سعودی عرب نے ٹرمپ کی ابراہیمی معاہدےکی پیشکش مسترد کردی

سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کی ابراہام معاہدے میں شمولیت کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائیں گے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسئلے پر ہمارا مؤقف پہلے جیسا ہی ہے۔ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی راہ ضروری ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت ممکن ہوں گے جب فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے حقیقی ضمانتیں موجود ہوں کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا انحصار اسی منصفانہ اور جامع حل پر ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
یہی موقف سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے بھی اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہی مؤقف دہرایا کہ خطے میں حقیقی استحکام صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔
