غیر قانونی مقیم افغانوں کی ملک بدری سے پاکستانی تاجر پریشان کیوں؟

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی کے لیے دی گئی 10 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور میں پولیس کارروائیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث ایک طرف ہزاروں افغان شہری طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس جا رہے ہیں، تو دوسری جانب پشاور کے بورڈ بازار سمیت مختلف کاروباری مراکز میں خوف، غیر یقینی صورتحال اور معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس جانے کے لیے دی گئی 10 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد حکومت نے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور کے مختلف علاقوں میں پولیس چھاپوں، گرفتاریوں اور بے دخلی کے عمل میں شدت آنے سے افغان باشندوں اور ان سے وابستہ کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے 2023 میں ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، بالخصوص افغان شہریوں، کی مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے رواں برس 10 جولائی تک رضاکارانہ واپسی کی مہلت دی تھی، تاہم اس مدت کے اختتام کے بعد اب ان افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے جو قانونی دستاویزات یا ویزا کے بغیر پاکستان میں مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں تقریباً دو لاکھ افراد کو بے دخل کیا گیا جبکہ باقی رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے۔ حکام کے مطابق حالیہ ڈیڈ لائن کے بعد وطن واپسی کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

سرحدی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق 11 سے 16 جولائی کے درمیان صرف طورخم بارڈر کے راستے 23 ہزار 336 افغان شہری افغانستان واپس گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل روزانہ تقریباً 400 سے 600 افراد سرحد عبور کر رہے تھے، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 3400 سے 4100 افراد یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب محکمہ داخلہ کے مطابق مختلف اضلاع میں پولیس کارروائیوں کے دوران 2163 افغان شہریوں کو حراست میں لے کر افغانستان واپس بھیجا گیا، جبکہ صرف ضلع پشاور میں پانچ روز کے دوران 600 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے طورخم کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا۔

پشاور کے حیات آباد، بورڈ بازار، ناصر باغ روڈ، ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں جہاں افغان باشندوں کی بڑی تعداد آباد ہے، پولیس روزانہ مختلف اوقات میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث متعدد افغان دکاندار اور مزدور گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی دکانیں بند کر دیتے ہیں، جبکہ کئی افراد گھروں تک محدود ہو چکے ہیں۔

پشاور کے معروف بورڈ بازار، جسے "چھوٹا کابل” بھی کہا جاتا ہے، میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد دکانیں بند ہیں، جبکہ کئی تاجر پولیس کارروائیوں کے خوف سے مارکیٹ آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ پولیس کے جاتے ہی وہ مختصر وقت کے لیے اپنی دکانیں کھولتے ہیں اور پھر دوبارہ بند کر دیتے ہیں۔

متاثرہ افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے انہیں شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ کئی افراد قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کے لیے نہ صرف کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے بلکہ افغانستان واپسی کے اخراجات برداشت کرنا بھی آسان نہیں۔ بعض خاندانوں کو خدشہ ہے کہ اگر گھر کے کفیل گرفتار ہو گئے تو بچوں کا مستقبل مزید غیر یقینی ہو جائے گا۔

ایسے افغان باشندے بھی موجود ہیں جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی اور انہوں نے پوری زندگی یہیں گزاری۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ماحول سے واقف ہیں جبکہ افغانستان میں ان کے لیے زندگی کا آغاز ایک نئی آزمائش ہوگا۔ بعض افراد نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) یا عدالتوں سے رجوع بھی کر رکھا ہے تاکہ قانونی تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق ایسے افغان شہری جنہوں نے پاکستانی شہریوں سے شادیاں کر رکھی ہیں، یا جنہیں افغانستان واپسی پر جان کا خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ ہے، انہوں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اب تک تقریباً 140 افراد مختلف قانونی بنیادوں پر عدالت میں درخواستیں دائر کر چکے ہیں، جن میں سابق افغان سرکاری اہلکار، امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افراد، ججز، صحافی، فنکار اور موسیقی سے وابستہ شخصیات بھی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی اولین ترجیح افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی ہے، تاہم مہلت ختم ہونے کے بعد قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ہر فرد کے دستاویزات کی جانچ کی جاتی ہے اور صرف ان افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام کے قانونی کاغذات موجود نہیں ہوتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے جہاں سکیورٹی اور امیگریشن پالیسی پر حکومتی موقف مزید مضبوط ہوگا، وہیں پشاور اور سرحدی علاقوں میں افغان تاجروں اور مزدوروں سے وابستہ مقامی کاروبار بھی مختصر مدت میں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان علاقوں کی معیشت کئی برسوں سے افغان تجارت اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔

Back to top button