بشری بی بی پر بنی گالہ منتقلی کی مہربانی کیوں کی گئی؟

سابق وزیر اعظم عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا کے بعد گرفتار کرکے بدھ کی شام عمران خان کی پرتعیش رہائش گاہ بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر پنکی پیرنی کو وہاں منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم بشری بیگم کو اڈیالہ کے بجائے بنی گالہ میں ہی رکھنے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بشری بی بی کی بنی گالہ منتقلی بارے پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کا کہناہے کہ عمران خان کی اہلیہ کو ان کے گھر کو سب جیل قرار دے کر وہاں رکھا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے عام کارکنان خصوصاً خواتین عام جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بشری بی بی کی بنی گالہ منتقلی پی ٹی آئی عمرانڈوز کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو ملک میں یکساں نظام انصاف کا واویلا کرتے اور دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم  دوسری جانب بعض مبصرین بشری بی بی کی بنی گالہ منتقلی کو کسی ڈیل سے جوڑتے بھی نظر آتے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی حلقے ایسی افواہوں کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بدھ کے روز توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 14، 14 سال قید کی سزا اور مجموعی طور پر ایک ارب 57 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق جیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی کو قیدی کے طور پر خواتین قیدیوں کی بیرک میں منتقل کرنے کے بجائے انھیں کچھ وقت کے لیے ایک کمرے میں بٹھایا گیا اور جب بدھ کی شام اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بنی گالہ میں واقع گھر کے رہائشی حصے کو سب جیل قرار قرار دینے کا نوٹیفکشن جاری کیا تو بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل حکام نے اپنی تحویل میں بنی گالہ منتقل کر دیا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی با اثر ملزمان کے گھروں کو ہی سب جیل قرار دیتے ہوئے انھیں وہاں پر قید رکھنے کی مثالیں موجود ہیں۔اسی طرح تھری ایم پی او کے تحت مختلف سیاسی قائدین اور اہم شخصیات کی گھروں میں نظربندی کے سینکڑوں نوٹیفکیشن جاری ہو چکے ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس یہ اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی جگہ کو سب جیل قرار دے کر کسی شخص کو وہاں قید رکھ سکتے ہیں۔فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل ذوالفقار عباس نقوی کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 541 کے تحت یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب وجوہات کی بنا پر کسی بھی مناسب جگہ کو سب جیل قرار دے کر سزا یافتہ مجرم کو وہاں مقید رکھنے کے احکامات جاری کر سکتی ہیں۔

 تاہم دوسری جانب نیب کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کے پاس ضابطہ فوجداری کے تحت کسی بھی جگہ کو سب جیل قرار دینے کا اختیار ضرور ہے لیکن جیل رولز میں ایسی کوئی بھی شق نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ کسی سزا یافتہ مجرم کو قید کی مدت پوری کرنے کے لیے اس کے گھر کو ہی سب جیل قرار دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ خواتین قیدیوں میں اگر کوئی سنگین جرم میں ملوث قیدی نہ ہو تو اُن کو جیل کے اندر ہی بی کلاس دینے کے علاوہ صرف یہ سہولت دی جاتی ہے کہ رات کو اُن کے کمرے کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے تاہم وہ خواتین قیدی جو سنگین جرائم قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، ڈکیتی وغیرہ کی بنیاد پر سزا یافتہ ہوں انھیں یہ سہولت بھی نہیں دی جا سکتی۔ذوالفقار بھٹہ کے مطابق جہاں تک انھیں علم ہے ملکی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی مجرم کو سزا کاٹنے کے لیے اُن کے گھر ہی میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے کا فیصلہ کرنے والوں نے بظاہر قانون سے زیادہ سیاسی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ اُن میں اور عمران خان میں بہت فرق ہے کیونکہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم دورِ اقتدار میں نیب کے ہی مقدمات میں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں رکھا گیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی دیگر خواتین بھی لاہور کی جیلوں میں قید ہیں تاہم وہ نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں قید ہیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرف بھٹو کو بھی جیلوں میں رکھا گیا اور اُس وقت بھی اگرچہ یہی قوانین موجود

PTI نے انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان کر کے یوٹرن کیوں لیا؟

تھے مگر کوئی ایسا اقدام نہیں لیا گیا۔

Back to top button