عمران خان نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر کیا لچ تل رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد اہم فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہو جانے کے باوجود عمران خان کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ وہ اگلے آرمی چیف کے انتخاب پر بھی اثر انداز ہوں اور اسی وجہ سے اب انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ فوری طور پر نئے الیکشن کروانے میں ناکامی کی وجہ سے عمران آرمی چیف کی سلیکشن کے عمل میں آئینی اعتبار سے قطعاًغیر متعلق ہو چکے ہیں لیکن وہ یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہو رہے اور زبان کے زور پر اپنا لچ تلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیصل آباد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نئے چیف کی ”تعیناتی“ کے حوالے سے عمران ”ویٹو“ جیسا اختیار استعمال کرنے کو بے چین سنائی دیے۔ لیکن نئے چیف کی ”تعیناتی“ کے حوالے سے ریاست کا طاقت ور ترین ادارہ انکی جانب سے ایسے اختیار کی طلب ہضم کرنے کو آمادہ نہیں ہوگا۔ تاہم عمران نے پتہ کھیل دیا ہے، بات چل نکلی ہے لہٰذا دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اپنی ذات کے گنبد میں بند خود پسند عمران کو اقتدار سے بے دخلی کا جھٹکا ہضم نہیں ہو رہا۔ رواں برس کے اپریل میں تحریک عدم اعتماد کی بدولت وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد اپنے دعوے کے مطابق ”مزید خطرے ناک“ بن چکے ہیں۔ ساڑھے تین کروڑ پاکستانی گزشتہ کئی دنوں سے ریکارڈ بناتے ہیں سیلاب کی وجہ سے بے گھر و بدحال ہیں۔ بے تحاشا مقامات پر غذائی رسد اور فوری طبی امداد پہنچانے میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے قائد سیلاب سے بچے شہروں میں جلسے پہ جلسہ کئے چلے جارہے ہیں۔ خان نے سیلاب میں جلسوں کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ وہ حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جو کسی بھی وجہ سے روکی نہیں جا سکتی۔ لیکن ان جلسوں کے ذریعے عمران خان آئندہ انتخاب کے دوران اپنے نامزدہ کردہ افراد کی جیت بھی یقینی بنانا چاہ رہے ہیں۔ وسطی پنجاب میں عمران کی وجہ سے نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا ”ووٹ بینک“ فضا میں تحلیل ہورہا ہے۔ بطور سیاستدان عمران اس کا بہت مہارت سے فائدہ اٹھانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ان کے رویے کو انسانی دکھوں سے لاتعلق ٹھہراتے ہوئے تنقید کی زد میں لانا سادہ لوحی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اندھی نفرت و عقیدت آپ کو تخت یا تختہ والی جنگ کے لئے یکسو ہونے کو مجبور کرتی ہے۔ آپ اپنے ”ویری“ کی کامل شکست ورسوائی کے علاوہ کسی اور معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ کوئی پسند کرے یا نہیں عمران نے اپنے ”ویری“ کے خلاف نفرت سے مغلوب ہوا ایک بھرپور جتھہ تیار کرلیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ وہ کب ”لشکر“ کی صورت اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ آور ہو گا اور پاکستان کو ”حقیقی آزادی“ کی جانب لے جانا شروع ہو جائے گا۔ لیکن گزشتہ چند دنوں سے مجھے گماں ہو رہا ہے کہ ”حقیقی آزادی“ کا حصول اب عمران خان کایک وتنہا ہدف نہیں رہا۔ کائیاں سیاست دان کی طرح وہ اپنے حتمی ہدف تک پہنچنے کے لئے مختلف مراحل کی نشان دہی کے بعد انہیں عبور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حتمی ہدف کے تناظر میں رواں برس کا نومبر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس مہینے ریاست کے اہم ترین ادارے کی سربراہی کا فیصلہ ہونا ہے۔ خان صاحب کی لہٰذا اولین ترجیح یہ تھی کہ انہیں اس ماہ سے قبل صاف شفاف انتخاب مل جاتے۔ انہیں کامل یقین تھا کہ مطلوبہ انتخاب ان کی جماعت کو بآسانی دوتہائی اکثریت فراہم کردیں گے۔اس کی بدولت وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹنے کے بعد ہماری تاریخ کے طاقت ور ترین سیاستدان ثابت ہوں گے۔ان کے اختیار کا اولین اظہار نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی بدولت بھرپور انداز میں ہمارے سامنے آ جائے گا۔

مگر عمران خان فوری انتخاب کا ہدف حاصل نہیں کر پائے۔ خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت 2013 سے برسر اقتدار ہے۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب میں انہیں یہ موقع 2018 میں نصیب ہوا۔انہیں وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دینے کے بعد مسلم لیگ (نون) نے پنجاب بھی ان سے چھیننا چاہا۔ طویل سیاسی اور عدالتی کشمکش کی وجہ سے مگر یہ ہدف حاصل نہ کرپائی۔ عمران خان نے پرویز الٰہی کو اپنے ساتھ ملا کر پنجاب میں اپنی حکمرانی برقرار رکھی۔ پنجاب میں حکومت کے حصول کے بعد خان صاحب کو وہاں کی سرکاری مشینری اور وسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ آ ور ہوجانا چاہیے تھا جہاں خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سے فیصلہ کن کمک کا مہیا ہونا پہلے ہی سے یقینی تھا۔ تحریک انصاف نے اس جانب مگر توجہ ہی نہ دی۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے ”ووٹ بینک“ کو سرکاری سرپرستی میں مستحکم کرنے کی کاوش میں مصروف ہو گئے۔ فرض کیا وہ اگر اب فوری انتخاب کے حصول کی جانب لوٹ بھی آئیں تو نئے انتخاب کے لئے کم از کم اگلے برس کے فروری /مارچ تک انتظار کرنا ہو گا۔ اس دوران نومبر 2022 گزر جائے گا۔

ایشیا کپ، سپرفورمرحلہ: بھارت کو سری لنکا کے ہاتھوں شکست

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اس مہینے جو ”تعیناتی“ ہونا ہے وہ وزیراعظم شہباز شریف کا کامل اختیار ہے۔ ہمارا آئین اس ضمن میں بہت واضح ہے۔ اس میں نئی توجیہات کی گنجائش موجود نہیں۔ آصف سعید کھوسہ جیسے جید جج ”توسیع“ کے متعلق اٹھائے سوال کو پارلیمان کے سپرد کرنے کو مجبور ہوئے تھے۔فوری انتخاب کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے عمران خان ”تعیناتی“ کے ضمن میں آئینی اعتبار سے اب قطعاًغیر متعلق شخص بن چکے ہیں لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہو رہے اور اپنی زبان کے زور پر اہم ترین فیصلہ سازی کے عمل میں لچ تلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Back to top button