عمران کے ایما پر پی ٹی آئی کا فائز عیسیٰ کو مزید گندا کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف ایک بار پھر آزاد عدلیہ کی علامت قرار پانے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کھڑا کر میدان میں آگئی ہے۔ تحریک انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف انھیں پی ٹی آئی کے مقدمات سے علیحدہ کرنے کی استدعا کر دی ہے بلکہ انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارٹی قیادت کو چیف الیکشن کمشنر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اعتراض عائد کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ اگر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کے مقدمات سے الگ نہ ہوئے تو ان کیخلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے ریفرنس دائر کرنے کی تیاری شروع کردی ہے اور اس حوالے سے حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف ریفرنس آخری مرحلے میں ہے جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے لیگل کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس کا فیصلہ دینے والے بینچ کو تحلیل کرنے کا معاملہ ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ریفرنس کی نوک پلک درست کرنے کے بعد رواں ہفتے ہی سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب لیگل ٹیم نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس تیار کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف ریفرنس میں سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ، فارم 45 میں کی جانے والی تبدیلیاں اور انتخابی بے ظابطگیوں کو بنیاد بنایا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس عامر فاروق اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف ریفرنس دائر کرے گی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پہلے مرحلے میں اعتراض عائد کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف باضابطہ طور پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پی ٹی آئی اور عمران خان کے مقدمات سننے پر اعتراض عائد کرے گی، یہ اعتراض 3 رکنی ججز کمیٹی میں بھی دائر کیا جائے گا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کے مقدمات سے الگ نہ ہونے کی صورت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پاکستان و بانی پی ٹی آئی عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر باضابطہ طور پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے بینچز تشکیل دینے والی 3 رکنی کمیٹی میں درخواست دائر کرکے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے مقدمات سننے والے بینچز میں شامل نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ میرے، میری اہلیہ، خاندان، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے کسی بھی مقدمے کو سننے والے بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شامل نہ کیا جائے۔ عمران خان نے موقف اپنایا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میری، میری اہلیہ اور میری جماعت کو لے کر جانبدار ہیں۔عمران خان نے اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کا بھی ذکر کیا اور موقف اپنایا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کی نشاندہی پر قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا تھا، یہ ریفرنس ایک قانونی عمل کو پورا کرنے کے لیے دائر کیا گیا تھا تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اسے اپنے اوپر ذاتی حملہ تصور کیا۔
عمران خان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ اس ریفرنس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے میرے خلاف زہر اگلا اور میڈیا میں بیانات دیے، ایسی صورت میں درخواست گزار یہ سمجھتا ہے کہ میرے مقدمات میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی موجودگی سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی درخواست کے ساتھ سرینا عیسیٰ کے ماضی کے بیانات کے عکس بھی لف کیے ہیں۔
عمران خان نے 3 رکنی کمیٹی سے استدعا کی ہے کہ میرے، میری اہلیہ، میرے خاندان، پاکستان تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کے مقدمات کو سننے والے بینچز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو نہ شامل کیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔ ریفرنس دائر کرنے کی ذمہ داری بیرسٹر علی ظفر کو دی گئی ہے۔تاہم ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ قانونی ٹیم کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
