ساؤتھ ایئر کی انٹری: نئی پاکستانی فضائی کمپنی کی سروسز میں خاص کیا ہے؟

پاکستان میں فضائی سفر کا شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں ساؤتھ ایئر نے اے ٹی آر طیاروں کے ساتھ اپنی باقاعدہ پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی ایئر لائن کا مقصد صرف ایک اور فضائی کمپنی کا اضافہ نہیں بلکہ ان شہروں کو فضائی نیٹ ورک سے جوڑنا ہے جو برسوں سے محدود یا ناکافی فضائی سہولتوں کا شکار تھے۔ چھوٹے رن ویز پر اترنے کی صلاحیت رکھنے والے طیاروں، علاقائی روابط کے فروغ، سیاحت کی ترقی اور اندرونِ ملک سفر کو آسان بنانے کے دعووں کے ساتھ ساؤتھ ایئر نے پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ملک کو واقعی ایک نئی ایئر لائن کی ضرورت تھی یا نہیں، اور کیا یہ منصوبہ فضائی سفر کے فروغ اور علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے گا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں فضائی سفر کے شعبے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ساؤتھ ایئر نے اپنی باقاعدہ اندرونِ ملک پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی سے تربت، کوئٹہ، بہاولپور اور اسلام آباد کے لیے افتتاحی پروازوں کے ساتھ ایئر لائن نے اپنے آپریشن کا آغاز کیا، جبکہ مستقبل میں پشاور، گوادر، سکھر، رحیم یار خان، فیصل آباد، چترال، گلگت، سکردو، پنجگور، ڈی جی خان اور دیگر شہروں تک پروازیں چلانے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
ساؤتھ ایئر نے اپنے فضائی آپریشن کا آغاز دو اے ٹی آر (ATR) طیاروں سے کیا ہے، جو نسبتاً چھوٹے رن ویز پر بھی لینڈ کر سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت اس ایئر لائن کو دیگر فضائی کمپنیوں سے مختلف بناتی ہے کیونکہ پاکستان کے متعدد چھوٹے ایئرپورٹس پر بڑے مسافر بردار طیاروں کی آپریشنل صلاحیت محدود ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان طیاروں کے ذریعے ایسے علاقوں کو فضائی سہولت فراہم کی جائے گی جہاں برسوں سے پروازوں کی کمی رہی ہے۔
خیال رہے کہ یہ ایئر لائن ایس او ایس (Security Organizing System) گروپ کی ملکیت ہے، جو سکیورٹی، ٹیکنالوجی، فارما اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں کام کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق چونکہ اس گروپ کا آغاز جنوبی پنجاب سے ہوا تھا، اسی نسبت سے ایئر لائن کا نام ساؤتھ ایئر رکھا گیا۔ کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کی چیف ایگزیکٹو نشاط فاطمہ پاکستان کی کسی بھی ایئر لائن کی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو ہیں۔
واضح رہے کہ ساؤتھ ایئر روایتی مسافر ایئر لائن کے بجائے ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل انٹیگریشن (TPRI) لائسنس کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس نظام کے تحت حکومت کی جانب سے لینڈنگ چارجز اور بعض دیگر فیسوں میں رعایت دی جاتی ہے تاکہ چھوٹے شہروں کے درمیان فضائی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس رعایتی نظام سے کم ترقی یافتہ علاقوں میں فضائی سفر کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
ایئر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 25 کروڑ آبادی کے باوجود اندرونِ ملک فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد محدود ہے، جبکہ اس وقت مجموعی طور پر صرف تقریباً 40 مسافر بردار طیارے اندرونِ ملک پروازیں چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ نئی ایئر لائن کے لیے گنجائش موجود ہے، خصوصاً ایسے روٹس پر جہاں مسافروں کو مناسب فضائی سہولت دستیاب نہیں۔
ہوابازی کے ماہرین بھی اس حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق پاکستان میں 19 سے 70 نشستوں والے چھوٹے طیاروں کی شدید ضرورت ہے کیونکہ ملک کے متعدد ایئرپورٹس پر یا تو پروازیں نہیں جاتیں یا انتہائی محدود تعداد میں جاتی ہیں۔ ان کے نزدیک اگر علاقائی روٹس پر باقاعدہ پروازیں شروع ہوں تو نہ صرف مقامی معیشت بلکہ سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین اس منصوبے کو چیلنج قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں فضائی سفر بنیادی طور پر اعلیٰ اور بالائی متوسط طبقے تک محدود ہو چکا ہے، جبکہ معاشی دباؤ کے باعث مسافروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ فوری طور پر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے شہروں کے روٹس پر منافع حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے نئی ایئر لائن کو سخت کاروباری مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پاکستان میں ایوی ایشن سیکٹر کو بعض ریگولیٹری رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں پرانے مگر قابلِ استعمال طیاروں کی درآمد پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان قوانین میں مناسب اصلاحات کی جائیں تو نہ صرف نئی ایئر لائنز کے لیے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ فضائی سفر نسبتاً سستا اور زیادہ قابلِ رسائی بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول ساؤتھ ایئر کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی قومی فضائی صنعت نجکاری اور نئی سرمایہ کاری کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئی ایئر لائن کو صرف ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ علاقائی فضائی رابطوں، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور دور دراز علاقوں کی ترقی کے ایک ممکنہ ذریعہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار مسافروں کے اعتماد، معاشی حالات، حکومتی پالیسیوں اور کمپنی کی آپریشنل کارکردگی پر ہوگا۔
