یوتھیے وکلاء نے خود عمران خان کو سزا کیسے دلوائی؟

عمران خان کی سائفرسازش اور توشہ خانہ کیس میں سزائیں سیاسی و عوامی حلقوں میں زیر بحث ہیں جہاں ایک طرف عمرانڈو عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزاؤں کو قانون و انصاف کا قتل اور سیاسی انتقام قراردے رہے ہیں وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم عمران خان کی مقدمات میں صفائی پیش کرنے میں ناکامی پر تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کیخلاف دیگر کیسز کخ طرح ان دونوں کیسز میں سزا دلوانے کی اصل ذمہ داری عمران خان کی وکلاء ٹیم پر عائد ہوتی ہے کیونکہ عمران خان کی صفائی پیش کرنے کی بجائے پی ٹی آئی وکلاء کا زیادہ زور اس بات پر رہا کہ کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے سائفر اور توشہ خانہ کیسز کو لٹکائے رکھیں تاہم ان کی تمام تدبیریں الٹی پر گئیں اور عمران خان اپنی مرشد کے ہمراہ 14 سلا کیلئے سلاخوں کے پیچھے جا چکے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کے وکلا نے سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس کو بھی فارن فنڈنگ کیس سمجھ لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح تاخیری حربے استعمال کر کے فارن فنڈنگ کیس کو آٹھ سال تک لٹکایا گیا تھا۔ یہی چال سائفر کیس اور تو شہ خانہ کیس میں بھی کار گر رہے گی۔ لیکن وکلا اور ان کا مؤکل یہ بھول گئے کہ فارن فنڈنگ کیس میں تاخیری حربے اس لئے کامیاب رہے کہ تب ہوا کا رخ عمران خان کے حق میں چل رہا تھا۔ اب ہوا کا رخ تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک فیز تھا جو گزر گیا۔ لاڈلے پن کا طویل عمل اختتام پذیر ہو چکا۔ تاہم اب تک پی ٹی آئی ذہنی طور پر اس تلخ حقیقت کو تسلیم نہیں کر پارہی ۔عمران خان کے پیروکار اب بھی ان خوابوں میں جی رہے ہیں کہ عمران خان جیل سے نکل کر سیدھا وزیر اعظم ہاؤس جائے گا اور حلف اٹھالے گا۔
دوسری جانب تحقیقات کے مطابق آٹھ برس جاری رہنے والے فارن فنڈنگ کیس میں دوسو سے زائد پیشیاں ہوئیں ۔ پی ٹی آئی نے تیرہ رٹ پٹیشنز کیں۔ نو وکلا تبدیل کیے گئے۔ حتی کہ الیکشن کمیشن پاکستان بھی چلا اٹھا۔ اپنے دس اکتوبر دو ہزار انیس کے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے لکھا کہ اس کیس میں پی ٹی آئی کے وکلا نے تاریخی تاخیری حربے استعمال کیے۔ یہی تاخیری حربے پی ٹی آئی کے وکلا نے سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں اختیار کرنے کی کوشش کی۔ سائفر کیس کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے وکلا گواہوں پر جرح سے بھاگتے رہے۔ مسلسل چار سماعتوں میں پی ٹی آئی کے وکلا جرح کے لئے موجود نہیں تھے۔ ان کے جونیئر یا معاون وکلا ہر بار عدالت سے التوا کی درخواست کرتے جو قبول کر لی جاتی۔ دوسری جانب جرح کے لئے گواہ علی الصبح عدالت پہنچ جاتے۔ حج ابوالحسنات ذوالقرنین بھی وقت پر آجاتے۔ اور پھر پی ٹی آئی کے وکلا کا انتظار شروع ہوجاتا۔ وکلاء تو نہیں پہنچتے تھے۔ ان کے معاون وکلا آکر التوا کی درخواست کر دیتے۔ نتیجتاً گواہوں کو واپس جانا پڑتا۔ ان گواہوں میں سے بعض گواہ بیرون ملک سے گواہی کے لیے آئے تھے۔ کچھ سرکاری ملازمین تھے۔ سب کا وقت برباد ہورہا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی کے وکلا کے تاخیری حربے جاری رہے۔ آخر کارحج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ التوا کی مزید درخواست مسترد کر دی گئی۔ جج نے اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے وکلا صفائی کا رول سرکاری وکلا کے سپر د کیا تو ملزمان اور ان کے وکلا کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ مختلف بہانوں سے جرح سے گریز اور عدالتوں سے غیر حاضر رہنے والے وکلا کو جب احساس ہوا کہ گیم ہاتھ سے نکل گئی ہے اور اب ان کے تاخیری حربے کام نہیں آئیں گے تو فیصلہ کن مرحلے میں وہ بھاگم بھاگ عدالت پہنچے اور دہائی دینے لگے کہ انہیں جرح کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب جج کی باری تھی۔ ملزمان کے وکلا کو عدالت میں آنے کی اجازت نہ ملی۔ اس طرح پی ٹی آئی وکلاء کی ساری تدبیریں الٹی ہو کر ان کے اپنے ہی گلے پڑ گئیں۔
