نگران وزیر اعظم کون؟ تاحال فیصلہ کیوں نہ ہو سکا؟

حکومت کی مدت ختم ہونے میں ایک ہفتے سے بھی کم دن باقی رہ گئے ہیں جس کے بعد نگراں حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت کی آئینی مدت تو 12اگست کو ختم ہو رہی ہے تاہم حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ اسمبلی 8 یا 9 اگست تک تحلیل کر دی جائے گی تاہم ابھی تک نہ تو نگراں وزیراعظم کا نام فائنل کیا گیا ہے اور نا ہی کوئی نام تجویز کیے گئے ہیں۔ مدت ختم ہونے سے پہلے نگران وزیر اعظم کا تقرر حکومت کیلئے چیلنج بن چکا ہے،اتحادی حکومت کی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ نگران وزیراعظم کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم کے لیے حکومت اور اتحادیوں میں مشاورت بھی ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور آصف علی زرداری اس حوالے سے کئی بار مشاورت کرچکے ہیں اور رواں ہفتے حتمی نام کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی جانب سے نامزد کردہ نام وزیر اعظم کو پیش کیے جائیں گے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے مابین بدھ کو مشاورت کا امکان ہے۔اس حوالے سے اب 2 مزید نام بھی سامنے آئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم کے لیے سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو اور سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ نگران وزیر اعظم کے لیے گوہر اعجاز ،سابق جسٹس خلیل الرحمان رمدے اور نجم سیٹھی کے نام بھی پارلیمیںٹ کی راہداریوں میں گھونج رہے ہیں۔ صحافتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینٹر مشاہد حسین سید اور سابق وزیر داخلہ جاوید جبار بھی نگران وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل ہیں ۔قوی امکان یہی ہے کہ نگران وزیر اعظم کوئی سیاستدان ہی ہوگا ۔

دوسری طرف ڈان کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کخ اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے مبینہ طور پر نگران وزیراعظم کے لیے 5 ناموں کی فہرست کو حتمی شکل دے دی ہے جبکہ فہرست میں شامل تمام لوگ سیاستدان نہیں ہیں۔ اس سے قبل حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے نگران سیٹ اپ کی قیادت کے لیے ٹیکنوکریٹس کے بجائے سیاست دانوں میں سے کسی نام پر غور کرنے پر اتفاق رائے ظاہر کیا تھا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے نگران وزیر اعظم کے لیے 5 نام شارٹ لسٹ کر لیے ہیں، یہ سب نام سیاستدانوں کے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا تھا کہ امیدواروں کے ناموں پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا، تاہم حتمی فیصلہ اتحادی رہنما کریں گے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کریں گے۔اس صورتحال کے باوجود دونوں اتحادیوں کے درمیان جن ناموں پر اتفاق رائے پایا گیا، اس فہرست میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام بھی شامل ہے۔ وفاقی کابینہ کے ایک رکن کے مطابق سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کا نام نگران وزیراعظم کے لیے نامزد افراد میں شامل ہے۔

نگران وزیر اعظم کون ہوگا، یہ سوال کئی ہفتوں سے ملک کی سیاست میں زیر بحث ہے، اور اس حوالے سے کئی ناموں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔چند روز قبل وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا نام بھی بطور نگران وزیراعظم کے طور پر سامنے آیا تھا، ان کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ انہیں نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کا اعتماد حاصل ہے، اس لیے موجودہ وزیر خزانہ عبوری سیٹ اپ چلانے کے لیے بہترین شخص ہو سکتے ہیں۔ایک تاثر یہ بھی تھا کہ اسحٰق ڈار کا نام باضابطہ طور پر نامزد کرنے سے قبل دیگر اسٹیک ہولڈرز کا ردعمل دیکھنے کے لیے لیک کیا گیا، اس اقدام کا منفی اثر اس وقت سامنے آیا جب دیگر اتحادی شراکت داروں، خاص طور پر پیپلز پارٹی کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔اس کے علاوہ صحافی محسن بیگ اور سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے ناموں کی بھی اس عہدے کے لیے بازگشت سنی گئی، ان کے نام سامنے آنے کی وجہ ان افراد کی اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہونے کی شہرت کو بتایا گیا۔تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا اصرار ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ابھی تک عبوری وزیر اعظم کے لیے کسی امیدوار کا انتخاب یا اسے مسترد نہیں کیا۔

 نگران سیٹ اپ کا کام عام انتخابات کروانا ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے رہنما منظور وسان نے قوم کو ڈراؤنا خواب دکھا دیا ہے،کہتے ہیں کہ عام انتخابات وقت پر ہوتے نظر نہیں آرہے، امکان ہے نگران سیٹ اپ 2 سال تک چلے۔جبکہ پیش گوئی کی کہ نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سیاسی نہیں ہوں گے۔ سینئر صحافی و اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے بھی اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جس طرح حکومت فیصلے کررہی ہے لگتا نہیں کہ جلد انتخابات ہوں۔

Back to top button