نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟

21 اکتوبر کو وطن واپسی پر نواز شریف کو ائیر پورٹ سے گرفتاری سے بچانے کیلئے ن لیگ کی قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، نواز شریف کی طرف سے ان کے وکلا کی جانب سے درخواستیں آئندہ 48 گھنٹے میں دائر کئے جانے کا امکان ہے ۔ذرائع کاکہنا ہے کہ دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کی درخواستوں کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا گیا، مختلف قانونی نکات پر غور کے بعد درخواستوں کا مسودہ فائنل کیا جائیگا ۔ جس کے بعد درخواستیں فائل کر دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید اور 80لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنائی تھی جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دس سال کیلئے عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔

تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان رہنے والے نواز شریف وطن واپس لوٹیں گے تو ان کا سٹیٹس سزا یافتہ مجرم کا ہو گا کیونکہ انہیں دو نیب کیسز میں سزا معطل کرانی اور احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے فیصلوں کے خلاف اپیل دوبارہ دائر کرنی پڑے گی۔اس سے قبل عدالتی مفرور ہونے کے باعث اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی سزا کالعدم قرار دے کر باعزت بری کرنے کی اپیلیں عدم پیروی پر خارج کردی تھیں۔نواز شریف کو دونوں کیسز میں سزا معطل کرانی پڑے گی اور اشتہاری ہونے کے باعث عدالت پہنچنے تک پروٹیکشن لینے کے لیے قانونی آپشن یعنی حفاظتی ضمانت بھی لینا ہو گی ورنہ نواز شریف کو ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔۔

کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اشتہاری ہونے کے باعث نواز شریف کو جیل جائے بغیر کوئی ریلیف نہیں مل سکتا تاہم بعض قانونی ماہرین اس نکتے سے اختلاف کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی ملزم جب عدالت کے سامنے سرینڈر کرے تو عدالت اسے قانون کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر شعیب شاہین ایڈووکیٹ کے مطابق ’اشتہاری ملزم کے لیے بھی غیر معمولی حالات میں عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرنے کا ریلیف دیتی ہے، سزا یافتہ مجرم کے لیے قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی عدالتی نظیر موجود ہے، کوئی بھی اشتہاری مجرم جب تک خود کو قانون کے سامنے سرنڈر نہ کرے تب تک اس کی درخواست عدالت میں نہیں سنی جا سکتی ۔‘

دوسری جانب اسلام آباد کے سابق ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ ‘نواز شریف کی سزا معطل کرکے ضمانت دی گئی تھی جو ختم ہوگئی، اشتہاری ہونے پر سزا بحال ہو چکی ہے اور اب عدالت اس وقت تک کوئی درخواست نہیں سن سکتی جب تک اشتہاری مجرم عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کر دے، نواز شریف کو جیل جانے کے بعد ضمانت کے لیے رجوع کرنا پڑے گا اور پھر عدالت انہیں کوئی ریلیف دے سکتی ہے ۔‘

سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون کے مطابق ’نواز شریف کے وطن واپس پہنچنے پر انہیں عدالت تک پہنچنے کی پروٹیکشن مل سکتی ہے، اشتہاری قرار دے کر وارنٹ جاری کرنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ ملزم یا مجرم کو پکڑ کر قانون کے سامنے سرنڈر کرایا جائے، اگر کوئی اشتہاری خود سرنڈر کرنا چاہتا ہے تو عدالت اس کو یہ موقع فراہم کرتی ہے، نواز شریف کو ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیل بحال کرانے کے ساتھ سزا معطلی کی درخواست دائر کرنا ہوگی تاکہ اس پر جلد فیصلہ ہو سکے، اگر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے بعد بھی سزا معطل نہیں ہوتی تو پھر انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔‘سینئر قانون دان امجد پرویز ایڈووکیٹ کا ماننا ہے کہ نواز شریف اشتہاری ہونے کے باوجود حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا سنائی تھی جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی اور سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت تھی جب وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے مگر پھر اپیلوں کی پیروی کے لیے واپس نہ آئے۔نواز شریف نے بیرون ملک روانگی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر انہیں چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک روانہ ہونے کی اجازت دی گئی تھی جب کہ شہباز شریف نے بھی اپنے بھائی کی صحتیابی پر وطن واپس آنے کی انڈرٹیکنگ عدالت میں جمع کرائی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی غیر موجودگی میں اپیلیں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے بجائے انہیں نان پراسیکیوشن یعنی عدم پیروی پر خارج کیا اور اس سے قبل نواز شریف کو عدالتی مفرور اور اشتہاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپیلیں میرٹس پر دلائل سن کر نہیں بلکہ ٹیکنیکل گراؤنڈ یعنی عدم پیروی پر خارج کی جا رہی ہیں، اپیل کنندہ جب واپس آئے تو وہ سزا کے خلاف اپیلیں دوبارہ دائر

ورلڈ کپ، ہالینڈ کی جنوبی افریقہ کیخلاف بیٹنگ جاری

کرنے کا حق رکھتا ہے۔

Back to top button