عمران خان کی نام نہاد پارسائی کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟

71 سالہ بانی پی ٹی آئی کو دو روز میں دو مختلف جرائم میں سنائی جانے والی لمبی سزاؤں کے بعد جہاں عمران خان کی پارسائی اور معصومیت کا بت پاش پاش ہو گیا ہے وہیں سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ سائفر کیس کے بعد توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کتنا وقت جیل میں گزاریں گے؟ سابق وزیر اعظم 14؍ سال قید کی سزا بھگتیں گے یا 24؍ سال کیونکہ انہیں سائفر کیس میں بھی 10سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے کے مطابق عمران خان کی سزا مجموعی سزا کے بجائے ایک ساتھ یعنی کنکرنٹ ہوگی۔ تاہم جج کو اپنے فیصلے میں یہ بتانا ہوگا کہ قید کی سزا مجموعی ہوگی یا مجرم ایک ساتھ سزائیں بھگتے گا۔
خیال رہے کہ ایک ساتھ قید وہ سزا ہے جو بیک وقت بھگتی جاتی ہے جبکہ مجموعی سزا وہ ہے جو اس وقت تک شروع نہیں ہوتی جب تک کہ پہلے سنائی گئی سزا ختم نہ ہو جائے۔
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کے مطابق عدالتوں کو اپنے فیصلے میں یہ بتانا ہوگا کہ سزا ایک ساتھ ہوگی یا مجموعی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے کیس میں اگر عدالت اسے ایک ساتھ سزا قرار دیتی ہے تو عمران خان کو زیادہ سے زیادہ 14 سال جیل میں گزارنے پڑیں گے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق عموماً قانون یہ کہتا ہے کہ عدالت اس وقت تک ایک ساتھ سزائیں سناتی ہے جب تک کہ کوئی پیشہ ور مجرم یا انتہائی مطلوب دہشت گرد نہ ہو۔ عمران خان کے کیس میں یہ ایک ساتھ سزا ہوگی اور انہیں صرف زیادہ سے زیادہ سزا بھگتنی ہوگی۔ ےاہم اگر عدالتیں کسی وجہ سے یہ واضح نہیں کرتی ہیں کہ سزا ایک ساتھی ہوگی یا مجموعی تو ایسی صورت میں وکیل ضابطہ فوجداری کے سیکشن 561 کے تحت ایک ساتھ یعنی کنکرنٹ سزا پر فیصلہ سنانے کیلئے درخواست دائر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق سائفر کیس می
ں 10سال قید بامشقت کی سزا کے دوسرے ہی دن عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال کی قید کی سزا سے عمران خان کا صادق وامین کا ٹائٹل دھندلاگیا ہے کیونکہ قیمتی تحائف کی کم قیمت لگوا کر قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر سزاسے یوتھیوں کو صد مہہوا ہے کیونکہ وہ عمران خان کو صا دقاور امین سمجھ کر پسند کرتے تھے . سزا کے بعد جہاں عمران خان کا صا دق وامین کا ٹائٹل دھندلاگیا ہے وہیں 10 سال کیلئے عوامی عہدہ کیلئے نااہلی کے بعد عمران خان کی فعال سیا ست کا باب بھی بند ہو گیا ہے۔
دوسری جانب سزا یافتہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقلی بارے سیا سی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو صرف اتنا یاد رکھنا چا ہئے کہ یہ رحمدلی جو سزا یافتہ سابق وزیر اعظم کی سزا یافتہ اہلیہ کے ساتھ کسی طاقتور شخصیت نے کی ہے ۔یہ رحمدلی میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور آصف زرداری کی بہن فریال تالپور سے نہیں کی گئی تھی۔مریم نواز شریف نے ریسٹ ہا ؤس منتقل کرنے کی پیش کش کو منع کر دیاتھا۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ماضی میں اپنی تقاریر میں خود عمران خان کہاکرتے تھے کہ ماضی کی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ وہاں غریب کیلئے قانون الگ تھا اور امیر کیلئے الگ ۔ دوسری جانب سیا سی حلقوں کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس دراصل خیانت کا کیس ہے ۔ اس سزا سے عمران خان کو ملنے والا صادق اور امین کا ٹائٹل دھندلاگیا۔ عمران خان جہاں اس فیصلے سے اخلاقی طور پر کمزور وکٹ پر چلے گئے ہیں وہاں انہیں ووٹ بنک میں کمی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ عمران خان کو 10سال کیلئے عوامی عہدہ کیلئے نااہل قرار دینے سے ان کا فعال سیا ست کا باب وقتی طور پر بند ہو گیا ۔مسلسل دوسری سزا سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان سزاؤں کے نہ صرف الیکشن بلکہ عمران خان کے سیا سی کیر یئر اور پارٹی کے مستقبل پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
