رہائی کے حکم کے باوجودعمران اٹک جیل میں ہی قید رہے گا

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کے باوجود ان کی فوری رہائی ممکن نہیں جبکہ عمران خان کی نااہلی بھی برقرار رہے گی تاوقتیکہ ان کی اپیل کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
خیال رہے کہ 29 اگست کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز سابق وزیراعظم کی درخواست پر سماعت کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کا فیصلہ کاز لسٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے فیصلے کی کاپی کچھ دیر میں فراہم کردی جائے گی، بس اتنا بتا رہے ہیں کہ درخواست منظور کرلی ہے۔
عمران خان کی رہائی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی رہائی کا حکم دے دیا ہے تاہم فوری طور پر عمران خان کی اٹک جیل سے رہائی ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ عمران خان کے خلاف سائفر اور 9 مئی کے روز شرپسندی سمیت متعدد مقدمات درج ہیں جن میں سیکیورٹی اداروں کو عمران خان کی گرفتاری مقصود ہے عمران خان کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کی رہائی کے حکم کے باوجود ان کی اپیل بارے حتمی فیصلہ ہونے تک ان کی نااہلی برقرار رہے گی قانونی ماہرین کے مطابق ٹرائل کورٹ سے دی گئی ایسی سزا جو کہ 3 سال یا اس سے کم ہو، مجرم کی اعلیٰ عدالتوں یعنی ہائیکورٹس اور سپریم کورٹس میں اپیل کی وجہ سے اکثر معطل قرار پاتی ہیں۔ تاہم سزا معطلی کا مطلب یہ نہیں کہ سزا مکمل طور پر کالعدم قرار پائی ہے۔سزا معطلی کی صورت میں سزا کا فیصلہ برقرار ہے اس لیے عمران خان سزا یافتہ اور نا اہل ہی رہیں گے۔ماہرین کے مطابق جب تک ان کی اپیل پر حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا، ان کی سزا برقرار ہے، صرف معطل ہے، اسی وجہ سے ان کی نااہلی بھی برقرار رہے گی۔ یاد رہے کہ عمران خان کی اپیل پر حتمی فیصلے میں کئی مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ عمران خان ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اس لیے پارٹی عہدہ، الیکشن لڑنا اور ٹی وی پر آنا ان کے لیے ممنوع رہے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کی ہے جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ عمران خان کو ہائیکورٹ نے یہ سہولت اس لیے فراہم کی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپیل کا حق استعمال کر سکیں۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر اپیل حتمی فیصلے میں خارج ہو جاتی ہے تو چونکہ عمران خان ایک سزا یافتہ مجرم ہیں تو ان کی سزا پر دوبارہ عمل درامد ہو گا اور وہ اسی جیل میں موجود رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر عمران خان کسی اور کیس میں گرفتار یا جوڈیشل ریمانڈ پر نہ ہوں تو سزا معطلی کے بعد وہ رہا ہو جائیں گے۔تاہم چونکہ عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، اس لیے وہ اِسی جیل میں رہیں گے۔ماہرین کے مطابق عمران خان کی رہائی اسی وقت ممکن ہو گی جب وہ سائفر کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کریں اور وہ ضمانت کی درخواست منظور ہو جائے۔
ماہرین کے مطابق قانون کے مطابق اگر مجرم کو 3سال سے کم سزا ہو تو ضمانت کا دیا جانا ایک معمول کا عدالتی معاملہ ہوتا ہے لیکن اس معطلی کا یہ مطلب نہیں کہ کیس ختم ہو گیا ہے اور عمران خان بری ہو گئے اور ان کی نا اہلی ختم ہو گئی ہے۔اسی وجہ سے عمران خان کی سزا معطلی کا مطلب سزا کی معافی نہیں ہے اور جب تک یہ سزا قائم ہے عمران خان نا اہل ہی رہیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کی روشنی میں پہلے ہی عمران خان کی نا اہلی آرٹیکل 62 ایچ کے تحت پانچ سال کے لیے کر دی ہے جو اپنی جگہ پر بر قرار ہے اور رہے گی۔ماہرین کے مطابق توشہ خانہ کیس پہلے کی طرح چلتا رہے گا۔
خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ایچ کے مطابق اگر مجرم کی سزا 2 سال سے زیادہ ہو تو وہ نا اہل ہو جاتا ہے- عمران خان کو کریمینل پروسیجر کوڈ سیکشن 426 کے مطابق 3سال سزا سنائی جا چکی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے ان کی نا اہلی قائم اور برقرار ہے۔سزا معطلی کا مقصد یہ بھی نہیں کہ کیس کے میرٹ کا فیصلہ ہو گیا ہے بلکہ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اس کی اصل اپیل عدالت میں فیصلے کی منتظر ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان آئین کی 2شقوں کے مطابق الیکشن کمیشن کے آرڈر کے مطابق نا اہل ہو چکے ہیں- ایک شق آرٹیکل 62 پی کے تحت ہے جو اُس کی سیٹ کی باقی ماندہ مدت پر لاگو ہوتی ہے اور دوسرا آرٹیکل 62 ایچ کے تحت ہے جو سیشن جج اسلام آباد کے حکم کے مطابق 5سال نا
عامر خان کی نئی فلم کب ریلیز ہوگی؟ تاریخ سامنے آگئی
اہلی مقرر کرتا ہے۔
