ملک میں بڑھتی دہشتگردی کے ذمہ دار عمران اور فیض کیوں؟

عمرانی ٹولے کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ایک بار پھر ملک دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ آئے روز ملک میں ہونے والی شرپسندانہ کارروائیوں میں فوجی جوان شہادتیں پیش کر رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتیں دہشتگردی جیسے حساس مسئلے پر بھی سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہو یا تحریک انصاف، پی ٹی ایم  ہو یا مولانا فضل الرحمں، سب کی تنقید کا ہدف اس وقت اسٹیبلشمنٹ ہی ہے اور سب ہی اپنے ذاتی مفادات کیلئے مختلف طریقوں سےمسلسل عسکری قیادت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ جس کے بعد اب معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب بڑھ رہے ہیں اور لگتا ہے اب اس مہم کا شاید نتیجہ بھی قریب آ چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر عادل شاہ زیب نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔
عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ بات سیاسی انتشار اور عدم استحکام سے بہت آگے بڑھ چکی ہے لیکن بجائے بریک لگانے کے ہر طرف ایکسیلیریٹر کو ہی دبایا جا رہا ہے۔ہماری گرتی ہوئی بیمار معیشت اور دہشت گردی ایسے مسائل ہیں جن پر اگر توجہ نہ دی گئی تو حالات قابو میں نہیں رہیں گے۔ عادل شاہ زیب کے مطابق ملک میں سیاسی تقسیم اس حد تک واضح ہو چکی ہے کہ دہشتگردی جیسے ایشو پر بھی نہ صرف حزب اختلاف کی زیادہ تر جماعتیں سیاست کر رہی ہیں بلکہ حکومت بھی کل جماعتی کانفرنس کا اعلان کر کے شاید کہیں مصروف ہوگئی ہے۔ تاہم دوسری جانب فوج اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے اور شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب فوج اور پولیس کے جوانوں کی نعشیں نہ گریں۔
عادل شاہ زیب کے بقول معیشت کی بحالی کے لیے اگر دن رات ایک کر کے بھی کام کیا جائے لیکن جہاں امن اور سکیورٹی نہ ہو وہاں معاشی استحکام تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ دہشت گردی نے چار دہائیوں سے ہمارے ملک، معاشرے اور ذہنوں کو جکڑ رکھا ہے اور آرمی پبلک سکول جیسے کئی تو ایسے سانحے اور واقعات ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا حتیٰ کہ انڈیا کو بھی رلا دیا تھا۔ہم بےنظیر بھٹو اور بشیر بلور جیسے توانا رہنما اور کئی جید علما دین کھو چکے ہیں۔ پولیس اور فوج جتنی قربانیاں دے چکے ہیں وہ بےحساب ہیں۔آخری بار جب سوات اور سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے آپریشن کیے گئے تو اس کے بعد ہم نے ملک کو امن کی طرف واپس لوٹتے دیکھا۔ لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی گئیں تب کہیں جا کر پاکستانیوں بالخصوص پختونوں نے سکھ کا سانس لیا۔لیکن اس کے بعد جب اگست 2021 میں طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا تو ہم نے اسے اپنی جیت سمجھا اور دنیا کے سامنے اس کا ڈھنڈورا بھی پیٹا۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے والے بیان سے لے کر کابل میں آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ کی چائے کی پیالی کی تصویر تک وہ واقعات ہیں جن میں ہم نے کھل کر طالبان کی جیت کا جشن منایا۔

عادل شاہ زیب کے مطابق اگرچہ مبصرین اس وقت کی حکومت کو خبردار کرتے رہے کہ طالبان کی فتح کا سپیل اوور آئے گا اور اس کے بعد پاکستان خصوصاً پختونخوا اور سابق فاٹا میں عسکریت پسند تنظیمیں مضبوط ہوں گی۔ لیکن اس وقت کے مقتدر حلقوں کی جانب سے کہا گیا نہیں اب نہ تو انڈیا افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کر سکے گا اور نہ ٹی ٹی پی وہ کر سکے گی جو اس سے پہلے افغانستان سے کرتی آئی ہے۔ہم نے اس وقت دنیا کو ایک دفعہ پھر یہ بھی باور کروایا کہ دیکھیں طالبان ہمارے زیراثر ہیں۔ ہماری سنتے ہیں ہم سنبھال لیں گے۔ ہم انہیں سنبھالتے کیا، انہیں سنبھالتے کی تگ و دو میں ایسی ڈگر پر چل پڑے کہ افغان طالبان اس وقت پاکستان کے ایک دشمن ہمسائے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

عادل شاہ زیب کے بقول ایسی صورت حال میں آگے کی راہ نکالنا صرف فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس کی بات نہیں بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز خصوصاً سیاسی جماعتوں کو سیاست کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے آنے والی نسلوں کے لیے عسکریت پسندی کے خلاف پالیسی ہو حکمت عملی یا جنگ ہو اس کی ملکیت لینا پڑے گی۔ میڈیا کو بھی عسکریت پسندی کے خلاف جدوجہد کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

Back to top button