توشہ خانے سے کس نے کیا لیا؟ سب پھڑے جان گے

ماضی میں توشہ خانہ سے مہنگے گفٹ سستے داموں حاصل کرنے والوں میں حکومتی و اپوزیشن تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما شامل ہیں تاہم ان میں سے عمران خان کو اس حوالے سے انفرادیت حاصل ہے کہ عمران خان وہ واحد حکمران ہیں جنہوں نے کوڑیوں کے بھاؤ قیمتی تحائف توشہ خانہ سے حاصل کئے اور ان کو ملکی و غیر ملکی مارکیٹس میں فروخت کر کے بھاری منافع کمایا۔عمران خان کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ انھوں نے توشہ خانہ کے تحائف کا باقاعدہ کاروبار کیا اور اس کیلئے انھوں نے فرخ گوگی جیسے ایجنٹ بھی ہائیر کر رکھے تھے۔ تاہم وفاقی حکومت کے توشہ خانہ کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے سے تحائف حاصل کرنے والے کئی گوشہ نشینوں کے چہرے بھی سامنے آئے ہیں۔توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔ کم مالیت کے بیشتر تحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق بغیر ادائیگی کے ہی اپنے پاس رکھ لیے۔
توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ اپلوڈ کیا گیا،توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور،سابق وزرااعظم،وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں،سابق صدر مملکت صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے نام شامل ہیں، اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر اعظم عمران خان کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈکیا گیاہے،ویب سائٹ پرموجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر عارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا۔
اپلوڈ کئے گئے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان نے ایک عددڈائمنڈگولڈگھڑی مالیت ساڑھے8 کروڑ روپے ، کف لنکس مالیت56لاکھ70 ہزار، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ،ایک عددانگوٹھی مالیت87 لاکھ 5 ہزار ہے ،تمام چیزیں 2 کروڑایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں،اس کے علاوہ عود کی لکڑی کا بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کی گئیں،ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی،سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے، ایک اور لیڈیزرولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار، دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزار، ایک پرس مالیت 6ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے ، صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے اداکرکے حاصل کئے گئے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی توشہ خانہ سے قیمتی تحائف حاصل کئے، جن کی ترتیب درج ذیل ہے، صدر علوی نے ایک تسبیح مالیت5 لاکھ 76 ہزار 500 ،ایک عدد پین مالیت1 لاکھ 30ہزار،کلف لنکس مالیت 2 لاکھ 12 ہزار450 روپے، ایک عدد گھڑی مالیت ایک کروڑ75 لاکھ روپے،ایک عدد انگوٹھی3 لاکھ 27 ہزار،عود لکڑی کی دو پکٹس(pickets )مالیت 3 لاکھ، دو عدد پرفیوم مالیت 1 لاکھ 75 ہزار روپے کوئی رقم دیئے بغیر رکھ لئے۔صدر مملکت نے ایک سلور کی کیٹل مالیت سوا لاکھ روپے، ایک عدد شیلڈجس کی مالیت معلوم نہیں،47 ہزار 500 روپے ادا کرکے حاصل کیں۔
مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے مرسیڈیز بینزکارمالیت 42 لاکھ 55 ہزار919روپے تھی جو صرف6 لاکھ 36ہزار888 روپے اداکرکے حاصل کی گئی،اس کے علاوہ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 11 لاکھ 85 ہزار،ایک عدد کلف لنکس مالیت 25 ہزار، 4 یادگاری سکے مالیت 15ہزار روپے تھی جو 2 لاکھ 43 ہزار روپے کے عوض حاصل کی گئیں،سابق وزیراعظم نوا زشریف نے ایک عدد گھڑی مالیت ساڑھے 7 لاکھ روپے تھی جو 1 لاکھ 48ہزار روپے میں خریدی،قائد ن لیگ نے ایک عدد گھڑی مالیت 10 لاکھ 5 ہزار روپے ،دوپرفیومز پر مشتمل بکس مالیت 1 لاکھ 60 ہزار روپے تھی صرف2 لاکھ 40 ہزار روپے میں حاصل کئے گئے۔دستاویزات کے مطابق کلثوم نواز کو 13 جنوری 2016 کو ملنے والے ساڑھے 5 کروڑ روپے مالیت کے بریسلٹ، ہار، ایئر رنگس محض ایک کروڑ 8 لاکھ 63 ہزار روپے ادا کر کے حاصل کیے گئے۔
2004 میں سابق صدر پرویز مشرف کو 65 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تحائف ملے۔پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اور جیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔
2018 میں فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، گھڑی کی 3 لاکھ 74 ہزار روپے قیمت توشہ خانہ میں جمع کروا دی گئی،2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر وسیم کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی ، جو 3 لاکھ 94ہزار روپے میں حاصل کی گئی۔
