قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے بعد حکومت پر PTI  کا چیک ختم

 

 

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے بعد اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے استعفوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں سے پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد نہ صرف فیصلہ سازی میں پارٹی کی اہمیت ختم ہو گئی ہے بلکہ حکومت پر اپوزیشن کا کوئی چیک بھی باقی نہیں رہا۔ اس سے پہلے پارٹی اپنے بانی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سٹریٹ پاور بھی کھو چکی ہے۔ چنانچہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور دیگر رہنماؤں کو مستقبل کی فکر لاحق ہو چکی ہے۔

 

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 51 اراکین قومی اسمبلی کے بعد 17 سینیٹرز نے بھی پارلیمان کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے 26 اراکین قومی اسمبلی اپنے کپتان کی ہدایت کے بر عکس مختلف کمیٹیوں سے استعفے دینے سے انکاری ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان وقاص اکرم کے بقول جو استعفے رہ گئے وہ بھی جلد جمع کروا دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے اس لیے دیے جا رہے ہیں کہ پارٹی اراکین کمیٹیوں کے چیئرمین بن کر مراعات کے مزے لے رہیں جب کہ پارٹی سربراہ جیل میں سڑ رہے ہیں۔ افسوس کہ خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا کسی کو خیال نہیں آ رہا۔

 

یاد رہے کہ استعفے عمران خان کی ہدایت پر جمع کروائے گئے ہیں۔ اس سے قبل نواز شریف دور میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے کپتان کے حکم پر پارلیمنٹ سے ہی استعفے دے دیے تھے لیکن بعد میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے یہ استعفے واپس کر دیے تھے۔ پی ٹی آئی نے اس بار بھی سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعفوں کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کے بقول اس مرتبہ اسے کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پہلے صورت حال مختلف تھی۔ ان کا کہنا یے کہ پی ٹی آئی کو اس جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے لہذا اب اس کے استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

یاد رہے کہ پارلیمانی امور چلانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو خصوصی اختیار حاصل ہوتا ہے۔

مختلف محکموں اور شعبوں کے لیے بنائی جانے والی کمیٹیاں متعلقہ حکام کی کارکردگی جانچنے کا اختیار رکھتی ہیں جن کی سفارشات پر متعلقہ اداروں کے سربراہان کو عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ ان قائمہ کمیٹیوں کے سربراہان کو خصوصی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں سب سے اہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہوتی ہے جس کا کام حکومتی فنڈز کے استعمال اور احتساب کے عمل کو پرکھنا ہوتا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ اپوزیشن کا رکن بنایا جاتا ہے۔ موجودہ اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر اس کمیٹی کے چیئرمین تھے جنہوں نے استعفی جمع کروا دیا ہے۔ لہذا اب حکومت پر کسی قسم کا کوئی چیک باقی نہیں رہا۔

 

اس بارے شیخ وقاص اکرم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفے دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ویسے بھی حکومت پارلیمانی کیمیٹوں کے مشوروں اور فیصلوں کے برعکس اپنی مرضی سے ہی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور ان کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں اسمبلی فلور پر بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ادھر قائمہ کمیٹیوں کو سپیکر خود ہدایات دے رہے ہیں۔ ایوانوں کا تقدس پامال کر دیا گیا ہے حتیٰ کے کسی بھی رکن کو پولیس ناجائز گرفتار کر لے تو اس کے پروٹیکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہوتے۔ بقول وقاص اکرم ہم نے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیوں سے استعفوں کا آغاز کیا ہے۔ اگر صورت حال تبدیل نہ ہوئی تو ہم سینیٹ کی رکنیت یا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں کیونکہ جعلی مینڈیٹ سے بننے والی اسمبلیوں کو قانون کے مطابق نہیں چلایا جا رہا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب اسمبلی یا کمیٹیوں میں بات ہی نہیں سنی جا رہی تو ان کا حصہ رہنے کا کیا فائدہ ہے۔ حکومت اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہی ہے اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’وفاق کے برعکس خیبر پختونخوا اسمبلی آئین اور قانون کے مطابق چلائی جارہی ہے اس لیے وہاں پی ٹی آئی کا مستعفی ہونے کا نہ کوئی معاملہ زیر غور ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز موجود ہے۔‘ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کی مہم سے اسے سیاسی مقاصد حاصل نہیں ہوں گے سوائے اس کے کہ انہیں کچھ دن سیاسی بیانات اورخطابات کرنے کا موقع مل جائے گا۔

 

Back to top button