ڈیفالٹ کا خطرہ ختم، پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرتے رہیں گے

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ختم ہو گیا، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ایسے ہی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

آرمی چیف نے کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران ان کو ملک میں معاشی استحکام کی یقین دہانی کرائی، ملاقات کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف پوری ملاقات کے دوران پرامید نظر آئے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پا لیا جائے گا۔

انہوں نے کاروباری افراد سے کہا کہ وہ پرعزم اور پراعتماد رہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق، آرمی چیف نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو بتایا کہ قوم پر مشکلات آتی ہیں اور ہمیں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن بدتر حالات کو ہم پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور ہم قائم و دائم رہیں گے۔

جنرل عاصم نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا اور شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان موجودہ امتحان میں کامیاب ہو جائے گا۔ملاقات میں شامل ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ کاروباری افراد نے آرمی چیف سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ وزیر خزانہ کو آرمی چیف نے سیشن میں شرکت کیلئے مدعو کیا تھا۔ کاروباری افراد نے اس ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔

آرمی چیف اور وزیر خزانہ نے کاروباری افراد کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط کو پورا کر دیا گیا ہے اور چند روز میں ہی معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ معیشت میں تیزی لانے کیلئے دوست ممالک سے کیے جانے والے معاہدوں کو بھی دستاویزی شکل دی جائے۔

کاروباری افراد کو بتایا گیا کہ دوست ممالک نے بھی وعدے کیے ہیں کہ وہ زراعت، کان کنی اور آئی ٹی کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری کریں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ ان ممالک سے پیشگی سرمایہ (ایڈوانس ایکوئٹی) ملے گا۔ یہ کہا گیا کہ سول اور ملٹری قیادت نے مل کر دوست ممالک کو اس سرمایہ کاری کیلئے قائل کیا۔

ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے کاروباری افراد نے سوال کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کو ایک جگہ بٹھانے کیلئے کوشش کیوں نہیں کر رہی تاکہ ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کاروباری افراد نے آرمی چیف کو بتایا کہ قوم توقع کرتی ہے کہ فوج معاشرے میں مزیدافرا تفری اور تفریق کی اجازت نہیں دے گی۔آرمی چیف سے ملاقات کیلئے آئے ان دس کاروباری افراد میں سے پانچ کا تعلق کراچی جب کہ پانچ کا لاہور سے تھا۔

سیاست دانوں کی نفسیاتی الجھنیں

Back to top button