مستقبل کے وزیر اعظم اور وزراء اعلی کہاں کہاں سے الیکشن لڑیں گے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں الیکشن کی سرگرمیاں بڑھنا شروع ہو چکی ہیں. ملک کے آئیندہ وزیر اعظم اور متوقع وزراء اعلی سمیت چوٹی کے سیاستدانوں نے نے ایک یا ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑنے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے. اس ضمن میں ملک بھرمیں عام انتخابات کیلئے کا غذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ بدھ بیس دسمبر سے شروع ہو چکا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کے احکامات جاری کردیئے ۔ذرائع کا کہنا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور کے این اے 130 اور این اے 15مانسہرہ سے الیکشن لڑیں گے جبکہ سبق وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور کے این اے 123 اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پی پی 158کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ہیں‘ شہباز شریف نے کراچی کے حلقے این اے 242 سے بھی کاغذات وصول کرلیے ‘ مسلم لیگ نون کی چیف ارگنایزر مریم نواز این اے 119 کے ساتھ ساتھ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کے لئے الیکشن لڑیں گی۔ سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز این اے 118 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کے تین حلقوں ، لاہور ،میانوالی اور اسلام آباد سے الیکشن لڑیں گے‘سابق صدر مملکت آصف زرداری نواب شاہ ‘ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ . جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور فیصل کنڈی این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان سے میدان میں اتریں گے۔ سابق صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے این اے 119، پی پی 149 اور پی پی 150‘شعیب صدیقی نے این اے 119 ‘شفقت محمود نے این اے 128 ‘ ڈاکٹر یاسمین راشد نے پی پی 174 اور میاں اسلم اقبال نے پی پی 171 سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔سیالکوٹ سے سا بق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ایک قومی اور دو صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جبکہ سیالکوٹ سے سا بق وفاقی وزیرڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی این اے 70 سے کاغذات وصول کیے ہیں۔ سابق وفاقی وزیرجہانگیر ترین کی بیٹی مہر خان ترین نے این اے 155 اور پی پی 227 سے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 30 ہزار روپے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 20 ہزار روپے ناقابل واپسی فیس جمع کرائی جانی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2024 کیلئے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا جس کے مطابق سیاسی جماعتیں‘ امیدواران اور الیکشن ایجنٹ نہ ہی کسی ایسی رائے کا اظہار کریں گے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کریں گے جو کسی بھی انداز میں نظریہ پاکستان یا پاکستان کی خود مختاری، سالمیت اور سلامتی کے خلاف ہو یا اخلاقیات یا امن و امان کے خلاف ہو یا جس سے عدلیہ کی آزادی یا خود مختاری متاثر ہو یا جس سے عدلیہ یا افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان ہو یا اس سے ان کی تضحیک کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق صدر، وزیراعظم‘سینیٹ کے چیئرمین‘ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر، ڈپٹی سپیکر، وفاقی اور صوبائی وزراء، گورنرز، وزراء اعلیٰ، میئر، چیئرمین، ناظم، مشیران کسی بھی حلقہ انتخاب کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے تاہم ممبران سینیٹ و لوکل گورنمنٹ کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی۔

افغان حکومت مولانا فضل الرحمن کی ثالثی پر کیوں مجبور ہوئی؟

Related Articles

Back to top button