نے مجھے بالواسطہ کہا کہ میں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دوں کیونکہ جس وقت میں نے عدلیہ کے کردار کے حوالے سے تقریر کی تب نواز شریف اور مریم سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ طلال نے کہا کہ میرے کیس کی سماعت سے ایک دن قبل ثاقب نثار نے پاکستان کی ایک بہت بڑی شخصیت کے ذریعے مجھے پیغام دیا کہ طلال کو بتا دینا کہ معافی تو بہت دور کی بات ہے، میں اس کی سزا بڑھا کراس میں اور بھی اضافہ کر دوں گا۔ طلال نے کہا کہ اگلے دن ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس میرے ساتھ کمرہ عدالت میں جو سلوک کیا وہ رپورٹرز سے پوچھ لیں۔ طلال نے بتایا کہ ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں آتے ہی مجھ پر چڑھائی شروع کر دی، پھر انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کہا کہ اس شخص کی سزا بڑھانے کا کیا طریقہ ہے، جب انہیں جواب میں بتایا گیا کہ طلال نے تو سزا معافی کی اپیل کی ہے، تو چیف جسٹس نے کہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں اسکے خلاف دوبارہ سو موٹو لوں اور اسے جیل بھیجوں۔
میگھن مارکل شاہی خاندان کو معاف کرنے کو کیوں تیار نہیں؟
لیگی رہنما نے کہا کہ ہم تب بھی اپنی صفائیاں دیتے رہے، میں آج پھر کہتا ہوں اللہ کی عدالت بھی ایک دن لگے گی، میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میری نیت توہین عدالت کی نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ میں ثاقب نثار پر الزام نہیں لگا رہا بلکہ افسوس کے ساتھ یہ حقائق بیان کر رہا ہوں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ میری اپیل لگنے سے ایک رات پہلے ثاقب نثار نے مجھے جو پیغام بھجوایا اور اگلے دن عدالت میں جو کچھ کہا وہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ عدالتی کارروائی کا ریکارڈچیک کر سکتا ہے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں نواز شریف اور مریم نواز کو بھی نوٹس کروں، اس کے بعد میں خود چیف جسٹس کے سامنے بڑے مودبانہ انداز کے سامنے پیش ہوا اور کہا کہ سر آپ کسی کو نوٹس نہ کریں، میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہا ہوں، میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، میں ایک لا ء گریجوایٹ ہوں، اور عوام کا منتخب نمائندہ ہوں لہذا اگر مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو درگزر کر دیں۔ تاہم انہوں نے اپنا غصہ نکالا اور میرا سیاسی کیریئر خراب کر دیا۔ طلال چودھری نے کہا کہ یہ حقائق بڑے تلخ ہیں، عدلیہ کو اگر اپنی دی گئی سزاؤں کو ریوو کرنا پڑے تو اسے ان تمام سزاؤں کو ریویو کرنا پڑے گا جو ثاقب نثار کے دور میں دی گئیں، وہ تاریخ میں عدلیہ کے نام پر ایک دھبہ ہے، میں نے ثاقب نثار کے حوالے سے جو بھی باتیں کیں اگر ان پر کوئی کمیشن بنتا ہے تو میں تمام حقائق سامنے رکھنے کو تیار ہوں، ثاقب نثار کے دور میں جو جو کچھ ہوا اس سب کے حوالے سے کمیشن بننا چاہئے اور سچ سامنے آنا چاہئے۔ طلال چودھری نے کہا کہ میری سزا کو سوا چار سال ہو چکے ہیں، مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے، میں پاکستان کے عوام، میڈیا، تمام اداروں اور اللہ تعالیٰ کو بھی کو جوابدہ ہوں، میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میں نے توہین عدالت نہیں کی تھی۔ ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ عمران توہین عدالت کے عادی مجرم ہیں، مجھے بھی دوبارہ جواب دینے کا موقع دیا جاتا تو شاید مجھے بھی ریلیف مل جاتا، طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی طرح مجھے اور دانیال عزیز کو توہین عدالت پر نااہل کیے جانے سے پہلے کوئی وارننگ نہیں دی گئی، فرد جرم عائد کی گئی تھی، ہم اپنی صفائیاں دیتے رہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم عدالت پر دباؤ نہیں ڈال رہے بلکہ حقائق بیان کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ سوتیلوں والا سلوک ختم ہونا چاہئے۔
یاد رہے کہ جسٹس ثاقب نثار کو پاکستانی عدالتی تاریخ کا مکروہ ترین چیف جسٹس قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر کوئلوں کی دلالی کی اور جی بھر کر اپنا اور عدلیہ کا منہ کالا کیا۔ بابا رحمتے کہلانے والے ثاقب نثار نے اپنے دور میں لوگوں کو انصاف دینے کے علاوہ ہر کام کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے دور اقتدار میں پر تعیش مراعات کے مزے لوٹے بلکہ بطور چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ گھر جانے کے بعد بھی یہ سب مزے لوٹتے رہیں۔ چنانچہ انہوں نے ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ پہلے اپنے لئے عمران خان کی حکومت سے خصوصی مراعات کا ایک بڑا پیکیج منظور کروایا جس کا فائدہ اب وہ بطور ریٹائرڈ چیف جسٹس اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی عدالتی تاریخ میں اس سے پہلے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی چیف جج کو اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری مراعات ملنے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی فل کورٹ سے اپنے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ہوشربا اضافی سہولتوں اور مراعات کی منظوری حاصل کی تھی جنکی بعد میں حکومت نے بھی منظوری دیدی حالانکہ وزارت قانون اور خزانہ نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔
خصوصی مراعات کے اس پیکیج کے تحت چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی تنخواہ کا 85 فیصد حصہ ہر مہینے بطور پنشن وصول کر رہے ہیں جو کہ 10 لاکھ روپے بنتا ہے۔ اس خصوصی پیکیج کے تحت ثاقب نثار نہ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد 10 لاکھ روپے ماہانہ پنشن حاصل کر رہے ہیں بلکہ انہیں فری بجلی، ٹیلی فون، گیس اور پانی کی سہولیات بھی حاصل ہیں جن کا بل حکومت پاکستان ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر ایک پرائیویٹ سیکرٹری، ایک اردلی، ایک ڈرائیور اور دو سکیورٹی گارڈز بھی مہیا کیے گئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی ثاقب نثار کے دور میں آیا تھا جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ لہذا ثاقب نثار واحد چیف جسٹس ہیں جنہیں انکے عدالتی فیصلوں سے زیادہ انکی ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں اور سیاسی فیصلوں کی وجہ سے برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہے گا۔
