موبائل ایپ نے پاکستانیوں کی ساری جمع پونجی کیسے لوٹی؟

گذشتہ جمعے کی شام وسطی پنجاب کے چند شہروں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کی نظریں ایک واٹس ایپ گروپ پر ٹکی ہوئی تھیں جہاں طویل وائس نوٹس کے ذریعے انھیں ’سب اچھا‘ کی رپورٹ دی جا رہی تھی۔
یہ گروپ آئی ڈی اے نامی ایپ استعمال کرنے والے صارفین پر مبنی تھا اور یہ وائس نوٹس اس گروپ کو چلانے والے سینئر منیجرز کی جانب سے ’ایپ میں تکنیکی خرابی‘ کے سبب بھیجے جا رہے تھے۔
ان کی آوازوں میں اطمینان تھا اور وہ تفصیل سے صورتحال سمجھا رہے تھے۔ اس ایپ میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کے پاس ان پر اعتبار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
ان میں سے ایک خاتون علیشبہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی بگڑتی معاشی صورتحال اور مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت سب یہی چاہتے ہیں کہ جہاں سے اضافی آمدن آ رہی ہے وہ کسی بھی طرح آ جائے کیونکہ آپ کو پتا ہے پاکستان کے کس طرح کے حالات ہیں۔
گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور وزیرِ آباد سمیت کئی شہروں کے سینکڑوں باسیوں کی صورتحال علیشبہ جیسی ہے، بی بی سی نے اس ایپ کے واٹس ایپ گروپ میں موجود اس کے سینیئرز مینجرز سے بھی رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان کے فون مسلسل بند ہیں۔
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تاحال ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں، اس لیے اس فراڈ میں ایپ صارفین کو ہونے والے نقصان کا درست تخمینہ فی الحال نہیں لگایا جا سکتا تاہم متاثرین سے بات کرنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ رقم کروڑوں روپے ہو سکتی ہے۔
یہ تمام افراد گذشتہ کئی ماہ سے ایک ایسی موبائل ایپلیکیشن میں پیسے لگا رہے تھے جسے کرپٹو کرنسی انٹیلیجنٹ ڈیٹا اینالٹکس کارپوریشن آئی ڈی اے کہا جاتا تھا۔
اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے چند ماہ پہلے تک ایک لنک دیا جاتا تھا جہاں سے اس کی اے پی کے کی فائل ڈاؤن لوڈ کی جاتی تھی تاہم مارچ کے مہینے میں یہ ایپ گوگل پلے سٹور پر بھی دستیاب تھی۔
ڈاون لوڈ کرنے کے بعد اس ایپ کا ایک پیچیدہ شناخت اور تصدیق کرنے کا عمل تھا، جس میں شناختی کارڈ کے فرنٹ اور بیک یہاں تک کہ ہاتھ میں شناختی کارڈ پکڑ کر تصویر بنوا کر بھجوانی ہوتی تھی۔
سمیر بتاتے ہیں کہ ’کچھ منٹ کی ویریفیکیشن کے بعد آپ کا اکاؤنٹ بن جاتا تھا اور پھر آپ کو شروعات میں لیول وی ون دیا جاتا تھا۔یعنی یہ ایک گیم کی طرح تھا جس میں ہر گزرتے لیول کے ساتھ منافع کی شرح بڑھتی چلی جاتی تھی۔
سمیر بتاتے ہیں کہ ’اس کے بعد آپ کو روزانہ 30 کلک کرنے ہوتے تھے، ایک کلک کا مطلب 0.2 سے 0.3 ڈالر ہوتا تھا، یوں آپ کے ایک دن میں چار سے پانچ ڈالر بنتے تھے۔وی ون لیول میں وہ آپ کو 90 دن دیتے تھے، ان 90 دنوں میں اگر آپ 300 ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری نہیں کرتے اور اپنے ساتھ دو مزید افراد کو اس ایپ سے متعارف نہیں کرواتے تو آپ اگلے لیول تک نہیں جا سکتے تھے۔
علیشبہ اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’سب نے ہمیں یہی کہا کہ ہم دو سال سے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اس میں کچھ برا نہیں آپ لوگ بھی استعمال کریں اور پھر ہم نے رقم نکلوائی بھی، ایسا نہیں کہ نہیں نکلوائی۔ تو انھوں نے ہمیں رقم دے کر شروع میں ہم سے ہمارا اعتماد خرید لیا۔
عمار جعفری اس طرح کی فراڈ سکیموں کی مارکیٹنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ اتنے شاطر ہوتے ہیں کہ اس کی ان ڈائریکٹ ماریکٹنگ کرتے ہیں، کسی کا انٹرویو چھاپ دیں گے کہ اس کو پیسے مل گئے، پھر ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں منصوبہ بندی کے تحت۔‘
یہ مثال ہمیں آئی ڈی اے فراڈ میں بھی نظر آتی ہے۔ آئی ڈی اے یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو موجود ہے جس میں پاکستانی نوجوان آئی ڈی اے ایپ کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ’اس نے ان کی زندگی کیسے بدلی۔
عمار جعفری فراڈز سے بچنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’فراڈ کی سب سے بڑی پہچان یہی ہوتی ہے کہ اس کو عقل نہیں مانتی، ایف آئی اے کو اس حوالے سے تحقیقات کرنی چاہیے کہ اس ایپ کی آئی پی ایڈرسنگ وغیرہ کیا تھی، اس کے بیک اینڈ پر کون تھا اور اس پر بین الاقوامی مدد بھی حاصل کرنی چاہیے اور ایسے افراد کو پکڑنا چاہیے۔
علیشبہ ایسی ایپس پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں کیونکہ ’ہمارے تو جتنے پیسے لگے وہ لگے لیکن کئی ایسے افراد بھی ہیں جنھوں نے ساری جمع پونجی اس میں لگا دی، سمیر کہتے ہیں کہ جیسے بندہ کسی کے مرنے کے بعد کہتا ہے کہ اونوں واپس لے آؤ یار، ویسے ہی ہم بھی یہی کہے رہے ہیں کہ کسی طرح ہمارے پیسے واپس لے آؤ۔

مفتی عبدالشکور کی گاڑی کے حادثے سے متعلق رپورٹ تیار

Back to top button