امریکہ کو عمران خان کی حمایت کا مروڑ کیوں اٹھا؟

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ چین کو یہ خدشات لاحق رہتے ہیں کہ پاکستان میں کہیں دوبارہ عمران خان کی طرز کی حکومت نہ آجائے جو نہ صرف سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکائے بلکہ ترازو کا پلڑا امریکہ کی طرف جھکا دے . تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود آئی ایم ایف کا پاکستان سے معاہدہ نہ کرنا اور امریکہ سے شیرمن اور زلمے خلیل زاد جیسے نیوکانز کی عمران خان کے حق میں مہم سے امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان چین کی طرف جانے سے باز آجائے. اپنے ایک کالم میں سلیم صافی لکھتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کی مخاصمت کا پاکستان کو نقصان ہورہا تھا اب ان کی صلح سے پاکستان کو فائدہ تو ہوگا لیکن ساتھ ہی کچھ چیلنجز بھی سراٹھاسکتے ہیں ۔ ایک چیلنج تو یہ ہوگا کہ اس سے قبل سعودی عرب ،ایران کے تناظر میں بھی پاکستان کے ناز نخرے زیادہ اٹھاتا تھا لیکن اب وہ پاکستان کو اس آئینے میں نہیں دیکھے گا ۔ دوسری طرف چین کا مشرق وسطیٰ اور سمندر تک رسائی کے لئے پہلے زیادہ انحصار پاکستان اور سی پیک پر تھا لیکن اب ایران کی صورت میں اسے نیا آپشن بھی ہاتھ آگیا ہے کیونکہ ایران امریکہ کے اثر سے مکمل آزاد ہے جب کہ پاکستان کے معاملے میں چین کو یہ خدشات لاحق رہتے ہیں کہ کہیں دوبارہ عمران خان کی طرز کی حکومت نہ آجائے جو نہ صرف سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکائے بلکہ ترازو کا پلڑا امریکہ کی طرف جھکا کر چین کے ساتھ معاملات کی ساری تفصیلات بھی اس کو فراہم کردے ۔ کہا جاتا تھا کہ جو حیثیت اسرائیل کی امریکہ کے لئے ہے ، وہی حیثیت پاکستان کی چین کے لئے ہے لیکن اب چین کو ایران اور اسی طرح کے کئی دیگر آپشن میسر آجائیں گے۔ سلیم صافی لکھتے ہیں کہ اس نئے ریجنل یا گلوبل آرڈر میں اب پاکستان کے لئے ایک مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ اس کے لئے اب زیادہ عرصہ دو کشتیوں یعنی امریکہ اور چین پر سواری ممکن نہیں رہے گی۔ اب دونوں طرف سے یہ دبائو بڑھے گا کہ پاکستان فیصلہ کرلے کہ وہ کس کے ساتھ ہے ۔ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کے باوجود چین کا بھرپور مدد کے لئے نہ آنا اس کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ وہ پکی یاری کا یقین دلادے اور یہ تسلی کرادے کہ سی پیک وغیرہ کے معاملے میں عمران خان کی پالیسیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ دوسری طرف شرائط پوری کرنے کے باوجود آئی ایم ایف کی طرف سے معاہدہ نہ کرنے اور امریکہ سے عمران خان کے حق میں شیرمن اور زلمے خلیل زاد جیسے نیوکانز کی طرف سے مہم سے امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان چین کی طرف جانے سے باز آجائے ۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اب سعودی عرب ایک علاقائی طاقت ہونے کے ناطے اور دیگر عرب ممالک مالی خوشحالی اور سرمایہ کاری یا تیل کے مراکز ہونے کے ناطے تو امریکہ اور چین کو ساتھ ساتھ چلاسکیں گے اور کوئی ایک بھی ان کے آگے لکیر نہیں کھینچ سکتا لیکن پاکستان کے سامنے اب اشاروں کنایوں میں لکیر کھینچی جارہی ہے اور بہت جلد واشگاف الفاظ میں طرفین کھل کر بھی مطالبہ کرنے لگ جائیں گے اور ظاہر ہے کہ پاکستان کے لئے کسی ایک کو ناں کرنا اتنا آسان فیصلہ نہیں ۔ اسی طرح ایران اور سعودی عرب نے تو اپنے لئے خطرات کم کردئیے لیکن پاکستان کے لئے ہندوستان اور افغانستان کے چیلنجز بدستور موجود ہیں جو اسے بڑی طاقتوں کا محتاج بناتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اور پاکستان بھی ایران اور سعودی عرب سے سبق سیکھ کر اپنے تنازعات حل کرسکتے ہیں؟ بدقسمتی سے سردست جواب نفی میں ہے۔

 

حکومت کا ایک برس، کیا کھویا کیا پایا

Back to top button