پرویز خٹک کا عمران کو بڑا جھٹکا،KPسے PTIکا صفایا

سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عمران خان کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا سے تتحریک انصاف کا صفایا ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔سابق وزیر اعلٰی و وزیر دفاع پرویز خٹک کی اعلان کردہ نئی سیاسی جماعت کا نام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینزرکھا گیا ہے، پرویز خٹک کی جانب سے بنائی جانے والی نئی جماعت میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیر اعلٰی محمود خان بھی شامل ہو گئے، جبکہ 57 قومی و صوبائی ارکان اسمبلی بھی نئی جماعت میں شامل ہوچکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان سمیت سابق ایم این اے صالح محمد خان، صوبائی وزیراشتیاق ارمڑ، ضیا اللہ بنگش، ارباب وسیم، ملک واجد علی، افتخار مشوانی اور شوکت علی نئی پارٹی کا حصہ ہیں۔پشاور سے سابق رکن قومی اسمبلی شوکت علی اور ڈی آئی خان سے سابق ارکان قومی اسمبلی یعقوب شیخ، آگاز اکرم گنڈا پور، ملاکنڈ سے پیر مصور شاہ، اورکزئی سے سید غازی غزن جمال، باجوڑ سے سابق صوبائی وزیر انور زیب اور مانسہرہ سے نوابزادہ فرید صلاح الدین اور سوات سے محب اللہ خان نئی پارٹی میں شامل ہوئے۔پارٹی کے دیگر اراکین میں ڈی آئی خان ڈویژن سے عرفان کنڈی، رمضان شوری، ہزارہ ڈویژن سے اورنگزیب اور مفتی عبید جبکہ کوہاٹ سے عتیق ہادی شامل ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز میں گزشتہ حکومت سے وابستہ 57 سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں، جبکہ مزید شمولیتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
نئی پارٹی کا قیام سانحہ 9 مئی پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات اور احتجاج کی صورت میں سامنے آیا ہے، سانحہ 9 مئی کے واقعات پر ان محب وطن سیاست دانوں نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر لی ہیں۔پرویز خٹک نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہاکہ سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کی بھرپورمذمت کرتے ہیں، پاکستان کے وجود سے ہی ہم سب کا وجود ہے، ان کی پارٹی کے قیام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا خیبرپختونخوا سے مکمل خاتمہ ہوچکا ہے۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے جانے کے بعد پرویز خٹک نے سیاسی مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی تیارکی اورآج پشاور کے جی ٹی روڈ جھگڑا میں واقع شادی ہال میں نئی پارٹی کے قیام کے لیےارکان کو اکٹھا کیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شادی ہال میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور جگہ جگہ پولیس تعینات رہی، جو شادی ہال کے ارد گرد کسی کو کھڑا ہونے کی بھی اجازت نہیں دے رہی تھی۔پرویز خٹک کی پریس کانفرنس کے لیے سیکیورٹی انتظامات اس قدر سخت تھے کہ صحافیوں کو بھی شادی ہال کے قریب نہیں جانے دیا جا رہا تھا اس دوران پولیس نے 4 صحافیوں سے انکے موبائل بھی چھین لیے تھے۔
پرویز خٹک کے قریبی بتاتے ہیں کہ انہوں نے آزادانہ سیاست کا فیصلہ کیا ہے، تحریک انصاف سے اب وہ کسی بھی طرح وابستہ نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق اراکین کے علاوہ دیگر جماعتوں کے اراکین کی بھی حمایت انکو حاصل ہے ۔ پرویز خٹک 9 مئی کے بعد سے اہم ملاقاتیں کر رہے تھے، اور عید پرنوشہرہ آنے کے بعد کافی مصروف دکھائی دیے۔پرویز خٹک کی اہم سرگرمیوں کے بارے میں ان کے چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا کیونکہ وہ میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان کی اکثر خبریں نوشہرہ کے مقامی صحافی کے ذریعے ہی آتی ہیں جو ان کے قابل اعتماد ہیں۔
خیال رہے کہ 73 سالہ پرویز خٹک نوشہرہ کے منکی شریف میں اس وقت کے نامور گورنمنٹ ٹھیکیدار کے ہاں پیدا ہوئے۔ پرویز خٹک نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1983 میں ممبر ڈسٹرک کونسل نوشہرہ سے کیا تھا جس کے بعد کامیابیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک تھے، پرویز خٹک وزیر آب پاشی اور 2 مرتبہ وزیر صنعت و پیداوار بھی رہے۔ سال 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے ممبر خیبر پختونخوا منتخب ہوئے اور پی ٹی آئی کے پہلے وزیراعلٰی بن گئے۔سنہ 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر دفاع کا قلمدان دیا گیا۔ پرویز خٹک کو سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور وہ عمران خان کے انتہائی قریبی تصور کیے جاتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ سیاسی فیصلوں میں وہ عمران خان کو مشورہ بھی دیتے تھے اور میٹنگز کے دوران کچھ معاملات پر
چودھری پرویز الٰہی کی فوری رہائی کے امکانات ختم
کھل کر مخالفت بھی کیا کرتے تھے۔
