سیالکوٹ واقعہ ریاستی رٹ سرنڈر کرنے کا نتیجہ کیوں ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے کہا ہے کہ ہماری ریاست نے پچھلے چند سالوں میں شدت پسندوں کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے اتنی بار استعمال کیا ہے کہ اب یہ لوگ سند یافتہ نظریاتی کارکنان بن چکے ہیں جنہیں باقاعدہ اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کی آزادی مل چکی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن مینجر کی دردناک موت کی ویڈیوز اور ہجوم کی جانب سے لگائے جانے والے مذہبی نعرے وزیر اعظم عمران خان کے اس دعوے کو سچ ثابت کرتے ہیں کہ ملک واقعی بدل گیا ہے اور ایک نیا پاکستان بن گیا ہے جہاں ایک نئی قوم جنم پا چکی ہے لہذا اب بچے گا وہی جو اس قوم کا فرد بن جائے گا۔ باقی لوگ یا تو ملک سے بھاگ جائیں گے یا پھر کمارا کی طرح جلا دیے جائیں گے۔
طلعت حسین اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ ہجوم کی بربریت کا نشانہ بننے والے سری لنکن شہری کے آخری لمحات کی ویڈیوز دل دہلانے کے لیے کافی ہیں۔ اس سے زیادہ افسوسناک لبیک کے وہ نعرے ہیں جو سنے جا سکتے ہیں اور پھر اس وحشت کو مسکراتے ہوئے موبائل کیمروں کے ذریعے فلم بند کرتے ہوئے سینکڑوں لوگ چلا چلا کر بتا رہے ہیں کہ یہ سونامی نہیں رکے گی۔ یہ مناظر شاہد ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے، یہ ایک نیا ملک بن گیا ہے اور یہاں ایک ایک نئی قوم جنم پا چکی ہے۔ یہ قوم اس انقلاب کو لانے والوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ تاریخ میں بہت کم لوگ اتنے کم عرصے میں کسی ملک کی سمت ایسے تبدیل کر سکے ہیں جیسے کہ تحریک انصاف نے کی ہے۔
سیالکوٹ واقعے کے تناظر میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ سری لنکا میں ہزاروں مسلمان ہر رات اس خوف کو سینے سے لگائے سوتے ہیں کہ نجانے کل کس پر کیا مقدمہ بنا کر اس کا کیا حال کیا جائے۔ سیالکوٹ کا واقعہ سری لنکا میں ان تمام قوتوں کے لیے، جو مسلمانوں کے درپے ہیں، ایک سنہرا موقع ثابت ہوگا۔ سری لنکن فیکٹری منیجر کے لرزہ خیز انجام کی خبر اس کی بیوی اور رشتہ داروں کو انٹرنیٹ پر وائرل ہو جانے والی ویڈیوز کے ذریعے ملی۔ تھوڑی سی انسانیت رکھنے والے دماغ اور دل بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مار کر جلائے جانے والے کے چاہنے والوں کا ردعمل کیا ہوگا۔ وائرل ویڈیوز میں ایک ویڈیو نوجوانوں کے ایک اکٹھ کی بھی ہے جس میں وہ ٹی وی کیمروں اور مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر فخریہ انداز سے اپنی کارروائی کی تفصیل بتا رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں تضادات سے قطع نظر ان کا جوش اور جنون بہرحال ایک جیسا ہے۔ وہ اور ان کے ساتھ کھڑے انہی کی عمروں کے لوگ نعرے لگا لگا کر ان کے بیانیے پر نہ صرف مہر ثبت کر رہے ہیں بلکہ یہ بھی بتا رہے ہیں ک وہ یہ کام بار بار کریں گے۔ ان میں سے دو تین کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا نام اور علاقہ اس انداز سے بتاتے ہیں کہ جیسے اس کے بعد ان کو کسی قومی تمغے یا انعام ملنے کی امید ہو۔ ان کی عمریں اٹھارہ سے بمشکل بیس سال تک کی ہوں گی۔
بقول طلعت حسین ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں غیرملکیوں کا کام کرنا ایک نئے رواج کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ملیشیئن، کورین، فلپینوز، چائینیز اور دیگر قوموں کے لوگ انتظامی امور کو سنبھالنے پہ مامور ہیں۔ سیالکوٹ کے اندوہناک واقعے کے بعد اب یہ تمام لوگ شاید یہاں سے بوریا بستر لپیٹ کر نکلنے کے چکر میں ہوں۔ ان میں سے چار ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو پاکستان میں کام کرنے کے خطرات سے دوبارہ آگاہ کیا ہے اور ان کو باور کروایا ہے کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں وہ ان کا تحفظ نہیں کر پائیں گے۔ ایک ایسا ملک میں جو ہر دو ماہ کے بعد اربوں کے قرضوں کا متلاشی رہتا ہے، اپنی کلیدی صنعت میں پیدا شدہ اس بھونچال کی یقیناً بھاری قیمت چکائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اومیکرون : پاکستان نے مزید 15 ممالک پر پابندیاں عائد کردیں
بقول طلعت دوسری جانب ایک سری لنکن کو سڑک پر جلایا جانا سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک کے بدلے درجنوں خون ہو سکتے ہیں۔ بقول طلعت، عمران خان حکومت کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث لوگ بچ نہیں پائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے حکومت کا کون سا کہا سچ ثابت ہوا جو یہ ہوگا۔ ایک ایسا نظام جو اپنے پولیس والوں کو بے دردی سے قتل کیے جانے پر انصاف کے تقاضے نہ پورے کر سکے وہ ایک غیر ملکی کو جلانے والوں کو کیسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔ شدت پسندوں سے معاہدے کرنے والے انکا کیا احتساب کریں گے؟ شدت۔پسندوں کے پاؤں چھو کر ان کے سامنے ریاستی رٹ سرنڈر کرنے والے قانون کو کیا لاگو کریں گے؟ اور کتنوں کے خلاف کریں گے؟ اطلاعات کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر 600 افراد کے خلاف درج کی گئی ہے، جنہوں نے ایک نہتے غیر ملکی کو شک اور افواہ کی بنیاد پر ہاتھوں، پیروں، ڈنڈوں، پتھروں سے مارا اور پھر اپنے جذبے کو اس کی لاش بھسم کر کے ٹھنڈا کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ 600 میں سے 236 گرفتار ہو چکے ہیں۔ پانچ شہروں میں پھیلے ہوئے 600 افراد کب پکڑیں جائیں گے؟ ان کے خلاف چالان کب سامنے آئے گا؟ عدالتی کارروائی کیا ہو گی؟ مقدمہ کتنا طویل ہو گا؟ ہم سب کو پتہ ہے اس معاملے میں آگے کیا ہو گا۔ اگر دو چار کو سزا دے بھی دی تو ان کو مذہبی عناصر کی جانب سے عزت کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچانے کے عمل کو ریادت کیسے روک پائیں گی؟ ہم نے پچھلے چند سالوں میں ہجوم کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے ان معاملات پر اتنی مرتبہ استعمال کیا ہے کہ اب یہ سند یافتہ نظریاتی کارکنان بن چکے ہیں۔
