پرویز الٰہی نے ق لیگ میں واپسی کیلئے بڑی شرط عائد کر دی؟

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے مبینہ طور پر اپنے بچھڑے کزن چوہدری پرویز الہٰی سے جیل میں ایک اور ملاقات کی لیکن ملاقات کے حوالے سے دونوں رہنماؤں کے قریبی حلقوں کی جانب سے متضاد آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 جون 2022میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے اپنے کزن کو چھوڑنے والے پرویز الہٰی کی گرفتاری کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسری ملاقات تھی، چوہدری شجاعت حسین اپنے کزن کو دوبارہ اپنے ساتھ ملانے اور مشکلات میں گھرے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین نے ملاقات کے دوران پرویز الہٰی کی خیریت دریافت کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اگر چوہدری شجاعت حسین کے کیمپ کے ذرائع پر یقین کیا جائے تو پرویز الہٰی نے پی ٹی آئی چھوڑنے اور ضمانت لینے پر اتفاق کرلیا ہے، لیکن مسلم لیگ (ق) کے ذرائع نے پرویز الہٰی کے صاحبزادے سے متعلق کہا کہ مونس الہٰی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو چھوڑنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پرویز الہٰی، اپنے صاحبزادے کے پی ٹی آئی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کے فیصلے کے بھی نقاد ہیں۔مسلم لیگ (ق) کے ذرائع نے بتایا کہ پرویز الہٰی نے کہا کہ پیچیدہ خاندانی عوامل کے درمیان یہ بہتر ہوگا کہ ان کا صاحبزادہ خود پی ٹی آئی سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کا اعلان کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران مونس الہٰی سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن کال کا جواب نہیں دیا گیا، مونس الہٰی اپنے والد کی جانب سے جنوری میں پنجاب اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد سے اسپین میں موجود ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مونس الہٰی نے بعد میں جواب دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

دوسری جانب پرویز الہٰی کیمپ کے ذرائع نے دونوں کزنز کے درمیان پیر کے روز کسی بھی ملاقات کی تردید کی، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مونس الہٰی نے کوئی کال وصول نہیں کی اور نہ ہی کوئی جواب دیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو قائل کر رہی ہے کہ وہ پرویز الہٰی کو پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور کرے۔

دوسری جانب خاندانی ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت کی پرویز الہٰی کے ساتھ 4 ملاقاتیں جیل میں ہو چکی ہیں اور ہر ملاقات میں چوہدری شجاعت کا ایک سوال پرویز الہٰی سے ضرور ہوتا ہے ڈھیٹ ہو گئے ہو تو پرویز الہٰی مسکرا کر کہہ دیتے ہیں یہ دن بھی گزر جائیں گے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق پرویز الہٰی نہ ہی پریس کانفرنس کے لیے مان رہے ہیں اور نہ ہی مونس الہٰی، والد کو چُھڑوانے کے لیے پریس کانفرنس کرنے کو تیار ہیں۔ مونس الہٰی کی والدہ بھی مونس الہٰی کے مؤقف کو سپورٹ کرتی ہیں۔

چوہدری پرویز الہٰی چونکہ جیل میں ہیں تو اس دفعہ چوہدری شجاعت سمیت تینوں بھائی گجرات نہیں گئے اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ چوہدری برادران کی فیملز نے عید لاہور میں منائی ہے۔ چوہدری شجاعت سمیت تینوں بھائیوں نے پرویز الہٰی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیں۔ چوہدری وجاہت نے وہ حوالہ بھی دیا کہ جب وزیراعلیٰ بننے کی بات تھی تو میں نے آپ کو سپورٹ کیا تھا اب میری بات مانیں اور پی ٹی آئی کو چھوڑ دیں۔ اس پر چوہدری پرویزالہٰی نے جواب دیا کہ میرا بیٹا نہیں مانتا جس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا اگر میرے لیے کچھ کرنا ہی تو جیل میں مجھے سہولیات مکمل دلوائی جائیں

عید الاضحیٰ کے کچھ دن بعد چوہدری شجاعت کی ملاقات پھر پرویزالہیٰ سے ہوئی۔ اس دفعہ ملاقات میں اکیلے چوہدری شجاعت حیسن ہی تھے تو انہوں نے پرویزالہٰی سے کہا کہ مجھے تمہاری صحت کی فکر ہے تمہاری عمر 77 سال ہوگی ہے، تمہارے پاؤں پھول گئے ہیں۔ اپنے بیٹے کو سمجھاؤ اور واپس آجاؤ۔ اس پر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ میری مونس الہٰی سے بات ہی نہیں ہوئی، اس کے فون پر گھنٹیاں جاتیں ہیں مگر اٹھا کوئی نہیں رہا۔ چوہدری شجاعت حیسن نے کہا کہ مزید دن جیل میں رہنے سے صحت مزید خراب ہوگی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا جس پرویز الہٰی نے کہا اب بات ہوئی تو مونس سے مشورہ کروں گا۔

خیال رہے کہ چوہدری شجاعت حسین اس سے قبل 19 جون اور عید کی تعطیلات کے فوری بعد 2 جولائی کو پرویز الہٰی سے 2 بار ملاقات کر چکے ہیں اور انہیں مسلم لیگ (ق) میں دوبارہ شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کے بعد ہونے والی دوسری ملاقات میں پرویز الہٰی نے اپنے کزن سے کہا کہ وہ تمام مشکلات کا سامنا کرچکے اور اب ان کا صاحبزادہ ہی خاندان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا، ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ مونس الہٰی اب مسلم لیگ (ق) کو مردہ گھوڑا سمجھتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں کے فوری بعد پرویز الہٰی کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کردی گئی تھیں، لیکن پرویز الہٰی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا

پھلوں کا بادشاہ پاکستانی آم نمبر ون ہے یا بھارتی؟

کہ یہ سہولیات ’صرف فوٹو شوٹ کے لیے‘ فراہم کی گئی تھیں۔

Back to top button