بالآخرسپریم کورٹ نےبھی عمران خان کو ٹھینگا دکھا دیا

توشہ خانہ میں مبینہ خردبرد میں جواب طلبی سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر عمران خان کو منہ کی کھانی پڑ گئی،عدالت عظمیٰ نے ریلیف دینے کی بجائے عمران خان کو ٹھینگا دکھا دیا۔سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کا ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن حکام اور وکیل امجد پرویز سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، عمران کی جانب سے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے۔جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے 2 رکنی بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت شروع ہونے سے قبل کمرہ عدالت کے باہر شور شرابے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث آپ باہر جاکر معاملات کو دیکھیں ، ہم ایسے مقدمہ کو نہیں سن سکتے، عدالت کی عزت و احترام سب پرلازم ہے، یہ آپ کی اور درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ عدالت کی تکریم کو یقینی بنائیں، ہم ایسے سماعت نہیں کر سکتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے کمرہ عدالت آنے کے باوجود شور شرابہ نہ رکنے پر ججز اٹھ کر چلے گئے، کمرہ عدالت کے باہر خاموشی ہونے پر دو رکنی بینچ نے سماعت دوبارہ شروع کی، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ معاملہ ہائیکورٹ کو بھجوا رہے ہیں تو ٹرائل کیسے روک دیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم چینلج کریں گےتو تفصیل سے سن کر مناسب حکم جاری کریں گے، ابھی تو ہائیکورٹ نے براہ راست کوئی حکم نہیں دیا جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو سات روز میں فیصلے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر عمل ہو چکا، ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ کیس میں دائرہ اختیار سے متعلق نکتہ بنیادی اور اہم ہے، ہم ہائیکورٹ کو کوئی حکم نہیں دے رہے، ماتحت عدلیہ سے متعلق ایڈوائزری اختیار سماعت ہائیکورٹس کے پاس ہے، ہم تو صرف ہائیکورٹ سے درخواست کر سکتے ہیں، میرے خیال میں ہمیں اس وقت اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔

عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کی ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ وکیل درخواست گزار اور ڈی جی لا الیکشن کمیشن دونوں نے اتفاق کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔درخواست گزار کی جانب سے توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے جج پر اعتراض کی درخواست ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے مقدمہ ٹرائل کورٹ میں منتقل کرنے کے فیصلے کو بھی چیلنج کررکھا ہے۔عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں جرح کے دوران دستاویزات طلبی کی استدعا مسترد ہونے اور توشہ خانہ فوجداری کیس سننے والے جج کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے اور گرفتاری سے روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی 2 درخواستیں قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نےسابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔فیصلے کے تحت

خٹک کی سیاسی جماعت اچانک خاموش کیوں ہو گئی؟

عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کر دیا گیا تھا۔

Back to top button