کویت پاکستان کے ساتھ سعودی عرب جیسے دفاعی معاہدے کا خواہشمند کیوں؟

ایران امریکہ بڑھتی کیشیدگی کے دوران سعودی عرب کے بعد اب کویت نے بھی پاکستان کے ساتھ جامع دفاعی معاہدے کے حوالے سے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم مذاکرات جاری ہیں، جن میں توانائی کے شعبے میں تعاون، سرمایہ کاری، دفاعی خریداری اور سکیورٹی شراکت داری جیسے معاملات زیر غور ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم دونوں ممالک ایک ایسے فریم ورک پر غور کر رہے ہیں جو دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی توانائی ضروریات اور خلیجی خطے میں سٹریٹیجک تعاون کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدہ صوررتحال کے باعث یہ معاہدہ پاکستان کیلئے ایک بڑا سیکیورٹی رسک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان ایک توسیع شدہ دفاعی معاہدے پر ابتدائی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی، سرمایہ کاری اور سکیورٹی کے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے فوجی شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور کویت کی وزارت اطلاعات نے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ان مذاکرات کی رفتار اور نوعیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث خلیجی ممالک اپنے دفاعی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کویت پاکستان کے ساتھ موجود محدود دفاعی تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2023 سے تربیت اور مشترکہ فوجی مشقوں پر مبنی ایک دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے، تاہم اب کویت زیادہ جامع تعاون کا خواہاں ہے، جس میں دفاعی خریداری، جدید عسکری صلاحیتوں کا تبادلہ اور دیگر دفاعی سہولیات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار کے مطابق کویت ایسی دفاعی شراکت داری پر غور کر رہا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے موجودہ دفاعی تعاون سے مماثلت رکھتی ہو۔ تاہم پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جنگی دستوں کی تعیناتی یا براہِ راست فوجی شرکت زیر غور نہیں، بلکہ مذاکرات کا دائرہ دفاعی تعاون اور باہمی مفادات تک محدود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی خواہش ہے کہ کویت پاکستان میں ایندھن کے ذخائر بڑھانے، توانائی کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کردار ادا کرے۔ اسی سلسلے میں حکومت سے حکومت کی سطح پر پہلے سے موجود ڈیزل سپلائی معاہدے کو مزید وسعت دینے اور پاکستان میں بانڈڈ ایندھن ذخیرہ گاہ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ایسی پیش رفت پاکستان کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک طویل عرصے سے تیل کے محدود ذخائر، درآمدی انحصار اور توانائی کے تحفظ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر کویت اس شعبے میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو پاکستان کی توانائی حکمت عملی کو تقویت مل سکتی ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بھی ان مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد یہ خدشات سامنے آئے تھے کہ ایسے معاہدے پاکستان کو خطے کے ممکنہ تنازعات میں مزید حساس پوزیشن میں لا سکتے ہیں۔ اسی لیے تجزیہ کار پاکستان کو متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھنے اور علاقائی تنازعات میں حد سے زیادہ وابستگی سے گریز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور جغرافیائی اہمیت کو معاشی اور توانائی مفادات کے حصول کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو سرمایہ کاری، توانائی اور معاشی شراکت داری سے جوڑنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی عسکری صلاحیت بھی خطے میں نمایاں سمجھی جاتی ہے۔ فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان ایشیا کی بڑی افواج میں شامل ہے، جبکہ بری، فضائی اور بحری افواج کے ساتھ جدید میزائل نظام اور جوہری صلاحیت بھی اس کی دفاعی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔ یہی عوامل خلیجی ممالک کے لیے پاکستان کو ایک اہم دفاعی شراکت دار بناتے ہیں۔ مبصرین کے بقول اگرچہ پاکستان اور کویت کے درمیان جاری مذاکرات کے حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور توانائی تعاون پر پیش رفت مزید تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی معاہدے کی حتمی نوعیت کا انحصار علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دونوں ممالک کے باہمی مفادات پر ہوگا۔
