ثاقب نثار عرف بابا رحمتے کی کونسی آڈیوز لیک ہونے والی ہیں؟

اردو کی کہاوت ہے چور کی داڑھی میں تنکا۔۔۔ آج کل جس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے اور انھوں نے تازہ بیان یہ داغ دیا ہے کہ میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے اور خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی انھوں نے چوری پکڑے جانے سے پہلے ہی اپنی عزت تار تار ہونے کا واویلا شروع کر دیا ہے تاکہ انھیں شک کا فائدہ پہنچ سکے کہ شاید سامنے آنے والی آڈیوز ان کی نہیں بلکہ جعلی ہیں۔
خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چندروز قبل میرا وٹس ایپ ہیک ہو گیا تاحال ریکور نہیں کیا جاسکا۔ خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم اپنی خفت کو مٹاتے ہوئےان کا کہنا ہے کہ میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی۔ اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی۔ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔ ان کی ایسی بے ربط باتوں سے لگتا ہے کہ ان کے واٹس ایپ میں موجود اچھا خاصہ مواد متعلقہ لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس میں ان کے متنازع فیصلوں اور ہینڈلرز بارے تمام معلومات موجود ہے اور اپنی چوری سامنے آ جانے کے خوف سے ہی میاں ثاقب نثار نے وضاحتوں کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔
دوسری طرف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار عمران خان کو صادق اور امین قرار دینے کے بیان سے مکرنے کے بعد اب انھوں نے سابق وزیراعظم سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے تکبر سے کہتے ہیں کہ کیا میں عقل اور صلاحیت کے لحاظ سے عمران خان سے کمتر ہوں کیا جو اس کے لئے لابنگ کروں گا۔” سینئر صحافی اور اینکر پرسن عادل شاہ زیب کے مطابق سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار نے اعتراف کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید سے اکثر سلام دعا ہوتی رہتی ہے اور وہ ان سے رابطے میں ہیں۔سابق چیف جسٹس سے پوچھا کہ یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ انہوں نے جنرل فیض کے دباؤ میں آکر پاناما کیس میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس پر سابق چیف جسٹس نے متکبرانہ انداز میں جواب دیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک 18ویں گریڈ کا جنرل مجھ پر دباؤ ڈال سکتا ہے؟ صحافی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ثاقب نثار سے پوچھا کہ ایسے مفروضات گردش کر رہے ہیں کہ آپ نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان اپنے دور میں چند غلط فیصلے دیئے۔ جس پر سابق چیف جسٹس نے جواب دیا کہ وہ انسان ہیں فرشتہ نہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے چند فیصلے غلط تھے تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں یہ نہیں بتایا کہ وہ کن فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام مجھے طلب کر کے پوچھ سکتے ہیں کہ میں کن کیسز کا ذکر کر رہا ہوں۔
دوسری جانب زاہد گشکوری کے مطابق ان کی سابق چیف جسٹس سے فون پر بھی بات ہوئی تھی۔ صحافی کے مطابق چیف جسٹس نے انہیں بتایا کہ دو ہفتے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے خلاف جاری متعدد مقدمات میں ان سے مدد مانگی لیکن ثاقب نثار نے کسی حمایت یا مدد سے صاف انکار کردیا۔گشکوری نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ ریاستی اداروں خاص طور پر عدلیہ کو بدنام کرنا اور انہیں کو کمزور کرنا بندکریں۔ سابق چیف جسٹس نے اس موقف کو دہرایا کہ ان کی عمران خان سے کوئی دوستی یا کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔ ثاقب نثار نے یہ بھی کہا کہ بطور چیف جسٹس وہ عمران خان کے دیگر معاملات سے لاعلم تھے تو وہ کس حیثیت سے انہیں صادق اور امین کے سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں۔
متوقع آڈیولیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا واٹس ایپ ہیک ہونے والا بیان اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ ان کے واٹس ایپ کے ڈیٹا کو جوڑ کر ان کی جعلی آڈیو بنائی جائے گی۔ صحافی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو ریلیز ہونے والی ہے جس سے بہت سے لوگ چونک جائیں گے۔
واضح رہے کہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات پر صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔ عدالت میں جو دستاویزات آئیں انہی کی بنا پر فیصلہ دیا تھا۔ اسے سیاسی رنگ دیا گیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنےوہ-لاگ میں کہا تھا کہ آڈیو لیکس کا طوفان ابھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کچھ آڈیو لیکس آچکی ہیں اور آئندہ کچھ دنوں میں مزید آنے کا خطرہ ہے۔ یہ وہ آڈیو ٹیپس ہیں جس میں ماضی اور حال دونوں کی ریکارڈنگز ہیں۔ ان میں حاضر سروس اور سابق دونوں طرح کے جج صاحبان کی مختلف کیسز کے حوالے سے غیر متعلقہ افراد سے گفتگو ریکارڈ ہے۔
