نواز شریف کی جلا وطنی ان کے دور اقتدار سے زیادہ کیوں رھی؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی جلاوطنیوں کا دورانیہ، اُن کے اقتدار کے عہد سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ کل ملا کر کوئی سوا نو برس وزیراعظم رہے لیکن قیدوبند کے علاوہ کوئی گیارہ سال انہیں جلا وطن رہنا پڑا۔ اگرچہ پاکستان میں افواہ سازی اور جھوٹ کا بازار اب بھی گرم ہے لیکن اللّٰہ نے چاہا تو میاں نواز شریف کا پروگرام حتمی ہے۔ 21 اکتوبر کی شام لاہور کے علّامہ اقبال ائیر پورٹ پر اترنے کا پروگرام طے ہے۔ اپنی ایک تحریر میں عرفان صدیقی لندن میں نوازشریف کی وطن واپسی سے پہلے لندن میں مصروفیات اور ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ، دو اکتوبر کو لندن میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی۔ اِس ملاقات میں کوئی تیسرا نہیں تھا ، گھنٹہ بھر کی نشست میں بہت سے شک دور ہوگئے۔ بہت سی گرہیں کھل گئیں۔ ایک بات حتمی پن کے ساتھ سامنے آئی کہ منفی یا مثبت پہلوئوں کی زائچہ تراشی کا وقت تمام ہوا۔فیصلہ حتمی ہے کہ نوازشریف 21 اکتوبر کی شام پاکستان آ رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ تمام متعلقہ معاملات کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔طے پایا کہ ہم صبح 8 بجے ملا کریں گے تاکہ 11 بجے تک یکسوئی سے بات چیت ہوسکے۔ منگل سے جمعہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ 11 بجے کے بعد کی مصروفیات میں رُخصتی کا رنگ نمایاں تھا۔ نواز شریف کے لئے مشوروں کی بھرمار تھی۔ جو بھی آتا پھولوں کا ایک بڑا سا گلدستہ اور پندونصائح کابڑا سا ٹوکرابھی ضرور ہمراہ لاتا۔ اُن کے پاس کوئی نصف درجن تقریروں کے مسودے بھی دھرے تھے۔ مہمانوں کی کثرت اور مشوروں کے ہجوم کے باوجود میاں صاحب کی بدَن بولی میں اُکتاہٹ یا بیزاری کی کوئی جھلک نہ تھی
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ طویل ملاقاتوں میں ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئےنواز شریف اکثر دِل گرفتہ سے ہوجاتے۔ ’’حالات کیسے سدھریں گے۔ میں تین دفعہ وزیراعظم منتخب ہوا۔ تینوں دفعہ تلخ تجربوں سے گزرا۔ ہر بار تصادم اور محاذ آرائی سے بچنے کی کوشش کی۔ اپنی طبیعت کے برعکس بہت سی باتیں مان لیں کہ نظام چلتا رہے اور ملک کی تعمیر وترقی کا سلسلہ نہ ٹوٹے لیکن ہر بار میں ہار گیا۔ اصل میں ہر بار پاکستان ہار گیا۔ اپنی ذات اور اپنے خاندان سے ہونے والی ناانصافی اور ظلم کا معاملہ اللّٰہ پر چھوڑ دیا ہے لیکن پروجیکٹ 2017 سے پاکستان اور کروڑوں عوام پر جوگزری اور گزر رہی ہے اِس کا حساب کون دے گا؟
