عمران خان کی حالت دیکھ کر پرویز مشرف کا دور یاد آتا ہے

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی حالت دیکھ کر پرویز مشرف کے دور کے آخری ایام یاد آتے ہیں، جب مشرف کو احساس ہوا کہ ان کی حکومت ختم ہونے والی ہے تو انہوں نے عدلیہ کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ نیب نے کیس میں تیسرا پراسیکیوٹر تبدیل کرتے ہوئے عدالت نے 4 ہفتوں کی مہلت مانگی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عدالت نے نیب کو 4 ہفتوں کی مہلت دی ہے، لیکن اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہوتا تو وہ پیش کر چکے ہوتے، ججز نے بار بار ان سے ثبوت مانگے، پہلے نیب کو دو ماہ سے زائد کےلیے کورونا ہوگیا تھا، اور اب جب کورونا سے واپس آئے ہیں تو انہوں نے پراسیکیوٹر تبدیل کرنے کے بہانے 4 ہفتوں کی مہلت طلب کی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے مطابق میں ایک سادھی سی بات قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں کہ اگر میرے خلاف یہ مقدمہ بد نیتی پر مبنی نہ ہوتا تو آپ ثبوت پیش کرتے، یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت ہوتا ہے تو عدالت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ججز سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف نہ ہونے کے مترادف ہےمیں سماعت میں پیش ہوتی ہوں تو نیب کو بھی اتنی ڈھیل نہیں دینی چاہئے، نیب کو چاہیے کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کریں اور اگر ثبوت نہیں ہے تو اس کیس کو زیادہ کھینچنے کی ضرورت نہیں ہے، آج ثبوت مانگ لیے ہیں تو نیب غائب ہے۔

محسن بیگ کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ‌ میں‌ چیلنج

محسن بیگ کی گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ کل جو ہوا اور جو کچھ پچھلے کچھ دنوں سے نظر آرہا ہے اس سے مشرف کے دور کے آخری ایام یاد آتے ہیں، جب مشرف کو احساس ہوا کہ ان کی حکومت ختم ہونے والی ہے تو عدلیہ کے ساتھ کیا گیا تھا، لیگی رہنما نے کہا کہ انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس کو شاہراہ دستور پر بالوں سے گھیسٹا تھا، 60 ججوں کو گھر بھیج دیا تھا، ان کو بچوں سمیت ان کے گھروں میں قید کردیا تھا۔

مریم نواز کے مطابق جب میں عمران خان کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے مشرف کا وہ دور یاد آتا ہے، جب محسن بیگ انکے ساتھ تھے بقول ان کے جب انہوں نے ایک روپے کا فنڈ اکھٹا کر کے انہیں دیا تھا تب تو وہ اچھے تھے، جب محسن بیگ نے عمران خان کے خلاف تنقید کی تو انہوں نے زرا بھی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اور ریاستی ادارے ایف آئی اے کو استعمال کیا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کی ذہنی حالت پرترس آتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ آپ زہنی طور پر مفلوج ہوچکے ہیں جب محسن بیگ ہم پر تنقید کیا کرتے تھے ہم نے تو کسی کو ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کروا کر مار نہیں پڑوائی، عمران خان صاحب آپ کوئی آسمان سے اتری ہوئی یا ایسی شخصیت ہیں جن پر تنقید نہیں کی جاسکتی، اور آپ کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہے لیکن جو معیار آپ کی اہلیہ کے لیے اپنایا گیا وہ ہی کلثوم نواز کے لیے اختیار کیے جانا چاہیئے تھا۔

انہوں ماضی دہراتے ہوئے کہا کہ جب کلثوم نواز لندن کے کلینک میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی تو پی ٹی آئی کے لوگ ڈاکٹر کے بھیس میں آئی سی یو میں جایا کرتے تھے اور ان کی تصاویر لینے کی کوشش کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کو کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور وہاں بیٹھ کر کھانے کھاتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جب ہم اپنی والدہ کی عیادت کے لیےلندن فلیٹ سے کلینک جاتے تھے تو پی ٹی آئی کے اراکین راستے میں مجھے گالی دے کر مخاطب کرتے تھے، میرے بیٹے کے سامنے مجھے گالی دی گئی، میرے بچوں اور بھتیجے پر ظلم کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو معیار آپ نے اپنی اہلیہ کے لیے قائم کیا ہے وہ دوسری خواتین کے لیے استعمال کریں، آپ نے مجھے بے گناہ ہوتے ہوئے ڈیتھ سیل میں ڈالا، کسی بیٹی کو اس کے باپ کے سامنے گرفتار کیا، اور کردار کسی کی۔

Back to top button