پنجاب اسمبلی :حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جمخانہ کلب کی لیز پر کڑی تنقید

پنجاب اسمبلی میں لاہور جمخانہ کلب کو ماہانہ 417روپے ماہانہ کرایہ لیز پر دینے کے معاملے پر حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی۔
سپیکر ملک محمد احمد خان اشرافیہ پر برس پڑے، لاہور جمخانہ کلب کی ممبر شپ لینے سے انکار کر دیا۔
رکن اسمبلی امجد علی جاوید نے کہا کہ آج ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اشرافیہ اپنا رویہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں ہیں،پاکستان کے وجود کے قیام پر آج سوال اٹھ رہے ہیں،بات ایک جمخانہ کی نہیں پنجاب میں پھیلے جمخانہ کا نظام ہے جو وسائل پر قابض ہے۔جو سات مرلے کی دوکان کا سات ہزار روپے کرایہ دے رہے ہیں وہ کہتے دوبارہ آکشن کروائیں ،کھربوں روپے کی جائیداد پر جمخانہ بنائے جا رہے ہیں اگر اس کلاس کو عیاشیاں درکار ہیں تو اپنے لعنت پر کریں ہمارے خون وپسنہ کے پیسے پر عیاشیاں نہ کریں۔پچتہر سالوں سے کھربوں روپے جو اشرافیہ کے ذمہ بنتا ہے ان سے تاوان وصول کیا جائے۔
سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن صاحب سن رہے ہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے اس کا کھربوں روپے تاوان بنتا ہے،آئین پاکستان ہمیں برابری کا درس دیتاہے ادھر تو جمخانہ جو سروسز دے رہا ہے یا تو اس کا گیٹ عوام کےلئے کھول دیا جائے، جمخانہ کے پانچ ہزار روپے پر سرکاری زمین سالانہ ٹھیکےپر دے رکھی ہے۔جس کی اربوں روپے قیمت ہو تو امجد علی جاوید ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ وہ تاوان لینا بنتا ہے۔
وزیرخزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ 1913میں میں جمخانہ کلب کو سولہ سو روپے ٹھیکے روپے پر دیا گیا۔جمخانہ کی زمین ایک سترہ ایکٹر سات کنال بنتی ہے۔
سپیکر نے کہاکہ لاہور جمخانہ پر تو قیام پاکستان سے پہلے بھی تاوان بنتا ہے۔1960سے سال 2000تک 1600روپے تک لیز دی گئی۔1996میں سردار عارف نکئی نے اگلے پچاس سال کےلیے پانچ ہزار روپے سالانہ لیز دیدیا۔پورے پنجاب میں جو جمخانہ کلب بن رہے ہیں وہ صوبائی کابینہ کی منظوری سے بن رہے ہیں۔
سپیکر نے کہا کہ کوئی بھی حکومت ہو وہ کیسے سرکار کی زمین کو ایسے انتہائی سستے داموں کرایہ پر دے سکتی ہے۔جمخانہ کی انتظامیہ سے کروڑوں روپے کے چارجز وصول کررہی ہے،
حکومتی و سرکاری شخصیات کے غیرملکی سرکاری دوروں پرپابندی عائد
عوام کی زمین پر یہ کیسے کیاجا سکتا ہے کہ پانچ ہزار روپے کرایہ پر لے کر اس طرح سے ظلم کیا جائے۔آئین و قانون بن گیا لیکن اتنی دیدہ دلیری لیکن اب اس کا کرایہ دینا پڑے گا۔لاہور جمخانہ کلب کے معاملہ پر سپیشل کمیٹی بنانے جا رہے ہیں۔دو ہفتہ میں جمخانہ کلب رپورٹ مرتب کرکے حکومت کو بھی بھیجی جائے گی، لاہور جمخانہ کلب پر تمام کاروائی عوام کے سامنے کی جائے گی۔اشرافیہ کی غنڈہ گردی کسی صورت نہیں چل سکتی۔ہم جمخانہ کلب کے ممبرشپ بھی نہیں لیں گے کسی ممبر کو ممبر شپ کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے، چناب کلب فیصل آباد کو بھی اس میں شامل کیاجائے گا۔اپوزیشن رکن رانا آفتاب کے کہنے پر چناب کلب کو شامل کیاگیا۔
