بارشوں سے بلوچستان اور پنجاب میں دربار بپھرنے لگے

شمال مشرقی اور وسط جنوبی بلوچستان میں موسلادھار بارشیں جاری ہیں جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ۔بلوچستان کے مختلف علاقوں نصیرآباد، جھل مگسی ،کچھی اور ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ چار روز سے کہیں ہلکی اور موسلادھار بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں، گنداواہ شہر گزشتہ 6 روز سے بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔خاران میں سیلابی ریلے شہر اور نواحی علاقوں میں داخل ہوگئے، سیلابی ریلوں کے باعث مختلف علاقوں میں ایک ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جب کہ ضلع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام بھی جاری ہے، ضلع میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، لیویز اور دیگر ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں آج بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے اربن فلڈنگ کاخدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے نالوں میں سیلاب کا امکان ہے، دریائے سندھ میں تربیلہ اورکالاباغ کے مقام پرنچلےدرجےکاسیلاب ہے ،چشمہ اور تونسہ کےمقام پر درمیانے درجےکا سیلاب ہے۔ اس کے علاوہ عارف والا میں دریائے ستلج کے کنارے متعدد چھوٹے بند پانی میں بہہ گئے۔

ادھر راجن پور میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں بارشوں سے برساتی ندی نالوں میں طغیانی ہے، سیلابی صورتحال کے باعث ضلع بھر میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، اس کے علاوہ دریائے سندھ میں بھی پانی کی

توشہ خانہ کیس، عمران خان کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

سطح میں اضافہ جاری ہے۔

Back to top button