عمران صرف بھارتی عدالت میں پیشی پر تیار کیوں؟

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مخالفین کو کمتر اور خود کو مہان لیڈر ثابت کرنے کی کوشش میں ہلکان عمران خان اندر سے کافی ڈرپوک واقعی ہوئے ہیں ورنہ لیڈر کی یہ شان نہیں کہ گرفتاری یا جیل جانے سے گھبرا جائے اور دوسری طرف وہ اپنے ورکرز کو جیل جانے کے لئے اکساتے اور گھبرانا نہیں کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ قدیم محاورہ ہے، اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کَل سیدھی۔۔یہ محاورہ خان صاحب پر بالکل فِٹ بیٹھتا ہے۔ یہی دیکھ لیجیئے کہ محض عدالت جانے کے خوف سے انھوں نے  تین ماہ اپنی اچھی بھلی ٹانگ پر کاسٹ پہنے رکھی اور زندگی کو چند کمروں تک محدود کر لیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سال پہلے خان صاحب کو ایسا کوئی خوف نہیں تھا اور انھوں نے بڑی خوشی سے ایک بھارتی عدالت میں حاضری دی، اس وقت یہ ابھی وزیراعظم ”سلیکٹ“ نہیں ہوئے تھے اور  پی ٹی آئی کے چیئر مین کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے جبکہ اسی حیثیت میں وہ پاکستانی عدالتوں میں پیش ہونے سے انکاری ہیں۔

خیر  یہاں بات ہو رہی ہے بھارتی ٹی وی شو ”آپ کی عدالت“ کی, جس میں خان صاحب نہ صرف حاضر ہوئے بلکہ میزبان کے ہر کڑوے کسیلے سوال کا خندہ پیشانی سے جواب بھی دیا مثلاً جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نوجوانوں کو تو بہت نصیحتیں کرتے ہیں مگر جب خود نوجوان تھے تو آپ نے جو جو حرکتیں کیں ان کا کچا چھٹا تو معلوم ہی ہو گا؟ اور خان صاحب نے حسبِ معمول جواب دیا کہ میں نے مغرب دیکھا ہے، میں اچھا بُرا بہتر بتا سکتا ہوں۔ جس نے کبھی مغرب دیکھا ہی نہیں، اس کے کلچر کو قریب سے نہیں دیکھا وہ کیسے کچھ بتا سکتا ہے۔۔اس لئے میرے جیسا آدمی  زیادہ کوالیفائڈ ہے۔ ویسے یہ وہی چورن ہے جو خان صاحب ابھی تک بیچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ درست ہے کہ جب وہ لندن جارہے تھے تو ان کی والدہ شوکت خانم نے انھیں کہا تھا کہ گوریوں سے دور رہنا کیونکہ وہ ان کی شادی پاکستانی عورت سے کروانا چاہتی تھیں، ان کی خواہش تھی کہ یہ پاکستان میں رہیں۔ اگر خان صاحب کی والدہ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ ساٹھ ستر سال کی عمر میں سہی لیکن انھوں نے ایک نہیں دو دو پاکستانی عورتوں سے شادی کی۔ تاہم شو کے میزبان نے خان صاحب کے لندن میں گزرے شب و روز کو کافی ہائی لائٹ کیا  کہ کس طرح ان کا لِونگ روم رات کو ڈسکو تھیٹر کا روپ دھار لیتا تھا، یہاں تک کہ ان کی ٹی شرٹ پر لکھا ہوتا ”بِگ بوائز پلے ایٹ نائٹ“ جس پر خان صاحب نے وضاحت یہ پیش کی کہ اس زمانے میں چونکہ وہ کیری پیکرز کے لئے کھیلتے تھے تو وہ ٹی شرٹ انھوں نے نائٹ کرکٹ کو پروموٹ کرنے کے لئے دی تھی لیکن وہ اپنی ان حرکتوں کی وضاحت نہیں دے سکے جو بقول میزبان جو ٹی شرٹ پر لکھی نہیں ہوتی تھیں۔ خان صاحب نے البتہ یہ ضرور کہا کہ وہ فرشتہ نہیں تھے مگر انھوں نے کبھی خود کو ”پلے بوائے“ نہیں سمجھا، یہ سب میڈیا کی کارستانی ہے۔۔ میڈیا سے خان صاحب اس وقت بھی ناراض ہی دکھائی دیئے، ان کا خیال تھا کہ چینلز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ہمیشہ ایسی خبریں ڈھونڈتے ہیں۔ تاہم جب انھوں نے تسلیم کیا کہ گولڈی ہان، سوسن، ایما سارجنٹ، میری ہلکن، لِزا، کرسٹین بیکر اور بہت سی خواتین ان کے حلقہ احباب میں شامل تھیں تو میزبان نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سابق چیئرمین کرنل نسیم کے حوالے سے کہا آپ کی تو ہر شام ایک نئی خاتون کے ساتھ گزرتی تھی مگر بقول خان صاحب، یہ شادی سے پہلے کا دور تھا جو وہ بھول چکے ہیں۔ لوگ تو یہ بھی کہتے تھے کہ یہ صبح تک پارٹیز میں ہوتا ہے اور ہم نے اسے شراب پیتے ہوئے بھی دیکھا ہے حالانکہ انھوں نے زندگی بھر کبھی شراب نہیں پی۔

شو میں خان صاحب پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ چیرٹی میں تو کامیاب ہو گئے لیکن سیاست میں فیل ہو گئے تو خان صاحب نے حسب عادت جواب دیا کہ انھوں نے آکسفورڈ سے سیاسیات میں ڈگری لے رکھی ہے، انھیں سیاست آتی ہے لیکن کیا ملک میں جو منجھے ہوئے سیاستدان بیٹھے ہیں وہ انھیں وزیرِ اعظم بننے دیتے؟ یعنی خان صاحب کو جب یہ بات سمجھ آ گئی تو انھوں نے طاقت کے اصل ”سرپنجوں“ سے رجوع کیا اور یوں ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا ہوا۔ وہ مانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے آشرباد کے بغیر پاکستان میں آج تک کوئی الیکشن نہیں جیت سکا۔ تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ جنرل مشرف کو سپورٹ کرنا ان کی غلطی تھی۔۔بالکل اسی طرح جیسے آج وہ جنرل باجوہ کو اپنی غلطی قرار دے رہے ہیں!!

ثاقب نثار عمران کا سہولت کار کیوں بنا ہوا ہے؟

Back to top button