سرکاری وکلا نے بطور وکلا صفائی گواہوں پر جرح کا عمل مکمل کیا۔ ملزمان عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے 342 کے بیانات قلمبند کیے گئے اور دونوں کو دس دس برس قید با مشقت کی سزا سنادی گئی۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزموں کی زبانی ان کا موقف سنا جاتا ہے۔ ملزم اگر اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہہ سکتا ہے جسے 342 کا بیان کہا جاتا ہے۔ سائفر کیس میں عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے واویلا کیا جارہا ہے کہ سزا عجلت میں سنائی گئی اور یہ کہ ملزمان کے وکلا کو جرح کا حق نہیں دیا گیا۔ یوں تصویر کا صرف ایک رخ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی کے وکلا تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے خود ہی جرح سے بھاگ رہے تھے اور عدالت سے مسلسل غیر حاضر رہے۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا پی ٹی آئی کی چالبازیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سائفر کیس میں پی ٹی آئی تاخیری حربے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ عدالت نے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سرکاری وکیل دفاع کا تقرر کیا“۔ توشہ خانہ کیس میں بھی پی ٹی آئی مسلسل تاخیری حربوں کا استعمال کرتی رہی۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف جاری اس کیس میں پی ٹی آئی نے دس وکیل تبدیل کیے۔ دوسری جانب سانفرکیس کی طرح اس کیس میں بھی پی ٹی آئی وکلا گواہوں پر جرح سے بھاگ رہے تھے۔ مقصد کیس کو زیادہ سے زیادہ وقت کے لئے لٹکانا تھا۔ لیکن اب ہواؤں کا رخ بدل چکا۔ لہذا اس کیس میں بھی تاخیری حربوں کی کوشش ناکام رہی۔ عدالت کے حج محمد بشیر نے تنگ آکر ملزمان عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کا جرح کا حق ختم کر دیا۔ بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان پہلے ہی قلمبند کیا جا چکا تھا۔ عمران خان کا بیان بدھ کو لیا گیا اور اس کے بعد دونوں میاں بیوی کو چودہ ، چودہ برس قید با مشقت کی سز اسنادی گئی۔ اب اس سزا کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی اور اس کے ہمدرد ثبات کا جواز تراش رہے ہیں۔ لیکن یہ ذکر نہیں کر رہے کہ کس طرح کیس کو لٹکانے کے لئے پی ٹی آئی وکلا تاخیری حربے استعمال کر رہے تھے اور اس چال کو کامیاب بنانے کے لئے انہوں نے مختصر عرصے میں دس وکیل تبدیل کیے۔ لیکن یہ چال کامیاب نہ ہو سکی۔ یوں الٹی ہو گئیں سب تدبیریں۔
تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں چودہ، چودہ برس قید بامشقت کی سزا سنائے جانے پر سوشل میڈیا بھی متحرک ہے۔ جہاں پی ٹی آئی کے ہمدرد سوشل میڈیا صارفین اس سزا کے خلاف تنقید کر رہے ہیں ۔ وہیں سزا کو حق بجانب سمجھنے والے سوشل میڈ یا صارفین اس سارے عمل کو مکافات عمل قرار دے رہے ہیں۔ معروف وکیل خالد حسین تاج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ (ایکس) پر پوسٹ کی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر تو شہ خانہ نیب ریفرنس میں ایک ارب ستاون کروڑ دس لاکھ روپے کی چوری ثابت ہوگئی ۔ یوں تحریک انصاف والوں کی یہ خواہش بھی حج محمد بشیر نے پوری کر دی جو کہ رہے تھے ہمارے کپتان کو کرپشن اور چوری پر سزا نہیں ہوئی۔ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جج محمد بشیر کو ہیرے کا لقب دیا تھا۔ اب وہ کیا کہیں گے“۔ معروف صحافی حسن ایوب نے بھی یہ طنزیہ ٹوئٹ کی
جتنے تعریفی کلمات ماضی میں خان صاحب نے حج محمد بشیر کے لئے ادا کیے ، ان کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانا کھلا تضاد ہوگا“۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائفر کیس کی طرح توشہ خانہ کیس میں بھی سزا کی توقع تھی لیکن اس کو سیاسی طور پر قبول کیا جائے گا .توشہ خانہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا،توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزائیں کوئی غیر متوقع نہیں تھیں بلکہ بااثر لوگوں کو علم تھا کہ 8فروری سے پہلے عمران خان کو دو تین کیسز میں سزا سنادی جائے گی
،جن جج صاحب نے یہ سزا سنائی وہ کئی وزرا اعظم کو سزائیں سنا چکے ہیں.
