اسحاق ڈار کی جلد واپسی کا راستہ کافی حد تک ہموار ہو گیا

باخبر حکومتی ذرائع نے دعوی ٰکیا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کی وطن واپسی میں حائل رکاوٹیں کافی حد تک دور ہو گئی ہیں اور وہ جلد پاکستان پہنچ کر ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسحق ڈار نے جون کے تیسرے ہفتے میں وطن واپسی کا پلان فائنل کر لیا تھا لیکن آخری لمحات میں اصل فیصلہ سازوں کی طرف سے اعتراض آ گیا جسے دور کرنے کی کوششیں اب آخری مرحلے میں ہیں اور امید ہے کہ ڈار اگلے ماہ کے آغاز میں پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔
اسلام آباد میں4.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اسحاق ڈار نے اگلے ماہ اپنی وطن واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب پاکستان واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 2017 سے لندن میں مقیم سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’اگلے ماہ میرا پاکستان واپسی کا ارادہ کنفرم ہے۔ ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ اُن کی صحت کو درپیش چند مسائل کا علاج اگلے 10 سے 12 روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے کیونکہ اُن کے ڈاکٹرز اگلے چند روز میں اُن کے علاج کے مکمل ہونے کے بارے میں پُرامید ہیں۔
یاد رہے کہ ستمبر 2017 میں پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ایک کیس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی جس کے چند روز بعد اسحاق ڈار پہلے سعودی عرب روانہ ہوئے اور وہاں سے علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں نومبر 2017 میں احتساب عدالت نے اُن کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور انھیں ‘مفرور‘ قرار دے دیا۔ احتساب عدالت نے اُن کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کا بھی حکم دیا تھا۔
اُن پر پاکستان میں چلنے والے کیسوں اور اُن کی ضمانت کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اُن پر پاکستان میں ایک ہی کیس ہے جو ’عمران نیازی کی جانب سے دائر کیا جانے والا جعلی مقدمہ ہے۔‘اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ اُن پر جو جعلی کیس بنایا گیا اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ ’یہ میرے ٹیکس ریٹرن پر بنایا گیا۔‘ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایسے شخص ہیں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتے۔ سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ عمران حکومت کی جانب سے جب انھیں پاکستان لانے کے لیے انٹر پول کو جو دستاویزات دی گئیں ان میں کوئی جان ہی نہیں تھی، اس لیے انٹر پول نے انھیں کلین چٹ دے دی۔‘
پاکستان واپسی پر موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں میں ان کے ممکنہ کردار اور وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وہ ’پاکستان واپسی پر بطور سینیٹر حلف اٹھائیں گے۔‘انھوں نے کہا وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا فیصلہ اُن کا نہیں ہو گا بلکہ یہ اُن کی پارٹی اور قیادت کا فیصلہ ہو گا کہ کس شخص کو کیا ذمہ داری دینی ہے۔
یاد رہے کہ شہباز حکومت کو معاشی محاذ پر بہت سارے چیلنجز کو سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک میں پٹرول، ڈیزل اور بجلی کے ساتھ روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں حالیہ چند ہفتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب بارہا دعوؤں اور بیانات کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کو ابھی تک بحال نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بیرونی فنانسنگ رُکی ہوئی ہے اور اس کا منفی اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑ رہا ہے۔ 2016 میں پانامہ گیٹ سکینڈل میں میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کے ساتھ اسحاق ڈار بھی وزارت خزانہ سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی نواز لیگ کی حکومت میں اسحاق ڈار کو ایک بار پھر وزیر خزانہ کا قلمدان ملا۔ ستمبر 2017 میں پاکستان میں ایک احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر کرپشن کیس میں فرد جرم عائد کی، انھیں ‘مفرور’ قرار دیا اور اُن کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کا بھی حکم دیا تھا۔
سینئر وکیل حشمت حبیب، جو اسحاق ڈار کے خلاف ایک اور کیس میں شریک ملزم ننشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے وکیل ہیں، نے چند روز پہلے بتایا تھا کہ اسحاق ڈار کو مفرور اس بنیاد پر قرار دیا گیا تھا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
انھوں نے کہا تھا کہ اسحاق ڈار کسی بھی ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دے کر راہداری ضمانت حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ حشمت کے مطابق ڈار کے خلاف کیس آمدن سے زیادہ اثاثوں کا ہے اور اس کے ساتھ ان کی ایک این جی او میں عطیات میں خرد برد میں بے قاعدگیوں کے الزامات ہیں۔ انھوں نے کہا تھا اسحاق ڈار کے خلاف اس وقت احتساب عدالت میں کیس زیر التوا ہے۔
رواں برس بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں اپنی جائیداد اور اثاثوں کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے نیب کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’نیب اپنی اہمیت بہت پہلے ہی کھو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ میں حکومت میں رہتے ہوئے بھی اس پر پریس کانفرنس کر چکا ہوں۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’جے آئی ٹی میں میرے خلاف الزام یہ تھا کہ میں نے 1981 سے 2001 تک 20 سال کے عرصے میں پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ میں برطانیہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹننٹ ہوں، جب میں برطانیہ میں تھا تو میں نے کبھی اپنے گوشوارے جمع کروانے میں کوتاہی نہیں کی۔ لہذا میرے خلاف یہ نہایت غلط الزام ہے۔‘
اسحاق ڈار سے پوچھا گیا کہ ’آپ کی اور آپ کے خاندان کی کل کتنی جائیدادیں ہیں؟‘اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میں شفافیت پر یقین رکھتا ہوں اور میں نے اپنے تمام اثاثے اپنے گوشواروں میں ظاہر کیے ہوئے ہیں۔ میرے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے، پاکستان میں میرا گھر ہے جو موجودہ حکومت نے مجھ سے چھین لیا ہے۔‘
اس پر ان سے پوچھا گیا کہ ’لیکن خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کی دبئی اور لندن میں جائیدادیں ہیں۔ کیا آپ اور آپ کے خاندان کے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے؟‘اس پر اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’یہ الزامات درست نہیں۔ میرے بچوں کا صرف ایک گھر ہے جو اُن کی ملکیت ہے کیونکہ وہ 17 سال سے کاروبار کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے بچے آزاد ہیں اور میری سرپرستی میں نہیں۔‘
