نگران وزیر اعظم کی لسٹ میں کون ہوا ’ان‘ اور کون ’آؤٹ‘؟

نگران حکومت کا قیام محض چند دنوں کی دوری پر ہے اور اب نگران وزیراعظم کا فیصلہ بھی ایک یا دو دنوں میں سامنے آسکتا ہے متوقع نگران وزرائے اعظم کے ناموں کی جو فہرست کافی دنوں سے گردش میں تھی وہ تو پس منظر میں جاچکی ہے کیونکہ لسٹ میں شامل اسحاق ڈار، شاہد خاقان عباسی،نجم سیٹھی اور میاں عامر سمیت مختلف نام ڈراپ کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک بار پھر ایک سابق جج اور سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا نام بطور نگران وزیر اعظم سامنے آرہا ہے. وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کئے گئے ناموں کی فہرست میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا نام بھی شامل ہےاور یقیناً وہ یہ منصب سنبھالنے پر رضامند ہیں۔وزیر داخلہ کے مطابق نگران وزیر اعظم کیلئے کئی نام زیر گردش ہیں لیکن اس سلسلے میں فیصلہ منگل یا بدھ تک ہو جائے گا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر نگران وزیراعظم کوئی سیاسی رہنما نہیں ہو گا تو پھر کوئی ٹیکنیکل آدمی ہی یہ منصب سنبھالے گا جو قانون دان بھی ہو سکتا ہے معاشیات کا آدمی بھی ہو سکتا ہے۔
یادرہے کہ حفیظ شیخ حکومت کی دعوت پر بیرون ملک سے پاکستان آئےتھےاور کئی ماہ سےخاموشی سے اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے یا پھر قوم کے سامنے کوئی سرپرائز آئیگا۔
آئین اور قانون کے مطابق ملک میں نگران وزیراعظم کا منصب اپنے محدود اور طے شدہ اختیارات جن میں اولین ذمہ داری ملک میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا ہے اور روزمرہ کے معاملات چلانے ہوتے ہیں اسے اہم فیصلوں اور پالیسی سازی کیلئے منتخب حکومت جیسے اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔ اس لئے کسی بھی سیاستدان اور کسی دوسرے اہم شعبے کی شخصیات کیلئے اس منصب کے حصول میں کوئی غیر معمولی کشش نہیں ہوتی پھر یہ بھی احساس دامن گیر رہتا ہے کہ تین ماہ کا عرصہ نیک نامی سے گزار لیا جائے تاکہ کچھ اور بنے یا نہ بنے لیکن ایک ساکھ تو بن جائے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ نگران وزیراعظم کے منصب کے حصول کیلئے ملک بھر سے مختلف شعبوں کی لاتعداد شخصیات ناصرف غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں بلکہ اس مقصد کیلئے ان کی طرف سے سبقت لے جانے کیلئے وسائل اور تعلقات استعمال کرنے کی بھی خبریں آ رہی ہیں اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ابتدا سے ہی ان قیاس آرائیوں میں یقین کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی شامل ہوتا رہا کہ ملک میں عام انتخابات متعینہ مدت میں نہیں ہونگےاور یہی وجوہ ہیں کہ ابھی تک نگران وزیراعظم کے نام پربادی النظر میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
اس کی ابتدائی وجہ نگران حکومتوں کے اختیارات میں اضافے کا ایکٹ اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے قبل از وقت یعنی 9اگست کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ تھا اس کا مطلب یہ ہوا کہ نگران حکومت کی آئینی مدت اب چھ ماہ نہیں بلکہ آئینی طور پر 9ماہ ہوگی اور اسے بھی حتمی مدت نہیں کہا جا سکتا۔
قیاس آرائیوں کے مطابق نگران حکومت کا عرصہ کئی سالوں پر بھی محیط ہو سکتا ہے اور نئی نگران حکومت چھ ماہ،نو ماہ سے دو سال تک حکومتی امور انجام دیں گے اور ظاہر ہے کہ جب ’’نگران حکومت‘‘اتنے طویل عرصے کیلئے آئی بھی تو اس کے اختیارات میں بھی تجاوز کرنا ہوگا تو اسے آئین اور قانون سے تجاوز کر کے فیصلے کرنے ہونگے پھر پنجاب اور کے پی کے میں نگران حکومتوں کے قیام غیر معینہ مدت کی توسیع،اختیارات، اہم فیصلے اور کافی حد تک تعمیر وترقی کے کام ’’بخیروخوبی‘‘انجام دے رہے ہیں اور نہیں لگتا کہ دونوں صوبوں بالخصوص پنجاب میں کام کرنے والی حکومت ’’نگران حکومت‘‘ہے اس صورتحال سے نگران حکومت میں وزارت عظمیٰ اور نگران کابینہ کیلئے خواہش مندوں کو ترغیب اور جلا ملتی ہے
دوسری جانب مبصرین کے مطابق جہاں موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں محض چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں حکمراں اتحاد کے درمیان دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ نگراں سیٹ اپ کی مدت بڑھانے پر بھی مشاورت جاری ہے۔نگراں حکومت سے متعلق جاری مشاورتی عمل سے واقف ذرائع نے بتایا کہ نگراں حکومت کا دورانیہ دو سال تک بڑھانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس مشاورت کا حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق نگراں حکومت میں وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ اور دیگر اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے ناموں پر غور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ نگراں سیٹ اپ میں حکمراں اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سمیت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے الگ ہو کر بننے والی استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمینٹرینز کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ہہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ طویل مدتی نگراں حکومت کے قیام کا فیصلہ سیاسی اور معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔پاکستان میں نگراں حکومت کی مدت کو طول دینے کی قیاس آرائیاں کافی عرصے سے گردش کر رہی ہیں اور حکومتی رہنما اس کی واضح تردید سے اجتناب برتتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کر رکھا ہے کہ قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت کی تکمیل سے چند دن قبل یعنی نو اگست 2023 کو تحلیل کر دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق ملک میں تین ماہ یعنی نو نومبر 2023 سے قبل انتخابات کا انعقاد ہونا لازم ہو گا۔لیکن ہفتے کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی منظوری دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اب نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی جس کے باعث الیکشن کمیشن وقت پر انتخابات نہیں کرا سکے گا۔الیکشن کمیشن یہ واضح کر چکا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کے لیے تین سے پانچ ماہ کا اضافی وقت درکار ہو گا جس کے بعد 90 دن میں عام انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں جنوری سے ہی نگراں حکومتیں کام کر رہی ہیں جن کی میعاد انتخابات کرانے کی آئینی مدت یعنی 90 روز سے بھی کئی ماہ بڑھ چکی ہے۔نگراں حکومت کی مدت کے حوالے سے بھی پاکستان میں قانونی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔بعض ماہرین کہتے ہیں کہ 90 روز کے اندر الیکشن کرانا آئینی تقاضا ہے جب کہ بعض ماہرینِ قانون کہتے ہیں کہ مخصوص حالات میں نگراں حکومت کی مدت میں آضافے کی گنجائش ہے۔
