اگلے دو ماہ میں عمران کا "مکو ٹھپ "دیا جاۓ گا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ ’’پروجیکٹ عمران خان‘‘کی کامیاب لانچنگ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا ’’عمران خان مکاؤ‘‘ نامی نیا پروجیکٹ زوروں پر ہے اگر اس پر دانشمندی سے عملدرآمد کیا گیا تو کامیابی ممکن ہے اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہے کہ وہ عمران کا مکو 2 ماہ میں ٹھپ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار حفیظ الله نیازی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار پھر ایک سیاست زمین بوس ہونے کواور ایک سیاست جنم لینے کو ہے۔ اتحادی حکومت بالخصوص مسلم لیگ ن کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ’’فاتح فوج مال غنیمت تقسیم نہیں کیا کرتی‘‘۔ عمران سے حکومت چھیننے سے لیکر آج تک اتحادی جماعتوں کی سیاسی ساکھ بُری طرح متاثر ہوچُکی ہے۔ اگرچہ وفاق میں حکومت تیرہ جماعتوں کی ہے مگر ،ہدف تنقید اکلوتی مسلم لیگ ن کیونکر بنی ہوئی ہے ؟ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتمادپر پیپلزپارٹی،جمعیت علماء اسلام کا سیاسی نقصان تو ’’قابل تلافی‘‘ رہا مگر مسلم لیگ ن کا نقصان ناقابل تلافی کیوں ہے ؟ ویسے تو آنے والے الیکشن میں تمام اتحادی جماعتوں کا دانہ پانی رہے گا مگرمسلم لیگ ن کے سیاسی قد کاٹھ اور مقبولیت کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ آئندہ الیکشن میں عمران کی غیر موجودگی کی وجہ سے مسلم لیگ ن با عزت سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ضرور ہو گی

حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کیخلاف جب ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘نے علم بغاوت بلند کیا تو عمران خان بطور مہرہ شریک جُرم بنے۔ کاریگروں نے عمران سے جلد اُکتا جانا تھا کیوں کہ 70 سالہ تاریخ یہی رہی ہے ۔ اگست 2018 میں جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مہرے عمران کو مسندِاقتدار پر بٹھایا تو ایک ساتھ جینے مرنے کا تاثر بھی عام کیا ۔ بالآخرایسا وقت اگست 2021 میں آیا جب عمران مخالف جماعتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے دانستہ خبریں لیک ہوئیں کہ’’تعلقات میں دراڑ آ چُکی ہے‘‘۔ ستمبر میں*ISI* چیف کی تعیناتی پر تنازع کھل کر سامنے آیا۔جب جنرل ندیم انجم نے عہدہ سنبھالا تو تنازعات اپنا رنگ جما چُکے تھے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب ، دسمبر 2021ءمیں نوازشریف کی مقبولیت ساتویں آسمان پر دمک رہی تھی جبکہ عمران خان کی مقبولیت ناپید اور غارت تھی۔ اسی اثنا، خبریں عام ہوئیں کہ پس پردہ عمران مخالف سیاسی جماعتیں تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے انگڑائی لے رہی ہیں۔ یعنی تاریخ دہرانے کو تھی کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ دلجمعی سےاس بات کی خواہشمند تھی کہ اُن کی ممکنہ لڑائی مخالف سیاسی جماعتیں ہی لڑیں، جیسے ستر سالہ تاریخ رہی ہے۔اس صورتحال میں دو ممکنات دل دہلا دینے والے تھے ۔ اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سیاسی جماعتیں اپنے گلے ڈالتی ہیں اور عمران خم ٹھونک کراپنے نشانے پر اسٹیبلشمنٹ کولیتا ہے تو لامحالہ نوازشریف کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ مقبول بیانیہ عمران خان کو منتقل ہونا لازم تھا جبکہ غیر مقبول بیانیہ یعنی اسٹبیلسشمنٹ کا ’’ مہرہ بننا ‘‘ دوسری سیاسی سیاسی جماعتوں کے حصے میں آجاتا۔ دوسری فکر والی بات یہ تھی کہ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے باہر کرنے کیلئے ڈیڑھ درجن جماعتوں نے ملکر اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے حکومت سازی کرنی تھی۔ یعنی کہ پہلی بار نئی حکومت بنتی تو عمران خان اکلوتے کے پاس کراچی تا چترال اپوزیشن کی SLOT آجانی تھی ۔70 سالہ ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ، بالآخر ہو کر رہا۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ آج نوازشریف اپنے ہاتھ مل رہے ہیں ؟ اس عمل میں اکلوتے نوازشریف کی سیاست برباد ہوئی ۔ مسلم لیگ ن کی اُبھرتی تابناک قیاد ت مریم نواز’’بِن کھلے مرجھا نے کو ہیں‘‘۔دوسری طرف عمران کی بیٹھے بٹھائے پانچوں گھی میں ہیں۔ چند لوگوں کی ہوس اقتدار، ذاتی مفادات و مقدمات، نوازشریف کی سیاست تو دفنا چُکے ہیں۔’’پروجیکٹ عمران خان‘‘کی کامیاب لانچنگ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کانیا پروجیکٹ ’’عمران خان مکاؤ‘‘زوروں پر ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ؟ جی ہاں! اگر دانشمندی سے نافذرہا۔۔ علاوہ ازیں جنرل باجوہ کی اپنے ادارے کیخلاف بچھائی گئی بارودی سُرنگیں عمران کومزید طاقتور بنا چُکی ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کا تیقن یہ ہے کہ وہ عمران کا مکو 2 ماہ میں ٹھپ دیں گے۔ مگر بدقسمتی یہ بھی ہے کہ شیطانی چُنگل میں وطن کو پھنسانے کااصل ذمہ دار عمران نہیں ہے۔ پاکستان کو برباد کرنے والا، مسلم لیگ ن کی سیاست کا مکو ٹھپنے والا، عمران کو مضبوط بنانیوالا اکلوتا کردارجنرل باجوہ ہی تو ہے۔ 29 مئی یوم تکریم شہدا کے دن ڈھٹائی سے جب اسٹیج پر براجمان مملکت کا تمسخر اُڑاتے دیکھا تو رب ذولجلال سے میرا سوال ایک ہی

نااہلی 5 سال سے زیادہ نہیں ہوگی،سینیٹ میں بل منظور

تھا، یا الٰہی ایسے قومی مجرموں کا کڑا حساب کیونکر ممکن ہوگا؟

Back to top button