جنوری میں انتخابات کے اعلان پر PPPاور PTIبرہم کیوں؟

الیکشن کمیشن کے جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں انتخابات کے اعلان کے ساتھ جہاں نگران حکومت کی مدت کو غیر معمولی طول دینے جیسی افواہوں کا خاتمہ ہوا وہیں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا الیکشن کمیشن کا یہ اعلان آئین سے مطابقت بھی رکھتا ہے کہ نہیں؟ سیاسی حلقوں میں اس بارے بھی بحث جاری ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری میں انتخابات کے انعقاد کے اعلان پر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو کتنی امید ملی ہے اور کیا اس سے ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام میں بھی کمی آ سکے گی؟ یا الیکشن کا انعقاد ایک اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ بنے گا؟
خیال رہے کہ پاکستان میں نو اگست 2023 کو قومی اسمبلی اور اس کے بعد سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو سب کو انتظار تھا کہ اب الیکشن کی تاریخ کا اعلان کب لیا جائے گا ۔ یہ ابہام بھی موجود رہا کہ آیا نگران حکومت کا دائرہ اختیار اس لیے تو نہیں بڑھایا گیا کہ اس کی مدت پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کی طرح لا متناہی طول پکڑ لے گی۔تو کیا الیکشن کمیشن کا اعلان سیاسی جماعتوں کے لیے امید کی کرن ہے؟ اور کیا اس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام میں کچھ قرار آنے کی امید ہے؟اس سوال کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ اعلان نہایت خوش آئند ہے کیونکہ اس سے بعض حلقے جو ملک میں بد گمانی اور غیر یقینی پھیلا رہے تھے، اسے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔انتخابات کے اعلان کا مطالبہ تو سیاسی جماعتوں کی جانب سے بارہا کیا جاتا رہا ہے تاہم بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے ماہ کا اعلان کرنے کو پھر تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں سابق وفاقی وزیر قانون اورتحریک انصاف کے دور حکومت میں عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نےالزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ توہین عدالت کا مرتکب بھی ہوا ہے۔’سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدالت میں الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی تھی کہ انھیں انتخابات کروانے کے لیے چار ماہ کا وقت درکار ہے تاکہ انتخابات کی تیاری کی جا سکے۔ تو اب ایک طرف غداری ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن توہین عدالت کا مرتکب بھی ہوا ہے۔‘دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن جنوری میں ہونے کے اعلان پرالیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کے انعقاد کے اعلان کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مسلم لیگ ن نے جہاں اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے وہیں پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی نے شیڈول جاری کیے جانے کے بجائے محض الیکشن کے ماہ کے اعلان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نےبتایا کہ پیپلز پارٹی کا مطالبہ تھا کہ الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے اور ساتھ ہی شیڈول بھی جاری کرے۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق الیکشن کمیشن نے آدھا کام کیا ہے لیکن نہ ہی تاریخ دی اور نہ ہی شیڈول جاری کیا اور یہ دونوں چیزیں ابھی زیر التوا ہیں۔ان کے مطابق ’پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ڈیمانڈ کی تھی کہ ہمیں الیکشن کے انعقاد کی بابت بتایا جائے۔ اب الیکشن کمیشن کو جواب دینا ہو گا کہ یہ آئین کے مطابق بھی ہے کہ نہیں کیونکہ میرے خیال سے یہ آئین کے مطابق نہیں۔‘
سیاسی جماعتوں کی جانب سے تو الیکشن کمیشن کے اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے لیکن کیا واقعی اس اعلان سے ملک میں سیاسی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے گا؟اس سوال کے جواب میں اینکر اور صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ کسی حد تک الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہو گا تاہم جب تک شیڈول اور تاریخ کا اعلان نہیں ہو گا اس وقت تک یہ سیاسی بے چینی ختم نہں ہو گی۔
تو کیا موجودہ سیاسی صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات لڑنے کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ میسر ہو گی؟اس سوال پر عاصمہ شیرازی نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا فی الحال ہوتا دکھائی نہیں دے رہا لیکن ایسا ہونا ضروری ہے۔’یہ درست ہے کہ عمران خان کے خلاف سنجیدہ قسم کے کیسز ہیں لیکن ان کی جماعت موجود ہے۔ اگر ان کو انتخابات لڑنے کا موقع دیا جائے گا تو پھر یقینی طور پر معاملات کنٹرول میں رہ سکتے ہیں اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے خدشات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔‘’سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کا امکان فی الحال بہت زیادہ نظر نہیں آ رہا تاہم آگے جا کر ہو سکتا ہے کہ یہ امکان بڑھ جائے کیونکہ میرے خیال میں پاکستان تحریک انصاف کو کسی حد تک اس کا موقع دینا ہو گا۔‘
عاصمہ شیرازی کے مطابق انتخابات لڑنے میں برابری کا موقع تب ہی مل سکتا ہے جب تحریک انصاف کے کیسز کو میرٹ پر سنا جائے۔’اگر کیس نیب کے حوالے سے بنتے ہیں تو اس میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاہم جس طرح دہشت گردی کے مقدمات اور نو مئی کے تناظر میں چیزیں آگے بڑھی ہیں تو میرا خیال ہے اس میں میرٹ پر چیزیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘’تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع دیے بغیر ظاہر ہے کہ انتخابات کا فائدہ اس طرح نہیں ہو گا کیونکہ اس صورت میں بعد میں بھی وہی ہونے کے امکان ہے جیسا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ہوا۔ تو اگر اس صورتحال سے بچنا ہے تو برابری کے مواقع دینا ہوں گے۔‘
دوسری جانب صحافی اور اینکر نسیم زہرہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کے بعد اب سیاسی جماعتوں کے ساتھ عوام میں بھی یقیناً یہ شک ختم ہو جائے گا کہ کسی نہ کسی طریقے سے غیر جمہوری سیٹ اپ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’اچھی بات یہ ہو گی کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم پر فوکس کریں گی اور باقی معاملات کا انحصار اس پر ہو گا کہ نیا سیٹ اپ قائم ہو اور معاملات درست طریقے سے آگے بڑھیں۔‘تاہم نسیم زہرہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان
پاکستان کی پہلی خاتون خلا میں جانے کیلئے تیار
سب میں یہ بہت بھی اہم ہو گا کہ انتخابی عمل کتنا صاف شفاف ہوتا ہے۔‘
