کیا نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بن پائیں گے؟

سیاسی حلقوں میں ’’ون ملین ڈالر‘‘ مالیت کا سوال ہےکہ ’’کیا نواز شریف مقدر کا سکندر ہے، چوتھی بار وزارت عظمٰی کا ہما انکے سر پر بیٹھے گا؟‘‘ اگرچہ کسی سیاسی تجزیہ کار کے پاس کوئی ’’مصدقہ‘‘ خبر نہیں لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ ’’نواز شریف ہی چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے‘‘ انکی جلاوطنی ختم ہونےکے دو ماہ کے اندر ہی انکے پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کی راہ میں رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔

روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جس تیزی سے نواز شریف کو 6،7سال عدالتی جبر کا نشانہ بنایا گیا اسی تیز رفتاری سےان کے خلاف تمام مقدمات نمٹا دئیے گئے ہیں۔ ایون فیلڈ ،فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ’’بریت‘‘ پر کل تک ان کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھانے والوں نے نہ صرف نواز شریف کی بریت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں بلکہ انہیں ’’لاڈلا‘‘ ہونے کا طعنہ دینے والے نیب سے کوئی ثبوت نہ ہونے پر مقدمات بنانے بارے سوال کرنے کی بجائے بریت حاصل کرنے والے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بہر حال نواز شریف اب پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل بن گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ جن قوتوں کو 7سال قبل نواز شریف کو ’’خود سری‘‘ پر ’’نشان عبرت‘‘ بنانے کی سوجھی تھی ان سے کون پوچھے گا کہ ترقی کی منزل کی طرف رواں دواں ملک کو پٹڑی سے کیوں اتارا؟ انکے اس فعل سےنواز شریف کو لوگوں کے دلوں نکا لا جا سکا اور نہ ہی’’عمران پراجیکٹ‘‘ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ جن طاقتور لوگوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کیلئے ’’روبوٹ‘‘ تیار کیا تھا وہ خود اپنے خالقوں پر چڑھ دوڑا۔ 9مئی 2023ء کا سانحہ ہماری سیاسی تاریخ کا سیاہ دن ہے قومی سلامتی کے ادارے حرکت میں نہ آتے تو پاکستان میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جاتی اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں عمران خان نے خود جیل کا راستہ اختیار کیا۔ جبکہ نواز شریف نے اپنی واپسی کے بعد انتقام کی سیاست کی بجائے مفاہمت کا راستہ اپنایا، اگرچہ حالات کے جبر اور تکالیف نے انہیں اپنے غصے پر قابو پانا سکھا دیا ہے لیکن جب انہیں خود پر ڈھائے جانے والےمظالم کی یاد آتی ہے تو برملا اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’میں انتقام پر یقین نہیں رکھتا لیکن ان سے حساب کتاب تو بنتا ہے، جنہوں نے ان کی زندگی کا بیشتر وقت جیلوں اور جلا وطنی میں گزارنے پر مجبور کرنے کر دیا‘‘

نواز شریف کو پہلی بار پرویز مشرف نے جیل میں ڈالا پھر ملکی سیاست سے نکال باہر کرنے کیلئے نواز شریف کو 10سال تک جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا، نواز شریف ایک سخت جان سیاست دان ثابت ہوئے انہوں نے پرویز مشرف کے لگائے زخموں کو بھلایا نہیں جب انہیں تیسری بار اقتدار ملا تو انہوں نے پرویز مشرف کو ’’نشان عبرت‘‘ بنانے کی کوشش کی تو ان کی راہ میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ حائل ہو گئی، پرویز مشرف نے 11سال دوبئی میں جلا وطنی کی زندگی بسر کی اور انکی میت ہی پاکستان واپس آئی۔ 2014ء میں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش تیار کی گئی لیکن پارلیمنٹ ساز ش کے خلاف کھڑی ہو گئی فوری طور نواز شریف کا اقتدار تو بچ گیا لیکن نام نہاد ’’پانامہ‘‘کیس میں نواز شریف کو رگڑا دینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان گٹھ جوڑ ہو گیا۔ جنرل راحیل ایکسٹینشن چاہتے تھے اگر نواز شریف ان کوایکسٹینشن دے دیتے تو ان کی نااہلیت ہوتی اورنہ ہی انکو جیل جانا پڑتا۔ نواز شریف کیخلاف جو کام جنرل راحیل ادھورا چھوڑ گئے تھےاسے جنرل باجوہ نے مکمل کروایا نواز شریف کو ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں مجموعی طور 18سال قید، کروڑوں ڈالر جرمانے کی سزا دلوائی گئی، اشتہاری مجرم قرار دئیے جانے پر جائیدایں ضبط کی گئیں۔ پچھلے سات سال کے دوران نواز شریف کی جس قدر کردار کشی گئی شاید ہی پاکستان میں کسی سیاست دان کی کی گئی ہو۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل نے نواز شریف کو ’’چور اور ڈاکو‘‘ ثابت کرنے کیلئے کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کئے اسے مکافات عمل کہیے کہ کل تک جو لوگ نواز شریف کو بدنام کرنے کی مہم میں پیش پیش تھے وہ آج خود انہی الزامات میں جیلوں میں پڑے ہیں بلکہ ان کیخلاف اس سے زیادہ سنگین مقدمات فوجی عدالتوں میں چلنے والے ہیں۔

ساری دنیا جانتی ہےکہ 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی کے مقابلے میں ’’لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ میسر نہیں تھی بلکہ پورا جنوبی پنجاب، پنجاب کے بالائی علاقے اور کراچی پی ٹی آئی کو دیا گیا اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ آرٹی ایس ہی بیٹھ گیا۔

مبصرین کے مطابق سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے۔ نواز شریف کو ملکی سیاست میں 40سال ہونے کو ہیں وہ اس خطے میں سینئر ترین سیاست دان ہیں۔ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے کیلئے زیادہ وقت نہیں لگا عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے حصول میں 25،26سال لگے لیکن اس سے ہاتھ دھونے میں چند گھنٹے۔ لہٰذا سیاست دانوں کو اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ حکومتیں گرانے کیلئے کسی طاقت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے جب عمران خان کی حکومت میں نواز شریف علاج معالجہ کیلئے لندن میں جا کر بیٹھ گئے توان کی واپسی کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے پھر اللہ تعالی نے عمران خان کی حکومت کے خاتمےکی صورت حال پیدا کر دی 16ماہ تک2ووٹ کی اکثریت سے شہباز شریف کی حکومت قائم رہی،عمران خان نے اپنی حکمت عملی کے تحت مزید 5سال اقتدار کا منصوبہ بنا رکھا تھا لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور منظور تھا۔ اب عمران جیل میں ہیں جبکہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نواز شریف کے سر پر ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کا تاج سجا دیتا ہے تو انہیں عمران خان کی طرح اپنے سیاسی مخالفین سے نبرد آزما ہونے کی بجائے صلح جوئی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کر نا چاہے، انہیں اپنے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہیے جن ساتھیوں کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا آج ان میں سے کتنے ساتھی ان کے ساتھ رہ گئے ہیں وہ ان ساتھیوں کو واپس جماعت میں

قائداعظم نے پاکستانیوں سے اپنی بیماری کو پوشیدہ کیوں رکھا؟

لائیں، جن کی مشاورت انہیں مشکل صورت حال سے نکالتی رہی۔

Related Articles

Back to top button