جسٹس صدیقی سے ملاقات،جنرل فیض نے نئی کہانی گھڑ لی

سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کےجج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری ہونے کے بعد جہاں ایک طرف سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا جنرل فیض حمید عدالت میں پیش ہونگے اور خود پر عائد الزامات کا کیا جواب دینگے۔ تاہم دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا اپنی ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ 2018ء میں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اپنی برطرفی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں جنرل (ر) فیض حمید کے پاس سنانے کیلئے کوئی مختلف کہانی ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جج شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں جمعہ کو سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالتی نوٹس یا پھر 2018ء میں شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے حوالے سے موقف معلوم کرنے کیلئے دی نیوز جنرل فیض حمید سے بات نہ کر پایا۔ تاہم، ایک ذریع جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس معاملے پر جنرل فیض سے بات چیت کی ہے کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ جرنیل کے پاس سنانے کیلئے الگ کہانی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل فیض اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ان کی سابق جج سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فیض حمید نے اپنی ڈی جی سی کی حیثیت سے تقرری کے دوران اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید مختار کے کہنے پر ریٹائرڈ جج سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق، بات چیت کا موضوع آبپارہ اسلام آباد میں آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے سامنے سڑک کھولنے کے حوالے سے جسٹس صدیقی کا حکم تھا۔ انہوں نے جنرل فیض کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر ایک بریگیڈیئر کو جسٹس صدیقی سے ملاقات کرنے اور سڑک کھولنے کیلئے عدالت کی ہدایت میں شامل حساسیت پر بات کا کام سونپا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے سامنے آبپارہ روڈ کو بلاک کر کے موڑ دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر سے کہا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کریں اور ان سے فیصلے پر نظرثانی کیلئے کہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں کے درمیان ملاقات اچھی نہیں رہی۔ بعد میں، کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے ڈی جی سی میجر جنرل فیض حمید اسی بریگیڈیئر کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے ملاقات کیلئے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملاقات ڈی جی آئی ایس آئی کی آشیرباد سے ہوئی تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فیض حمید نے جج سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر برگیڈیئر اور جج کے درمیان بات خراب ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی نے سڑک کے مسئلے کے حوالے سے آئی ایس آئی کی درخواست پر دباؤ ڈالا تھا لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ڈی جی سی سے کہا کہ وہ اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں خطاب کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نےجج کیلئے ناشائشتہ طرز عمل اختیار کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ جسٹس صدیقی نے آئی ایس آئی پر عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایجنسی کے کچھ افسران اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچوں کی تشکیل میں ہیرا پھیری میں ملوث ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پر ملک میں جمہوری اقدار کو پامال کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔جسٹس صدیقی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جنرل فیض چاہتے تھے کہ نواز شریف اور مریم نواز 2018 کے انتخابات کی سیاسی جوڑ توڑ کیلئے جیل میں رہیں۔ جسٹس صدیقی کو 11 اکتوبر 2018 کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد جج جسٹس شوکت عزیز نے 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اپنی برطرفی کو چیلنج کیا تھا اور 13 جون 2022 کو آئینی درخواست کی آخری سماعت کے بعد سے ان کا کیس جاری ہے۔ جسٹس صدیقی نے اپنی درخواست میں، جس کی عدالت عظمیٰ اب بالآخر سماعت کر رہی ہے، استدعا کی ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیا جائے۔ جسٹس صدیقی کی نمائندگی سینئر وکیل حامد خان کر رہے ہیں جبکہ درخواست میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن

کیا نگراں وزرا عام انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں؟

کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button