سمندری طوفان کراچی کے قریب پہنچ گیا، 21واں الرٹ جاری

سمندری طوفان بائیپر جوائے کراچی کے قریب پہنچ گیا، محکمہ موسمیات نے 21 واں الرٹ جاری کر دیا ہے، آج رات 9 بج کر 30 منٹ کے قریب پاکستان کے محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین الرٹ میں کہا گیا کہ یہ طوفان کراچی کے جنوب مغرب میں تقریباً 310 کلومیٹر ، ٹھٹھہ سے 300 کلومیٹر اور کیٹی بندر سے 240 کلومیٹر فاصلے پر تھا۔الرٹ میں کہا گیا کہ سطح پر 150سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ اور سسٹم سینٹر کے ارد گرد 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جب کہ سمندری حالات کے باعث سسٹم سینٹر کے ارد گرد زیادہ سے زیادہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ انتہائی شدت کے طوفان نے شمال مشرق کی جانب مڑنا شروع کر دیا ہے، 15 جون کی شام کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے ساحل کے درمیان سے اس کے گزرنے کی توقع ہے جب کہ اس دوران سو سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ 14 سے 17 جون کے دوران سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص اور عمرکوٹ میں آندھی، گرد آلود ہواؤؤں اور گرج چمک کے موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، ان علاقوں میں 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
الرٹ کے مطابق اسی طرح 14 سے 16 جون تک کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ کے اضلاع میں 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے حب اور لسبیلہ اضلاع میں بھی اس دوران گرد آلود ہواؤؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوسکتی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت جاری کی ہے کہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے 50 ہزار سے زائد لوگوں کو حفاظتی مقامات تک پہنچایا جائے، اور ان کو پینے کا صاف پانی اور خوراک کے ساتھ ساتھ طوفان ٹلنے تک آرام دہ رہائش اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ بائپر جوائے سے پیدا ہونے والی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے وزیرِ موسمیاتی تبدیلی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی میں متعلقہ وفاقی وزراء اور وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندے شامل ہیں جو مسلسل اس طوفان کی نگرانی کرکے کسی بھی صورتحال سے نبٹنے کے لیے 24 گھنٹے رابطے بحال رکھیں گے۔
وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ سمندری طوفان بپر جوائے سے ملک میں آر ایل این جی کی ترسیل میں خلل پیدا ہوا ہے، آر آیل این جی سے بجلی کی پیداوار میں عارضی کمی اور لوڈ شیڈنگ میں عارضی اضافہ ہوا ہے۔وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ ہم کراچی کے شہریوں کو معمول کی فراہمی برقرار رکھنے کے لئے کراچی الیکٹرک کو ایندھن کی مکمل فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندری طوفا ن بپر جوائے سے ابھی تک بجلی کی ترسیل میں کوئی خلل نہیں آیا، ٹھٹھہ بدین اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں کا سلسلہ ہے۔
خرم دستگیر نے کہا کہ سیکریٹری پاور ڈویژن کے ساتھ دیگر تین سینئر افسران کو سندھ بھجوایا جارہا ہے، طوفان سے متاثرہ علاقہ حیسکو کے علاقے میں ہے، طوفان سے نمٹنے کیلئے دیگر کمپینوں سے ٹیمیں بجھوا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور ،گوجرانوالہ فیصل آباد ملتان،اور سکھر سے ٹیمیں پہنچیں گی، 2 ہزار افراد پر مشتمل بجلی نظام میں بہتری کیلئے اہلکار بھیج رہے ہیں، 2 ہزار اہلکاروں کا بھیجا جانا ایک قومی کاوش ہے، سیلاب کے دوران بھی پاور ڈویژن نے بہترین کام کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک اندازہ نہیں ہے کہ اس طوفان کے اثرات کیا ہوں گے، طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم پوری طرح تیار ہیں، ابھی تک طوفان سے ایل این جی کی سپلائی میں خلل آیا ہے، ایل این جی سپلائی میں خلل سے پاور پلانٹس کو گیس فراہمی رک گئی ہے، گیس کی سپلائی کیلئے متبادل کا انتظام بھی کیا گیا، کے الیکٹرک کو گیس کی فراہمی کیلئے انتظام کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گیس سپلائی میں خلل سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ایک گھنٹے کا اضافہ ہو گا، طوفان سے ایمرجنسی کی صورتحال کا سامنا چار روز تک ہو سکتا ہے، بعض علاقوں میں شاید ہمیں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے بجلی بند کرنا پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زائد ہوا ہو گی تو ونڈ سے پیداوار کم ہوگی، یہ سب کچھ ابھی تک ممکنات میں سے ہےفی الحال تک براہ راست کوئی ایسی صورتحال ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایل این جی نہ ہونے کے باعث اثر پڑتا ہے تو پندرہ سو میگاواٹ کا شاٹ فال آتا، کراچی کو اب گیس فراہم کی ہے تو شاید اثر پڑے گا، ہماری کوشش تھی موسم گرم میں لوڈشیڈنگ کم سے کم ہو، کوشش بھی ہے کہ موسم گرما میں شہری علاقوں میں چار گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہ ہو۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صارفین پر بوجھ کم سے کم پڑے، ملک میں بجلی کی پیداوار 41 ہزار میگاواٹ تک ہےچونکہ بیشتر کارخانے مہنگی
کیا تحریک انصاف کے انجام کا وقت قریب آ چکا ہے؟
بجلی پیدا کرتے ہیں تو کوشش ہے متبادل اور سستے نظام پر جائیں۔
