لال حویلی کو سیل کر دیا گیا، شیخ رشید نے کارروائی چیلنج کر دی

راولپنڈی میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کیے جانے کے بعد اس کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایڈووکیٹ سردار رازق خان کی وساطت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کی کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا ہے۔
لال حویلی کے خلاف وقف املاک کی کارروائی سے متعلق درخواست پر سماعت گیارہ بجے مقرر کر دی گئی ہے، قبل ازیں شیخ رشید احمد کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں ملا، معاملے کے خلاف عدالت جائیں گے۔
سابق وزیر داخلہ نے لال حویلی کو مکمل طور پر سیل کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں حویلی میں موجود نہیں تھا، اسلام آباد میں تھا، یہ رات میں مجھے گرفتار کرنا چاہتے تھے، میں ادھر ادھر ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا یہ لال حویلی ہماری ملکیت ہے، انہوں نے بہانہ بنا کر لال حویلی کو سیل کیا ہے، اگر لال حویلی ہماری ذاتی ملکیت نہیں تو ہمیں چوک پر لٹکا دیا جائے، یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے، یہ اب بدمعاشی پر اتر آئے ہیں۔متروکہ وقف املاک راولپنڈی نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا۔
ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک آصف خان ایف آئی اے اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ لال حویلی پہنچے اور شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کے 2 یونٹس سمیت 7 اراضی یونٹس سیل کر دیے۔
واضح رہے کہ متروکہ وقف املاک کی جانب سے شیخ رشید کو لال حویلی خالی کرنے کیلئے نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے متروکہ وقف املاک کی جانب سے لال حویلی کے خلاف کارروائی عدالت میں چیلنج کردی تھی۔
شیخ رشید نے راولپنڈی کے سول جج نوید اخترکی عدالت میں دائر اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ لال حویلی اور ملحقہ اراضی کیس ابھی زیر سماعت ہے، لال حویلی سے بے دخلی کا نوٹس اور کارروائی غیر قانونی ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک آصف خان کا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک لال حویلی کو سیل کرنے جا رہی ہے، لال حویلی سمیت 7 اراضی یونٹس متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہیں، لال حویلی کا قبضہ واگزار کرانے کیلئے ایف آئی اے اور پولیس کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔
آصف خان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید اور ان کے بھائی لال حویلی سے متعلق کوئی دستاویزات پیش نہیں کرسکے، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک آصف خان نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی خط لکھا تھا۔
