گورنر نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کر دیئے

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کر دیئے۔گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ محمود خان اور قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی کو ارسال کیے گئے اسمبلی تحلیل کرنے کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کے پی اسمبلی اور صوبائی کابینہ کو آئین کے آرٹیکل 112 کی شق ون کے تحت فوری طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئین کے آرٹیکل 112(1) کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری 17 جنوری کو گورنر کو ارسال کی تھی، قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر صوبائی اسمبلی تحلیل کر دے گا اور اگر وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو 48 گھنٹے کے بعد اسمبلی از خود تحلیل ہو جائے گی۔
گورنر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر وزیر اعلیٰ محمود خان اور قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی کی مشاورت کے ساتھ گورنر کی جانب سے کیا جائے گا، اس سلسلے میں گورنر نے ہدایت کی ہے کہ وہ 21 جنوری تک اس عہدے کے لیے اپنے نامزد امیدواروں کے نام فراہم کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ نگران وزیراعلیٰ کے تقرر تک محمود خان صوبے کے روزمرہ کے امور انجام دینے کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہیں گے اور ذمے داریاں نبھاتے رہیں گے۔
گورنر کے دستخط کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل ہو گئی ہے، اس سے قبل وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپنی ٹوئٹ میں سمری بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے۔اس سے قبل اتوار کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قائد عمران خان کے حکم کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کے لیے سمری بروز منگل گورنر کو ارسال کردی جائے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ ان شااللہ تحریک انصاف دوتہائی اکثریت سے دوبارہ حکومت میں آئے گی، اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی گزشتہ ماہ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن پنجاب کی صورتحال واضح ہونے تک یہ فیصلہ مؤخر کردیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس وقت کہا تھا کہ ابھی پنجاب اسمبلی کے معاملے پر غور جاری ہے، پارٹی قیادت اور عمران خان پنجاب اسمبلی کا فیصلہ کریں گے اور اس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل پر بات ہوگی۔یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے اعلان کے مطابق پنجاب اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی اور عمران خان نے کہا تھا کہ اس کے بعد خیبرپختونخوا کی اسمبلی تحلیل کردی جائے گی، اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ہفتے کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ عمران خان کا اشارہ ملتے ہیں اسمبلی تحلیل کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ میں پارٹی کا ادنیٰ کارکن ہوں، میری کیا حیثیت کہ عمران خان اشارہ کریں اور میں کہوں نہیں میں یہ نہیں کر رہا، ان کا کہنا تھا کہ جب وقت آئے گا تو ہم اسمبلی تحلیل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے 11 جنوری کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگلے روز صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیئے تھے اور سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی تھی۔بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سمری پر دستخط نہیں کیے تھے اور یوں اسمبلی خود تحلیل ہو گئی تھی۔
