ثاقب نثار کا مریم نواز بارے ریمارکس پر یوٹرن

ماضی قریب میں ن لیگی رہنما مریم نواز کو بدتمیز قرار دینے والے جسٹس ثاقب نثار عرف بابا رحمتے نے لیگی قیادت اور کارکنان کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد اپنے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے یہ بیان میڈیا کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔
وی نیوز کو دئیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بابا رحمتے کا کہنا ہے کہ میں نے’مریم نواز کو بدتمیز نہیں کہا، میڈیا مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ میں کیوں کسی کو بد تمیز کہوں۔ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ مجھ پر تنقید کرے یا میری تعریف کرے مگر میں کس کو کچھ نہیں کہوں گا‘۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز کہتی رہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔ میرے پلے کارڈ لے کر یہ لوگ پارلیمنٹ چلے گئے پتا نہیں یہ اس کا کیا فائدہ لینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ لوگ کچھ حاصل بھی کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کو پتا ہوگا کم از کم مجھے اس کا علم نہیں ہے‘۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا ن لیگی رہنما مریم نواز کو بدتمیز قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مریم نواز مجھے بابا ڈیم پکار کر تضحیک کررہی ہیں، میں نے انصاف کی بات کی اس لئے میرے پیچھے پڑگئے ہیں۔مریم نواز عدلیہ مخالف بیانات سے سیاسی فساداورمخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، ن لیگ کے پاس سیاست چمکانے کے لیے کچھ اورنہیں اس لئےعدلیہ کوہدف بنایا۔
مریم نواز کی جانب سے ڈیم والے بابا پکارنے پر سابق چیف جسٹس نے کہا مریم نواز اب مجھے باباڈیم پکارکرتضحیک کررہی ہیں، کسی کی اولاد جب بدتمیز ہوجائے تویہ اس کے لیے سانحہ ہے،بے ادب، بدتمیز اولاد جس کو کسی بڑے سے متعلق بات کرنے کی تمیز ہی نہیں۔ جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے بدتمیز قرار دینے پر چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بدتمیز نہیں ہوں ، صرف تمھیں چہرہ دکھا رہی ہوں۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ثاقب نثار کہتا ہے مریم نواز بد تمیز ہے، میری تربیت نواز شریف اور کلثوم نواز نے کی ہے، مریم نواز بدتمیزی نہیں کر رہی آئینے میں تمہارا چہرہ دکھا رہی ہوں۔ تاہم اب ثاقب نثار اپنے ماضی کے بیان سے منحرف ہو گئے ہیں۔
وی نیوز کے ساتھ لاہور میں ہونے والی خصوصی نشست میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنی ملنساری و خوش مزاج کے باوجود میڈیا سے کچھ خائف نظر آئے۔ دوران انٹرویو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کسی فیصلے پر نادم نہیں ہیں، نہ ہی وہ اپنے کسی فیصلے کی وضاحت دیں گے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جنرل باجوہ کی طرح گمنامی کی زندگی نہیں گزار رہے بلکہ سب سے ملتے جلتے ہیں
ایک سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے کس فیصلے پر کوئی ندامت نہیں ہے اور نہ کبھی ان کی وضاحت دوں گا ۔کیوں کے میرے فیصلے بولتے ہیں۔ میں نے ‘۔از خود نوٹسز لیے ہیں، لوگ جو مرضی کہیں میں نے اپنا کام کیا اور حق ادا کیا ہے