عرفان صدیقی کے مطابق جمعہ، دفتر میں الوداعی دن تھا۔ نواز شریف چار سال تک اُن کی مصروفیات کی لمحہ لمحہ کوریج کرنے والے صحافیوں سے ملے۔ بیرونی ممالک سے آئے وفود سے ملاقات کی۔ مقامی کارکنوں کی بڑی تعداد سے فرداً فرداً ملے۔ تصویریں بنوائیں۔سب کو اپنے گھر سے بن کر آنے والا کھانا کھلایا۔ کچھ آنکھیں ’وفورِ جذبۂِ بے اختیارِ شوق‘ سے بھیگ رہی تھیں۔ کچھ خوش تھے کہ بالآخر نوازشریف گھر جارہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں افواہ سازی اور دروغ بافی کا بازار اب بھی گرم ہے لیکن اللّٰہ نے چاہا تو نواز شریف کا پروگرام حتمی ہے۔ وہ چین جا رہے ہیں نہ قطر۔ عمرہ کے لئے سعودی عرب جاتے ہوئے دوحا کے ہوائی اڈے پر، پرواز بدلنے کے لئے مختصر قیام ہوسکتا ہے۔ عمرہ کے بعد وہ کچھ دِن مدینہ منورہ میں گزاریں گے۔ وطن واپسی سے دو دِن قبل متحدہ عرب امارات آنے اور 21 اکتوبر کی شام لاہور کے علّامہ اقبال ائیر پورٹ پر اترنے کا پروگرام طے ہے۔ 21 اکتوبر ہی کو ایک اور چھوٹی سی پرواز کا پیوند بھی لگ سکتا ہے __ لیکن یہ تجسس برقرار رہنا چاہیے۔
جمعہ کی سہ پہر میاں صاحب دفتر سے گھر کیلئے نکلے تو کارکنوں کے ایک بڑے ہجوم نے انہیں الوداع کہا۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ نوازشریف کی جلاوطنیوں کا دورانیہ، اُن کے اقتدار کے عہد سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ کل ملا کر کوئی سوا نو برس وزیراعظم رہے لیکن قیدوبند کے علاوہ کوئی گیارہ سال جلا وطن رہنا پڑا۔ پہلی بار وہ 10 دسمبر2000سے 25نومبر2007تک، تقریباً سات برس جبری طورپر ملک بدر رکھے گئے۔ اگست 2007میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی پاکستانی شہری کو اپنے وطن آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ اِس فرمان کا پروانہ تھامے نواز شریف وطن آئے تو میں اُن کے ہمراہ تھا۔ اُنہیں لائونج سے باہر نہ نکلنے دیا گیا۔ کمانڈوز دھکے دیتے ہوئے ایک اور طیارے تک لے گئے جو اُنہیں ایک بار پھرجدہ کے کنگ عبدالعزیز ہوائی اڈے کے شاہی ٹرمینل پر لے گیا۔ اکتوبر2007میں محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ترک کرکے پاکستان آگئیں تو مشرف کی تمام تر کوششوں کے باوجود، سعودی عرب نے نواز شریف کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی اور وہ 25 نومبر2007کو لاہور پہنچ گئے۔ شدید بیماری کی حالت میں حکومت اور عدلیہ نے انہیں 19 نومبر2019کو لندن جانے کی اجازت دے دی۔ صحت کے گونا گوں مسائل اور پاکستان کے نوازدشمن، انصاف کُش ماحول نے اس جلاوطنی کو چار سال تک پھیلا دیا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نوازشریف آہنی اعصاب کا مالک ہے لیکن بہرطور گوشت پوست کا ایک انسان ہے۔
غالب نے کہا تھا
کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
وہ دکھوں اور غموں کی کتھا کم کم ہی سناتے ہیں ۔ ایک دن دفتر کے چھوٹے سے ذیلی کمرے میں بیٹھے وہ دیر تک ماضی کی راکھ کریدتے رہے۔ یہاں تک کہ میں اُن کے چہرے پر لندن کے سرمگیں بادلوں کی سنولاہٹ محسوس کرنے لگا۔ اٹھتے ہوئے انہوں نے میز پر دھرا اپنا سیل فون آن کیا اور مجھے دکھایا۔ پس منظر میں وال پیپر کے طور پر لگی جواں سال کلثوم نوازکی تصویر مسکرا رہی تھی۔ کلثوم کے ’بائو جی‘ نے چہرہ دوسری طرف موڑتے ہوئے گہری محبت میں گندھا صرف ایک سادہ و معصوم سا
سارہ انعام قتل کیس کا ٹرائل حتمی مرحلے میں داخل
جملہ کہا __ ’’یہ مجھے بہت یاد آتی ہے
