کیا مولانا پاک افغان کشیدگی ختم کرانے میں کامیاب ہونگے؟

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسے وقت میں افغانستان کے دورے پر ہیں جب پاکستان میں دہشتگردی کی لہر میں اضافہ ہوا ہے، ان کی افغان طالبان سے ملاقات کے دوران ہی ضلع باجوڑ میں دہشتگردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا جس کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح افغانستان سے ملتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں، جس کا بڑا سبب پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہیں جس کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، تعلقات مزید اس وقت خراب ہوئے جب گزشتہ سال کے اواخر میں افغانستان سے چترال پر باقاعدہ حملے ہوئے، جن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر سیکیورٹی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔پاکستان کی جانب سے احتجاج کے باوجود بھی اس نوعیت کے حملے نہیں رکے، گزشتہ ماہ ڈی آئی خان سیکیورٹی بیس پر حملہ ہوا، جس کی تحقیقات میں بھی کھرا نہ صرف افغانستان تک جا پہنچا، بلکہ مذکورہ حملے میں امریکی جدید اسلحہ استعمال ہونے کا بھی انکشاف ہوا، جو امریکی انخلا کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ گیا تھا۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کشیدہ حالات میں مولانا فضل الرحمن کا دورہ افغانستان کتنی اہمیت کا حامل ہے؟مبصرین کا مولانا فضل الرحمن کے دورہ افغانستان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ مولانا کا دورہ اہمیت کا حامل ہے، وہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تلخیوں کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ’افغان طالبان مولانا کی عزت کرتے ہیں اور وہ ان کو مذاکرات کے میز پر لانے کے لیے قائل کر سکتے ہیں، بنیادی طور پر دیکھا جائے تو مولانا صاحب پیغام لے کر گئے ہیں اور پیغام لے جانے والے کی طالبان کے نزدیک اہمیت ہے۔‘
سینئر صحافی و تجزیہ کار محمود جان بھی مولانا کے دورہ افغانستان کو اہمیت کا حامل گردانتے ہیں لیکن ان کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ وہ جن کے ساتھ بات چیت کرنے گئے ہیں ان کے کون سے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کراسکتے ہیں۔ ’موجودہ حالات میں مولانا حکومت میں نہیں ہیں، پارلیمنٹ موجود نہیں اور مولانا کی اپنی پوزیشن بھی کچھ زیادہ مضبوط نہیں ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں سیکیورٹی حالات اور دہشتگردی سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے، کچھ بڑے حملوں کی یوں تو کالعدم ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ان کے تانے بانے افغانستان سے جا ملے۔’جس پر پاکستان نے کئی بار افغان حکومت سے احتجاج کرتے ہوئے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا۔۔۔ مولانا فضل الرحمن اپنے دورے کے دوران افغان طالبان کے ذریعے ٹی ٹی پی سے بھی بات کریں گے۔‘
مبصرین مطابق مولانا فضل الرحمن سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سمیت کچھ سخت گیر موقف اور فیصلوں پر بات کریں گے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق موجودہ حالات کے تناظر میں فیصلے کرنے پر زور دیں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطا بق مولانا فضل الرحمن افغان اور ٹی ٹی پی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت تو کر سکتے ہیں لیکن ان کو کچھ آفر کیے بغیر قائل نہیں کرسکتے، کالعدم ٹی ٹی پی کے مطالبات کی ایک طویل فہرست ہے جبکہ افغان طالبان بھی پاکستانی حکومت سے خوش نہیں ہیں۔’۔۔۔خاص طور پر افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کے بعد ان حالات میں وہ کچھ خاص آفر کے بغیر شاید مدد کے لیے تیار نہیں ہوں گے، ٹی ٹی پی کو کنڑول کرنا بھی آسان نہیں، اس کے لیے وسائل درکار ہیں، جس کا افغان حکومت مطالبہ کر سکتی ہے۔‘
یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان دشمن ٹی ٹی پی کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟ مبصرین کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں مقیم ہے اور وہاں سے پاکستان میں دہشتگردی اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے مطالبات کی فہرست طویل ہے۔ عمران خان دور حکومت میں انہیں واپس لاکر آباد کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی، جس کے بعد وہ دوبارہ منظم ہونے میں کامیاب ہوئے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کی قبائلی اضلاع کا انضمام ختم کرکے فاٹا کی بحالی، ملک میں اسلامی نظام، ٹی ٹی پی قیادت کے خلاف کیسز ختم کرنے سمیت دیگر شرائط شامل ہیں، سوات اور قبائلی اضلاع میں ملٹری آپریشن کے دوران دہشتگردوں کا خاتمہ کیا گیا اور کچھ بھاگ کر افغانستان منتقل ہوگئے تھے جو دوبارہ واپس آنا چاہتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا دورہ افغانستان میں مولانا کو ریاست کی حمایت حاصل ہے؟ مبصرین کے مطابق دو ممالک کے درمیان پالیسی امور پر بات چیت ریاست کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، مولانا فضل الرحمن مذہبی حلقوں میں اہمیت کے حامل ہیں اور اسی وجہ سے انہیں افغانستان میں بھی سرکاری سطح پر پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی ریاستی ادارے ہی دیکھتے ہیں۔ اور ان کی حمایت اور رضامندی کے بغیر کسی دوسرے ملک کا دورہ اور مذاکرات ممکن نہیں۔ ’ریاستی حمایت کے بغیر دورہ بے سود ہے، مولانا خود سے نہیں گئے بلکہ دعوت پر گئے ہیں، اور جن کا پیغام لے کر گئے ہیں، وہ بھی پرامید ہیں۔‘ دوسری جانب مولانا کا دورہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ قن کیلئے الیکشن میں اہمیت کا حامل ہو گا، ویسے بھی مولانا جن کا پیغام لے کر افغانستان ہیں، ان سے بدلے میں انھوں نے کچھ تو مانگا ہو گا اور یقین دہانی کے بعد ہی مولانا افغانستان گئے ہوں گے۔’حالات سے لگ رہا ہے کہ الیکشن کے بعد بھی مولانا کی ضرورت پڑے گی، وہ اس ضمن میں یقیناً سیاسی طور پر فائدہ بھی ضرور اٹھائیں گے اور کریڈٹ لیں گے کہ امن کے لیے انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
