سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی اہل نہیں، جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

مخصوص نشستوں کے کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنا تحریری اختلافی نوٹ جاری کردیا جس میں لکھا ہے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی اہل نہیں کیونکہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں لینے کی اہل نہیں۔تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے۔تحریک انصاف مخصوص نشستوں کیلئے اہل جماعت ہے۔الیکشن کمیشن فریقین کو سن کر سات روز میں فیصلہ کرے۔مخصوص نشستوں کیلئے پہلا کام ہی ارکان کی فہرست جمع کرانا ہے،مقررہ وقت کے بعد جمع کرائی گئی فہرست میں ترمیم نہیں کی جا سکتی،فہرست میں نامزد ارکان الیکشن کمیشن کو کاغذات جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔انتخابات کے بعد متناسب نمائندگی کے تحت ہی سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ مخصوص نشستوں کی غیر متناسب نمائندگی کے اصول پر تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مخصوص نشستوں کیلئے اہلیت اسی سیاسی جماعت کی ہے جس نے کم از کم ایک سیٹ جیتی ہو۔الیکشن کمیشن نے کسی امیدوار کو پی ٹی آئی کا نامزد کردہ ظاہر نہیں کرنے دیا۔پی ٹی آئی نے امیدوار نامزد نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا۔پی ٹی آئی کی فریق بننے کی درخواست میں کوئی مخصوص استدعا ہی نہیں کی گئی تھی۔پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے حصول کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔گوہر علی خان، عمر ایوب اور شہزادہ گستاسب نے خود کو پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا تھا۔تینوں امیدواروں نے خود کو آزاد قرار بھی نہیں دیا تھا۔الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ پارٹی امیدوار کو آزاد قرار دے سکے۔
عمران خان اوربشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ2کیس کاچالان آگیا
اختلافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کے نوٹیفیکیشن کا دوبارہ جائزہ لے۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے آئینی تقاضوں پر پورا نہیں اترتی۔تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے۔تحریک انصاف مخصوص نشستوں کیلئے اہل جماعت ہے۔