۔ثاقب نثار کہتے ہیں کہ ’میں نے باہر آکر گفتگو نہیں کرنی اور نہ ہی اپنا دفاع کرنا ہے، کمزور لوگ اپنا دفاع کرتے ہیں میں بہت مضبوط انسان ہوں، کمزور لوگ اپنی صفائیاں دیتے ہیں، میرا دامن صاف ہے۔ کسی نے بات اچھالنی ہے تو اچھال لے کسی نے تعریف کرنی ہے تو کرتا رہے‘۔سابق چیف جسٹس نے ایک سوال کے جواب کہا کہ ’میں سیاست میں کبھی نہیں آؤں گا۔ میں پُرسکون زندگی گزار رہا ہوں۔ مجھے کیا ضرورت کہ میں سیاست میں حصہ لیتا پھروں۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سمجھتے ہیں کہ ’ گمنامی کی زندگی کوئی زندگی نہیں ہوتی، میں ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزار رہا ہوں اور گزاروں گا۔ میں سب سے ملتا ہوں۔ میل ملاپ چلتا رہتا ہے،میں گمنامی کی زندگی نہیں گزار رہا‘۔ثاقب نثار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا نہ ہی ٹوئٹر پر ایکٹو ہوں اور نہ ہی میرا کوئی فیس بک اکاؤنٹ ہے۔ میں سوشل میڈیا سے دور ہوں اور بس نارمل فون استعمال کرتا ہوں‘۔سکون کی زندگی گزار رہا ہوں۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے مطابق ’آج کل قانونی مشاورت دیتا ہوں، کوئی سائل آجائے تو اس کو قانون کے مطابق جو رائے دے سکوں وہ دیتا ہوں۔
صحافیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’ میرا صحافیوں سے ملاقات کا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہے۔ ہر بات کو بڑھا چڑھ کر پیش کرتے ہیں، ان ملاقاتوں سے کوئی مثبت پیغام نہیں ملا۔ ہر کوئی میری بات کی من مانی تعبیر پیش کر دیتا ہے۔
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر پی کے ایل آئی کے ڈاکٹر سعید اختر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر سعید اختر پر کچھ نہیں کہوں گا۔ ان کو اگر ستارہ امتیاز ملا ہے تو اچھی بات ہے۔ ان کی کارگردگی دیکھ کر ان کو ستارہ امتیازہ دیا گیا ہوگا۔ میں اس سے زیادہ اس پر بات نہیں کروں گا‘۔
خود نوشت سے متعلق ایک سوال پر سابق چیف جسٹس کا رد عمل تھا کہ ’ اگر میں نے کتاب لکھی تو اپنی زندگی کے بارے میں لکھوں گا۔ اپنی جدوجہد کا ذکر کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ لوگ اکثر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ میری کس کس سے ملاقاتیں ہوئیں؟ ۔۔۔ اس پر بات نہیں کروں گا‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے متعلق مبینہ گفتگو آڈیو کی صورت میں بھی سامنے آئی تھی۔ جس پر انھیں لیگی قیادت کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کے پوسٹرز پارلیمنٹ میں لہرا کر احتجاج اور نعرے بازی بھی کی گئی تھی۔ سامنے آنے والی آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خواجہ طارق رحیم ثاقب نثار سے مبینہ طور پر مریم نواز کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اس خاتون کا کوئی اچھی طرح جواب دیں۔ یہ خاتون جو باتیں کرتی ہے، کسی طریقے سے اسے باہر کریںثاقب نثار نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پتا کیا، سوچا ہے ، میں نے موٹی موٹی باتیں کر لی ہیں اس کے جواب میں۔ مجھ میں الحمدللّٰہ ہمت ہے، میں برداشت کر سکتا ہوں، میں کبھی ہچکچاؤں گا نہیں اور نہ کبھی دباؤ میں آؤں گا۔ثاقب نثار خواجہ طارق رحیم سے مزید کہہ رہے ہیں کہ جب ضرورت ہوئی تو ہم آپ کو کہیں گے، سائیڈ پر کچھ کر کے خواجہ صاحب دھماکا کر دیں اور مجھے پتا ہے کہ آپ ایسا کر بھی دیں گے۔
یہ بات سن کرخواجہ طارق رحیم نے کہا کہ آپ نے اس کا جواب تو دیا ہے لیکن نے مجھے بتا دینا ہے، جیسے آپ کہیں گے ویسا ہو جائے گا۔خواجہ طارق رحیم کے جواب میں ثاقب نثار نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔
