اسٹیبلشمنٹ کا سوشل میڈیا پر متحرک یوتھیوں کی لتر پریڈ کا فیصلہ

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سوشل میڈیا پر عسکری قیادت کو ہدف تنقید بنانے والے نام نہاد انقلابیوں کی بھر پور ٹھکائی کا فیصلہ کر لیا۔ 22 جولائی کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ کے ڈیجیٹل میڈیا مرکز پر چھاپہ اور سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت دیگر عمرانڈوز کی گرفتاری اسی سلسے کی کڑی ہے۔اسلام آباد میں پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ کارروائی میں تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘ میں ملوث ہے۔ اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے یہ کارروائی ’ابتدائی تفتیش اور ڈیجیٹل مواد کی روشنی میں‘ کی۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار کے دن ہی ایک پریس کانفرنس میں فوج کے ادارے اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کی مدد سے تنقید کرنے والوں کو ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دہشت گرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے فیک نیوز کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔‘۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے شدت پسندوں اور ’ڈیجیٹل دہشت گردوں‘ کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں کا ہدف فوج ہے۔‘’جس طرح ایک دہشت گرد ہتھیار پکڑ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دہشت گرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان فوج کی جانب سے ’ڈیجیٹل دہشتگردی‘ کی اصطلاح اس سے قبل رواں برس مئی میں کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے میں بھی استعمال کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا ’واضح مقصد پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلانا اور قومی اداروں کے درمیان اختلافات‘ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

ایسے میں یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کی تعریف کیا ہے اور کس بنیاد پر کسی شخص کو ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟اور  کیا دنیا کے دوسرے ممالک میں ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے؟

مبصرین کے مطابق دنیا بھر میں ’سائبر ٹیرارزم‘ یا سائبر دہشت گردی کی اصطلاح کا استعمال اکثر کیا جاتا ہے۔ سیاسی یا معاشرتی مقاصد کے حصول کے لیے کمپیوٹرز یا ان سے منسلک نیٹ ورک پر کسی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے حملے سائبر ٹیرارزم کہلاتے ہیں۔

یہاں ایک سوال اور بھی اہم ہے کہ کیا آن لائن پروپیگینڈا یا غلط معلومات پھیلانے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟مبصرین کے مطابق ’پروپیگنڈا اور ڈِس انفارمیشن کو ڈیجیٹل دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ اس صطلاح کا استعمال دراصل ’آن لائن سپیس پر اپنا کنٹرول بڑھانا ہے اور ایک ڈر کو فروغ دینا ہے تاکہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال نہ کریں۔‘ ’پروپیگینڈا اور ڈِس انفارمیشن کی روک تھام شواہد پر مبنی فیکٹ چیکنگ کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ اسے دہشت گردی کہہ کر جرم قرار دینا چاہیے۔‘

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کی اصطلاح کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی اصطلاح کا استعمال افراد یا گروہوں کو بُرا دکھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔’اس اصطلاح کے استعمال کا مقصد عوام کی ذہن سازی کرنا، بیانیہ بنایا یا کسی گروہ کے خلاف کریک ڈاؤن کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔‘ان کے مطابق سیکیورٹی کی تکنیکی زبان میں کسی بھی جرم کو دہشتگردی اس وقت تک قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک اس کے پیچھے کوئی کوئی نظریہ نہ ہو۔ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھ کر عام تاثر یہی آتا ہے کہ ’ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے خلاف کارروائی کا ہدف پی ٹی آئی ہو سکتی ہے جو کہ سوشل میڈیا پر ہمیشہ سے کافی متحرک نظر آئی ہے۔‘

بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی لبرل جمہوریتوں میں ریاست یا فوج پر کی جانے والی تنقید کو آزادی اظہار رائے کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔‘ اگر کسی سرکاری افسر کو اس کے مذہب، فرقے یا قومیت کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اسے نفرت انگیزی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی اگر لوگوں کو اُکسایا جائے کہ وہ فوج پر حملہ کریں تو ایسے میں ملزمان پر دہشتگردی سمیت متعدد دفعات لگائی جا سکتی ہیں۔‘

Back to top button