پاکستان کے حالات افغانستان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہوگئے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار محمد بلال غوری نے کہا ہے کہ پاکستانی یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر وطن عزیز کو کس کی نظر لگ گئی؟ آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کے حالات افغانستان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہوگئے؟ معاشی مشکلات اپنی جگہ مگر پاکستان میں درپیش بحران مصنوعی نوعیت کا ہے۔ روپے کی قدر کم ضرور ہوئی ہےلیکن اس افراط زر اور روپے کی قدر میں مطابقت نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق آج بھی ڈالر کا حقیقی نرخ 250 روپے سے کم ہے۔ اپنے ایک کالم میں بلال غوری لکھتے ہیں کہ برسہا برس سے شورش کا شکار افغانستان جہاں صنعت و پیداوار مفقود ہے، وہاں ڈالر کی شرح تبادلہ لگ بھگ 80 افغانی ہے، سری لنکا جو دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا، وہاں ڈالر 322 روپے میں دستیاب ہے تو پاکستان میں ڈالر کی اونچی اُڑان کا سبب کیا ہے؟ کیا روپے کی بے قدری کا مطلب یہ ہے کہ ہماری معیشت ان ممالک سے بھی زیادہ تباہ ہوچکی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل عام پاکستانی کی پریشانی کا سبب ہیں۔ آپ اندازہ کریں جس شخص نے ساری زندگی ایک ایک پیسہ جوڑ کر لگ بھگ پچاس لاکھ روپے جمع کئے تاکہ کوئی چھوٹا سا گھر بناسکے۔ روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے اسکا خواب چکنا چور ہوچکا۔ کیونکہ اسکی جیب یا اکاؤنٹ میں اب بھی پچاس لاکھ کے نوٹ تو موجود ہیں مگر عملاً اس میں سے بیس لاکھ روپے اُڑن چھو ہوچکے ہیں۔ کسی نے گاڑی خریدنے کیلئے رقم جمع کی یا پھر بیٹیوں کے جہیز کیلئے جمع پونچی سنبھال رکھی ہے، کاروباری افراد جنہوں نے غیرملکی زرمبادلہ میں کاروبار کرنا ہوتا ہے، یہ رجحان ان سب کیلئے خوفناک ہے۔ چنانچہ لوگ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر وطن عزیز کو کس کی نظر لگ گئی؟ آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کے حالات افغانستان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہوگئے؟ سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ مگر آج بھی پاکستان کا ان ممالک سے کوئی موازنہ ممکن نہیں۔ بلال غوری کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کا تو معاشی ترقی کی وجہ سے پاکستان پر سبقت لے جانا سمجھ میں آتا ہے مگر افغانستان، سری لنکا، مالدیپ اور بھوٹان جیسے ممالک آگے نکل جائیں تو اس پہیلی کو سمجھنا ضروری ہے۔ معاشی مشکلات اپنی جگہ مگر پاکستان میں درپیش بحران مصنوعی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران زیر گردش کرنسی میں بے تحاشا اضافے کے باعث روپے کی قدر کم ضرور ہوئی لیکن اس افراط زر اور روپے کی قدر میں مطابقت نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق آج بھی ڈالر کا حقیقی نرخ 250 روپے سے کم ہے۔ لیکن وہی’’سیٹھ‘‘ جن سے ملاقاتیں کرکے اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اپنے مالی مفادات کے پیش نظر ڈالر کو اوپر لے جاتے ہیں۔ اگر حکومت دو کام کرلے تو ڈالر کی اونچی اڑان کو باآسانی روکا جاسکتا ہے۔ ایک تو منی ایکسچینج کا کاروبار بند کردیا جائے۔ غیر ملکی کرنسی کا لین دین بینکوں کے ذریعے ہو تاکہ ڈالر یا کوئی بھی غیر ملکی کرنسی روک کر مصنوعی بحران پیدا نہ کیا جا سکے۔ افغانستان میں پیداوار نہ ہونے کے باوجود کرنسی اسلئے مستحکم ہے کہ پاکستان سے ڈالر اسمگل ہوکر وہاں جاتا ہے اور خریداری کیلئے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تاجروں سے ملاقات کے بعد جب کریک ڈائون ہوا تو نہ صرف پاکستان میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی بلکہ افغان کرنسی نے بھی اپنی قدر کھو دی۔ اگرچہ یہ صورتحال عارضی ہے لیکن ڈھیل نہ دی جائے تو نہ صرف مزید بہتری لائی جاسکتی ہے بلکہ اسے برقرار بھی رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا کام بیانہ سازی سے متعلق ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا گھر میں اگر بچوں سے یہ کہہ دیا جائے کہ کھانا ختم ہونے والا ہے اور نہیں ملے گا تو بھوک بڑھ جاتی ہے اور بچے مزید کا تقاضا کرتے ہیں لیکن اسکے برعکس اگر انہیں یقین ہو کہ سب کچھ وافر مقدار میں موجود ہے تو طلب معمول سے بھی کم رہتی ہے۔ بلال غوری بتاتے ہیں کہ یہ رجحان محض بچوں تک محدود نہیں، بالغ افراد کا بھی فطری طور پر یہی طرز عمل ہوتا ہے۔ آٹے، چینی، پیٹرول یا کسی بھی چیز کی قلت ہو جائے تو لوگ معمول سے زیادہ خریداری کرکے ذخیرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈالر کے حوالے سے بھی یہی ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے دو سال پہلے 200 روپے کے حساب سے ڈالر خرید لئے تھے اور 320 روپے کے حساب سے بیچ دیئے تو سوچیں کتنے کم وقت میں کتنی زیادہ آمدنی ہوئی۔ آپ کسی بھی شعبہ میں سرمایہ کاری کرلیں، اتنا منافع نہیں کمایا جاسکتا۔ اور پھر ہر طرح کی سرمایہ کاری کے برعکس یہاں پیسہ ڈوب جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ چنانچہ لوگوں نے کرنسی کے لین دین کو کاروبار بنا لیا ہے۔ ڈالر کے بجائے اگر وہ اپنی جمع پونجی روپے میں رکھیں گے تو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ لہٰذا بے یقینی کے اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ غیر ذمہ دار تجزیہ نگار جو یہ افواہیں پھیلاتے ہیں کہ ڈالر 400 یا 500 کا ہو جائیگا، انہیں روکا جائے۔ لوگوں کو یہ باور کروایا جائے کہ اب روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے،ڈالر اوپر جانے کے بجائے نیچے آئیگا تو اس تاثر سے ہی بہت فرق پڑ جائے گا۔ جنہوں نے نرخ بڑھنے کی امید پر ڈالر چھپا رکھے ہیں، وہ باہر لائیں گے تو روپے کی قدر خودبخود بڑھے گی۔ اس حوالے سے ترک صدر طیب اردوان کی مثال سامنے ہے۔ حالیہ صدارتی انتخابات سے ایک سال پہلے ترکش لیرا کی قیمت میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ مگر طیب اردوان نے قوم کو اعتماد میں لیا۔ عوام کو یقین دلایا گیا کہ یہ بحران عارضی اور مصنوعی ہے۔ امریکی ڈالر تبدیل کروانے والوں کیلئے سہولتیں پیشکش کی گئیں اور پھر یہ بحران کسی حد تک ختم ہوگیا۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی اسی طرح کے اقدامات سے ڈالر کو کنٹرول کیا کرتے تھے لیکن اس بار سازگار ماحول میسر نہ آنے کے سبب انکا جادو نہیں چل سکا۔ اب اگر عام انتخابات کے انعقاد اور پھر منتخب حکومت کے آنے تک ڈنڈا دکھا کر صورتحال کو سنبھالا جاسکتا ہے تو ملکی معیشت کیلئے بہت بڑا سہارا اور عام آدمی کیلئے سب
پاکستان کے حالات افغانستان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہوگئے؟
سے بڑا ریلیف ہوگا۔
