آرمی چیف کا فیملی ڈیٹا لیک کرنے والوں کیخلاف کارروائی شروع

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تقرری روکنے کی خاطر پچھلے برس ان کے خاندان کا ڈیٹا لیک کروانے میں ملوث نیٹ ورک میں ملوث ملزمان انجام کو پہنچتے نظر آتے ہیں ۔سینئر صحافی عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے اہل خانہ کا ڈیٹا غیر مجاز انداز سے حاصل کرنے پر عدالت میں اپنے چار ملازمین کیخلاف فوجداری شکایت درج کرادی ہے۔ جس کے بعد ملزمان کیخلاف فوجداری کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ ڈیٹا کی چوری آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے تقرر سے کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی اور اس ڈیٹا کو ایف آئی اے کے امیگریشن ریکارڈ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا کہ فیملی نے کن ملکوں کا سفر کیا تھا۔ابتدائی طور پر 8؍ اہلکاروں کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا اور ان میں سے 6؍ کیخلاف انوسٹی گیشن کی گئیں تاکہ انکوائری کی جا سکے جس ڈائریکٹر رینک کے ایک افسر سید امیر حسین بخاری سمیت چار ملازمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ان ملازمین کیخلاف شکایات نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن 31 کے تحت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کی گئی ہیں۔
شکایت میں قرار دیا گیا ہے کہ ملزمان نے شہریوں کے ڈیٹا تک غیر قانونی اور غیر مجاز انداز سے رسائی حاصل کرکے واضح طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، اور یہ اقدامات نادرا ایمپلائز سروس ریگولیشنز 2002 کے ضابطہ نمبر 3 کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام نادرا آرڈیننس کے سیکشن 30 (1) (f) کے تحت جرم ہے۔ لہذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ خبر سب سے پہلے جیو نیوز کے اعزاز سید نے بریک کی تھی۔ اس پر نادرا نے ڈیٹا لیک کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب اُس وقت ادارے کے چیئرمین طارق ملک بیرون ملک تھے۔انہوں نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا تھا۔قصور وار قرار دیے جانے والے ملازمین کیخلاف چیئرمین کی ہی نگرانی میں شکایت مجسٹریٹ کے پاس درج کرائی گئی۔
نادرا کے ڈائریکٹر کے علاوہ تین جونیئر ملازمین کو اس واقعے میں ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر عامر نے اسلام آباد سے آرمی چیف کی فیملی کے دو ارکان کی تفصیلات حاصل کیں جبکہ دیگر ملازمین نے کوہستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہلو میں اپنی متعلقہ پوسٹنگ کے مقامات سے ایسا کیا۔ نادرا نے انکشاف کیا کہ آرمی چیف کے فیملی ریکارڈ تک اس کے سسٹم کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کی گئی، یہ اقدام اس وقت بینکوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز جیسے 9 دیگر اداروں نے بھی کیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ان اداروں سے جن لوگوں نے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی تھی ان کی نیت کا تعین کرنے کیلئے کسی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں۔نادرا کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے ساتھ انکوائری رپورٹس بھی منسلک کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر عامر کیخلاف ٹھوس شواہد ملے ہیں کیونکہ انہوں نے آرمی چیف کی فیملی کے دو شناختی کارڈ کی تفصیلات اپنے ایک ماتحت رحمان محمود بٹ کو ٹیکسٹ کیے تھے۔
معلومات حاصل کرنے کے بعد اس نے ان کے پاسپورٹ نمبر مانگے۔ انہوں نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ کوئی شخص فیملی ٹری کے بارے میں پوچھنے آیا تھا کیونکہ ان کے خاندان کا ایک فرد ڈیٹا سے غائب تھا اور اس نے یہ معاملہ محمود بٹ کو معمول کے سوال کے طور پر ریفر کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پاسپورٹ نمبر کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ پیغام محمود بٹ کو غلط طور پر بھیجا گیا تھا، یہ پیغام ان کی اہلیہ کیلئے تھا کیونکہ ان کا خاندان بیرون ملک جانے والا تھا اور انہیں کچھ مدد کی ضرورت تھی۔تاہم اس ڈیٹا لیک کے ماسٹر مائنڈز کے حوالے سے تاحال تحقیقات جاری ہیں
یاد رہے کہ اکتوبر 2022 میں پانچ سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کا پاکستان کے نئے آرمی چیف کے عہدے کے لیے مقابلہ تھا۔ اس دوران نادرا کے ایک جونیئر ڈیٹا انٹری آپریٹر فاروق احمد نے مبینہ طور پر جنرل عاصم منیر شاہ کے خاندان کی خاتون رکن کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی اور خاندان کی تفصیلات اور شناختی کارڈ نمبر اکٹھے کیے۔ اس ڈیٹا کو بعد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم میں خاندان کے بین الاقوامی سفری مقامات کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا گیا، موجودہ وزیراعظم نے جھوٹے دعوے کے ماخذ کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا جو حکام کو نادرا میں غیر قانونی ڈیٹا رسائی تک لے گئی۔
نتیجے کے طور پر نادرا کے ملازمین فاروق احمد (جونیئر ایگزیکٹو)، رحمان بٹ (ڈپٹی ڈائریکٹر)، رشید احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر)، سیف اللہ (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر)، ساجد سرور (اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ) اور ایم علی (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کو معطل کر دیا گیا تھا اور چیئرمین نادرا طارق ملک نے ان کے خلاف انکوائری کا حکم جاری کیا تھا۔ ابتدائی طور پر انکوائری کی نگرانی ریٹائرڈ بریگیڈیئر خالد لطیف نے کی، جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے قریبی ساتھی پائے گئے، بعد میں لطیف کو مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے
اربوں کے اثاثے، جسٹس محسن کیانی بھی نشانے پر آ گئے
سینئر افسر علی جاوید سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔
